
اپوزیشن جماعتوں کی رہبر کمیٹی کے اجلاس کی اندرونی کہانی سامنے آگئی۔
جمعیت علمائے اسلام (ف) کے اکرم خان درانی کی سربراہی میں اپوزیشن کی 9جماعتوں کے 11ممبران نے اجلاس میں شرکت کی۔
ذرائع کے مطابق رہبر کمیٹی کے پہلے ہی اجلاس میں اکثر ارکان کو حیرانی ہوئی کہ پیپلز پارٹی نے سابق وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کی جگہ فرحت اللہ بابر کو کیوں رکن بنا دیا ہے۔
تمام ارکان سے حلف بھی لیا گیا کہ اندر کی بات باہر نہ نکلے اور پھر ان کے موبائل فونز لے کر کمرے سے باہر بھجوا دیے گئے۔
ذرائع کے مطابق چیئرمین سینیٹ کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک پر اپوزیشن کے تمام 67ممبران کے دستخط کرانے کا فیصلہ کیا گیا۔
اجلاس میں جماعت اسلامی کے تحفظات دور کرکے اپنے ساتھ شامل کرنے،میثاق جمہوریت کا دائرہ دیگر سیاسی جماعتوں تک بڑھانے اور وفاقی حکومت کے خلاف صوبائی کوآرڈینیشن کمیٹی کے قیام کی منظوری دے دی گئی۔
ذرائع کے مطابق اجلاس میں طے پایا کہ اپوزیشن کے ساتھ ساتھ حکومتی اتحاد میں شامل جماعتوں کو بھی میثاق جمہوریت میں شمولیت کی دعوت دی جائے گی۔
اجلاس میں 25 جولائی کے احتجاج کو حتمی شکل دینے کی منظوری دی گئی،اس روز رہبر کمیٹی چاروں صوبائی دارالحکومت میں بڑے جلسے کرے گی۔
ذرائع کے مطابق 11 جولائی کی رہبر کمیٹی کے اجلاس میں اپوزیشن جماعتوں کے پارلیمانی لیڈران کو بھی بلانے کا فیصلہ گیا۔
مسلم لیگ ن لاہور، پیپلزپارٹی کراچی، پی کے میپ کوئٹہ اور جے یو آئی پشاور میں جلسہ کرے گی۔
تمام اپوزیشن جماعتیں ایک دوسرے کے جلسوں میں اپنے کارکنوں کو شرکت کی ہدایت بھی کریں گی۔
رہبرکمیٹی نے فیصلہ کیا کہ میثاق جمہوریت کا دائرہ دیگر تمام سیاسی جماعتوں تک بڑھایاجائےگا، تمام جماعتوں کی مشاورت سے میثاق جمہوریت کا نیا ضابطہ اخلاق بھی بنایا جائے گا۔
رہبر کمیٹی نے صوبائی کوآرڈی نیشن کمیٹیوں کی بھی منظوری دی، اپوزیشن کی 9جماعتوں کے صوبائی صدور اور جنرل سیکرٹیز کوآرڈینیشن کمیٹیوں کے رکن ہوں گے۔
کوآرڈی نیشن کمیٹیاں صوبوں میں مشاورت سے اپنے کنوینرز کا فیصلہ کریں گی۔




