ترکی: 2 سو سے زائد فوجیوں کے وارنٹ گرفتاری جاری

15 جولائی 2016 کو ترکی میں حکومت کا تختہ پلٹنے کے لیے بغاوت کی گئی تھی—فائل فوٹو: اے پی

ترک پراسیکیوٹر نے استنبول اور صوبہ ازمیر میں 2 سو فوجیوں کے وارنٹ گرفتاری جاری کردیے جن پر دہشت گرد تنظیم فتح اللہ گولن (فیٹو) سے روابط کا الزام ہے۔

ترک خبر رساں ادارے انا طولو نیوز کی رپورٹ کے مطابق فتح اللہ ٹیرراسٹ آرگنائزیشن (فیٹو) کی تنظیم کو 2016 میں انقرہ میں ہونے والی بغاوت کا ذمہ دار سمجھا جاتا ہے۔

استنبول پراسیکیوٹر کےمطابق استنبول میں جن 176 فوجیوں کے وارنٹ گرفتاری جاری کیے گئے ان میں حاضر سروس کرنل، لیفٹیننٹ، میجر اور کیپٹن کے عہدے کے فوجی بھی شامل ہیں جبکہ ازمیر میں 20 حاضر سروس اور 5 سابق فوجیوں کے ساتھ ساتھ 10 شہریوں کے بھی وارنٹ گرفتاری جاری کیے گئے۔

اس ضمن میں ذرائع نے شناخت پوشیدہ رکھنے شرط پر بتایا کہ فیٹو کے ترک آرمڈ فورس میں اثر رسوخ کی تحقیقات کے سلسلے میں مشتبہ افراد کو تلاش کیا جارہا ہے۔

ازمیر میں مشتبہ افراد پر فون کے ذریعے فیٹو کے ’اماموں‘ کے ساتھ فون پر رابطوں کا الزام عائد کیا گیا جبکہ 10 شہریوں کو فیٹو کی انکرپٹڈ میسجنگ ایپلکیشن استعمال کرنے کا ملزم ٹھہرایا گیا۔

خیال رہے کہ انقرہ نے فیٹو اور اس کے امریکا میں موجود سربراہ فتح اللہ گولن پر 15 جولائی 2016 کی ناکام بغاوت کی سازش رچنے کا الزام لگایا تھا جس میں 251 افراد ہلاک اور 2 ہزار 200 زخمی ہوگئے تھے جبکہ فتح اللہ گولن نے یہ الزام مسترد کردیے تھے۔

اس کے علاوہ انقرہ کی جانب سے فتح اللہ گولن پر ترک اداروں بالخصوص فوج، پولیس، عدلیہ میں مداخلت کر کے حکومت کو ختم کے کی طویل مہم چلانے کا بھی الزام لگایا جاتا ہے۔