سی پیک سے متعلق دستاویزات آئی ایم ایف سے شئیر کرنے کا معاملہ سینٹ کی خصوصی کمیٹی برائے سی پیک میں پہنچ گیا

اسلام آباد: حکومت کی جانب سے سی پیک سے متعلق دستاویزات آئی ایم ایف سے شئیر کرنے کا معاملہ سینٹ کی خصوصی کمیٹی برائے سی پیک میں پہنچ گیا۔جمعرات کو سینیٹ کی خصوصی کمیٹی برائے سی پیک کا اجلاس سینیٹر شیری رحمان کی صدارت میں ہوا، جس میں سیکرٹری منصوبہ بندی وترقی نے کمیٹی کو بتایا کہ وزارت خزانہ نے سی پیک سے متعلق کو ئی دستاویز آئی ایم ایف کو فراہم نہیں کی چیئرپرسن کمیٹی شیری رحمان نے کہا کہ یہ سوال اٹھتا ہے آئی ایم ایف نے کہا ہے کہ یہ دستاویزات شیئر کی گئی ہیں چینی سفارت خانے نے بھی کہا کہ دستاویزات شیئر کی گئیں ہیں،شیری رحمان نے کہا کہ شور مچا ہوا ہے کہ کنٹریکٹس میں شفافیت نہیں ہے،ہم چاہتے ہیں کہ کنٹریکٹس میں شفافیت ہو۔ وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی و ترقی خسرو بختیار نے بتایا کہ سی پیک کی وجہ سے 70 ہزار ملازمتوں کے مواقع پیدا ہوئے ہیں ،سی پیک کی وجہ سے انرجی کی ضروریات پوری ہوئیں، گوادر ماسٹر پلان حتمی مراحل میں ہے، اگست کے آخر میں اس کا اعلان کر دیا جائے گا۔اجلاس کے دوران نیشنل ووکیشنل اینڈ ٹیکنیکل ٹریننگ کمیشن حکام نے کمیٹی کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایاکہ ملک بھر سے 28ہزار890نوجوانوں کو سی پیک سے متعلق ٹریننگ دی گئی ہے۔سینیٹر کہدا بابر نے کہا کہ گلگت اور گوادر کے لوگ آج تک سمجھ نہیں پائے کہ سی پیک ہمارے لیئے کس طرح سے ہے، کہدا بابر نے کہا کہ سمارٹ پورٹ سٹی کے پیسے پانچ سال سے پڑے ہیں،گوادر شہر کو سب سے پہلے ڈویلپ کیا جانا چاہیئے تھا،وزارت منصوبہ بندی و ترقی حکام نے بتایا کہ حطار میں سی پیک کا کوئی زون نہیں بن رہا ، خیبر پختونخوا میں رشکئی کے علاوہ کوئی زون نہیں ہے،سینیٹر محمد اکرم نے کہا کہ حکومتی پالیسیوں میں تبدیلیاں ہوتی ہیں ایک واضح پالیسی نہیں دی جارہی،گوادر میں انرجی نہیں،وہاں کون سی صنعت لگائیں گے؟ ہم سی پیک سی پیک تو کرتے ہیں لیکن عملاً کوئی کام نہیں ہو رہا، وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی و ترقی خسرو بختیار نے کہا کہ ہم نے سی پیک کے مغربی روٹ کو بھی ساتھ لے کر چلنا ہے،سکھرسے حیدرآباد کا منصوبہ بی او ٹی کی بنیاد پر کر رہے ہیں، ایم ایل ون پر کام کر رہے ہیں، ہم سی پیک کو فاسٹ ٹریک کرنا چاہتے ہیں، اجلاس کے دوران چیئرمین بورڈ آف انویسٹمنٹ کی عدم موجودگی پر چیئرپرسن کمیٹی نے شدید برہمی کا اظہار کیا اوربورڈ آف انویسٹمنٹ حکام سے بریفنگ لینے سے انکار کر دیا، سینیٹر شیری رحمان نے کہا کہ چیئرمین بورڈ آف انویسٹمنٹ کو نوٹس جاری کیا جائے وہ کمیٹی سے تحریری طور پر معذرت کریں، اگر یہ معاملہ استحقاق کمیٹی میں چلا گیا تو ان کی نوکری جاسکتی ہے ۔