بلاول بھٹو اور مولانا فضل الرحمان انتخابات میں تحریک انصاف کی شمولیت کے حامی

9 مئی کے ذمہ داران کا احتساب ہونا چاہیے، ہمارے سیاسی حریفوں کے ہاتھ بندھے ہوئے ہوں تو ہم ان سے نہیں لڑیں گے
ادر اک تھا سٹیبلشمنٹ کی قیادت اس جرم میں شریک تھی لیکن ہم نے افراد کے اختلاف کو نہیں بلکہ اداروں کے احترام کو دیکھا،مولانا فضل الرحمان


اسلام آباد:پاکستان تحریک انصاف کی دو مخالف ترین جماعتوں پاکستان پیپلز پارٹی اور جمعیت علمائے اسلام (ف) نے کہا ہے کہ وہ انتخابات میں پی ٹی آئی کی شمولیت کے حق میں ہیں تاہم نو مئی کے ذمہ داران کا احتساب ہونا چاہیے۔دونوں سیاسی جماعتوں نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) سمیت تمام اسٹیک ہولڈرز کے لیے برابری کے میدان کا مطالبہ کیا ہے، سوائے ان عناصر کے جو 9 مئی کو پارٹی چیئرمین عمران خان کی گرفتاری کے بعد ہونے والے فسادات میں ملوث تھے۔
پشاور میں کنونشن سے خطاب کے دوران سربراہ جمیعت علمائے اسلام (جے یو آئی-ف) مولانا فضل الرحمن نے عمران خان کا نام لیے بغیر کہا کہ یہ میرے لیے مناسب نہیں ہے کہ میں اپنے مخالف کے خلاف ایسے وقت میں تقاریرکروں جب وہ جیل کی سلاخوں کے پیچھے ہوں، اگر ہمارے سیاسی حریفوں کے ہاتھ بندھے ہوئے ہوں تو ہم ان سے نہیں لڑیں گے۔انہوں نے کہا کہ میں چاہتا ہوں کہ ملک کا ہر سیاستدان جیل سے باہر ہو لیکن اگر قانون کے گھیرے میں آیا ہے تو قانون تو قانون ہوتا ہے تو اس سے نہ میں مستثنی ہوں، نہ آپ مستثنی ہیں۔
انہوں نے کہا پوری انتظامی مشینری زوال کا شکار ہے، اسٹیبلشمنٹ اور بیوروکریسی بھی اپنا اعتماد کھو رہی ہے۔ آج ملک اور قوم کو اعتماد میں لینے کی ضرورت ہے، اسی مقصد کے لیے ہم نے آگے بڑھنا ہے، انتخابات جب آئیں لیکن یہ جو الیکشن کمیشن نے کہا ہے کہ جنوری کے آخر میں الیکشن ہوں گے تو اس وقت آدھے پاکستان میں برف ہو گی، یہ زمینی حقیقت ہے، کیا ہم اپنے ملک کے موسم کو نہیں جانتے۔
دوسری جانب پیپلزپارٹی کی جانب سے جاری ایک ہینڈ آٹ میں چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ انتخابات سے قبل پی ٹی آئی کے ساتھ بات چیت ممکن ہے لیکن پہلے 9 مئی کو ہونے والے فسادات کے ذمہ داروں کا احتساب ضروری ہے، ان خیالات کا اظہار انہوں نے جیکب آباد کے دورے کے موقع پر کیا۔بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ پیپلزپارٹی وقت پر انتخابات چاہتی ہے تاکہ وہ عوام کی خدمت کر سکے، انتخابات ہی عوام کو درپیش مسائل کا حل ہیں۔
مولانا فضل الرحمن کے بارے میں بات کرتے ہوئے بلاول بھٹو نے کہا کہ انہیں مولانا فضل الرحمن جیسے سیاستدان سے انتخابات میں تاخیر سے متعلق بیان کی توقع نہیں تھی۔انہوں نے انتخابات سے قبل لیول پلیئنگ فیلڈ کا مطالبہ دہراتے ہوئے کہا کہ الیکشن کمیشن کو تمام تر توجہ واحد سیاسی جماعت پر دینے کے بجائے قوم کے مفادات کو ترجیح دینی چاہیے۔
انہوں نے دعوی کیا کہ سندھ میں ترقیاتی منصوبے ضد کی وجہ سے رکے ہوئے ہیں، انہوں نے اعلان کیا کہ میں الیکشن جیت رہا ہوں اور میں آکر ان ترقیاتی منصوبوں کو آگے بڑھائوں گا۔
