
عالمی شہرت یافتہ امریکی موسیقار مائلی سائرس نے ہم جنس پرستی کے باعث شوہر سے علیحدگی کے الزام کو مسترد کردیا۔
گلوکارہ نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر ٹویٹس کی سیریز جاری کرتے ہوئے خود کو بےقصور ظاہر کیا۔
مائلی کا اپنی ٹویٹ میں کہنا تھا کہ ‘میں یہ بات قبول کرتی ہوں کہ جو زندگی جینے کا انتخاب میں نے کیا ہے وہ ایسی ہے کہ مجھے اپنے مداحوں کے سامنے بالکل کھل کر زندگی گزارنی پڑے گی جس میں کچھ بھی خفیہ نہ ہو، لیکن میں یہ بالکل قبول نہیں کروں گی کہ مجھ پر ایک ایسے جرم کا الزام لگایا جارہا ہو جو میں نے کیا بھی نہیں، میرے پاس جھپانے کو کچھ نہیں ہے’۔
انہوں نے مزید لکھا کہ ‘یہ بات کسی سے جھپی ہوئی نہیں کہ کم عمری میں منشیات کی عادی تھی’۔
گلوکارہ کے مطابق ‘میں نے اُن دنوں محبت کے تعلقات میں دھوکا بھی دیا، انٹرنیٹ پر جتنی برہنا تصاویر میری موجود ہیں، شاید ہی تاریخ میں کسی خاتون کی اتنی تصاویر موجود ہوں گی’۔
‘لیکن اس وقت مجھے اپنے لیے ایک بہتر فیصلہ کرنا ہے، میں بہت بری ہوں لیکن جھوٹی نہیں، اب مجھے اپنا ماضی پیچھے ہی چھوڑنا ہے’۔
‘میں فخر سے یہ کہہ سکتی ہوں کہ میں کم عمری میں جس جگہ موجود تھی آج اس سے بالکل الگ مقام پر کھڑی ہوں’۔
مائلی سائرس کے مینجر نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے اس خبر کی تصدیق کی تھی تو دوسری جانب لیام نے انسٹاگرام پر خود ایک پوسٹ کے ذریعے اعلان کیا تھا کہ وہ اب مائلی کے ساتھ نہیں۔
ان دونوں کی علیحدگی کی خبر سامنے آتے ہی سوشل میڈیا پر گلوکارہ کے ہم جنس پرست رجحانات کو اس شادی کے ختم ہونے کی وجہ قرار دیا گیا۔
ایسی رپورٹس سامنے آئیں تھی کہ ان دونوں کے درمیان علیحدگی کی وجہ مائلی سائرس کا شادی شدہ ہونے کے باوجود کسی اور سے تعلقات جبکہ لیام ہیمس ورتھ کا منشیات کا استعمال ہے۔
جبکہ بعدازاں اداکار کے قریبی ذرائع نے میڈیا کو بتایا کہ ان دونوں کے درمیان علیحدگی کی وجہ مائلی کا امریکی بلاگر کیتھلن کارٹر کے ساتھ افیئر ہے، جن کے ساتھ چند روز قبل مائلی کی ایک تصویر بھی خوب وائرل ہوئی۔
خیال رہے کہ 26 سالہ مائلی سائرس نے دسمبر 2018 میں ہولی وڈ اداکار لیام ہیمس ورتھ سے [خفیہ شادی کی تھی]9 تاہم صرف 8 ماہ بعد ہی ان دونوں نے علیحدگی کا اعلان کردیا۔