جمعیت علمائے اسلام(ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمن پشاور میں کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ میں الیکشن ملتوی نہیں کررہا بلکہ غلط فیصلوں کی نشاندہی کررہا ہوں، میں چاہتا ہوں کہ ملک کا ہر سیاستدان جیل سے باہر ہو لیکن اگر قانون کے گھیرے میں آیا ہے تو قانون تو قانون ہوتا ہے تو اس سے نہ میں مستثنی ہوں، نہ آپ مستثنی ہیں۔
مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ پاکستان اس وقت داخلی مشکلات کے ساتھ ساتھ بیرونی خطرات سے بھی دوچار ہے، من حیث القوم ہمیں اپنے وطن کے لیے سوچنا پڑے گا، معاملات وقت کے ساتھ ساتھ گمبھیر ہوتے جا رہے ہیں اور یہ قومی مسئلہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہم نے اگر 10 سے 12سال پہلے نشاندہی کی تو یہ کسی کے ساتھ ہماری ذاتی جنگ نہیں دی تھی، ہم نے کسی کو گالی نہیں دی، اگر ہماری نظر میں ایک ایسا عنصر ہماری سیاست میں داخل ہوا جس نے دنیا ئے یہودیت سے ہدایات لیں تو اس کو طشت ازبام کرنا ہماری تاریخ کا حصہ ہے، یہ ہم نے پہلے بھی کیا ہے اور آئندہ بھی کریں گے، ہم نے اس کو گرایا ہے اور ہم نے اسرائیلی کے ایجنڈے، مغرب کے ایجنڈے اور امریکی ایجنڈے کو بھی شکست دی ہے اور پاکستان میں ان کے وفادار اور ان کے ایجنٹوں کو بھی شکست دی۔
ان کا کہنا تھا کہ ٹرمپ کے حامیوں نے ہل پارک (کیپیٹل ہل) پر حملہ کیا تو تمام لوگوں کو جیلیں ہوئیں، بعض کو پھانسی کی بھی سزا دی گئی تو اگر امریکا کے لیے اپنا ریاستی مرکز اتنا تقدس رکھتا ہے تو پاکستان کے بھی ریاستی ادارے ہیں۔
جمعیت علمائے اسلام(ف) کے سربراہ نے کہا کہ اختلاف تو ہم نے بھی کیے، ہم سے بڑے جلسے کس نے کیے ہیں، ہم سے بڑے ملین مارچ کس نے کیے ہیں، کیا ہمیں پتا نہیں تھا کہ ہماری اسٹیبلشمنٹ کی قیادت اس جرم میں شریک تھی، ہمیں پورا ادراک تھا لیکن ہم نے افراد کے اختلاف کو نہیں دیکھا بلکہ اداروں کے احترام کو دیکھا، اپنی حدود کو سمجھنا چاہیے، ہم اپنی حدود کو بھی سمجھتے ہیں اور قانون کی حدود کو بھی سمجھتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ہم زبوں حالی کا شکار ہوتے جا رہے ہیں، جہاں دنیا میں معیشت کمزور ہو جائے وہاں قومی وحدت بھی کمزور ہوجاتی ہے، وہاں وطن اور ملک کے ساتھ کمٹمنٹ کمزور ہو جاتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہماری صحافی برادری مجھ ہر تبصرے کرتی ہے کہ میں الیکشن ملتوی کروانا چاہتا ہوں لیکن الیکشن ملتوی نہیں کررہا بلکہ ان کے غلط فیصلوں کی نشاندہی کررہا ہوںجو ہمیں الیکشن سے ڈراتا ہے وہ اس صوبے کے بلدیاتی الیکشن کے نتائج دیکھ لے۔
مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ پتا نہیں نگران حکومت کی ضرورت کیا ہے، دنیا میں تو کہیں ایسا نہیں ہے، جس کے ہاتھ میں کچھ بھی نہیں اور میں پاکستان کی تمام جماعتوں کو سنجیدگی کی طرف آنے کی دعوت دیتا ہوں کہ اس وطن عزیز کو بچانے کے لیے سوچیں، اگر کوئی میری آواز پر لبیک کہتا ہے تو میں اکیلے ہی آگے بڑھوں گا۔انہوں نے کہا کہ آج ملک اور قوم کو اعتماد میں لینے کی ضرورت ہے، اسی مقصد کے لیے ہم نے آگے بڑھنا ہے۔