چین پاکستان فری ٹریڈ ایگریمنٹ نے تجارت کا حجم 15.6 بلین امریکی ڈالر تک پہنچادیا۔

Image result for pak chain trade aggriment pic
اسلام آباد:چین پاکستان فری ٹریڈ ایگریمنٹ اسلام آباد اور بیجنگ کے درمیان دو طرفہ معاشی تعاون میں ایک سنگ میل کی حیثیت اختیار کر چکا ہے اور چند سالوں میں دو طرفہ تجارت کا حجم 15.6 بلین امریکی ڈالر تک پہنچ گیاہے،چائنہ اکنامک نیٹ نے سرکاری ذرائع کے حوالے سے کہا ہے کہ چین پاکستان فری ٹریڈ ایگریمنٹ کے پہلے مرحلے میں پاکستان کی چائنہ کیلئے برآمدات1.85 بلین ڈالرتک بڑھ گئی ہیں جو کہ اس سے پہلے 575 ملین ڈالر تھیں اور دو طرفہ تجارتی حجم4 بلین امریکی ڈالر سے بڑھ کر15.6بلین امریکی ڈالر ہو گیا ہے۔، واضح رہے کہ چین اور پاکستان کے درمیان فری ٹریڈ ایگریمنٹ 2006 میں ہوا تھا اور 2007 سے قابل عمل ہے،پاکستان پہلا جنوبی ایشیائی ملک ہے جس کے ساتھ چین نے فری ٹریڈ ایگریمنٹ کیا ہے،سرکاری اعداد وشمار کے مطابق اس معاہدے کی وجہ سے دو طرفہ معاشی تعاون اور تجارتی تعلقات مزید بہتر ہوئے ہیں اور چین پاکستان کا ایک بڑا شراکت دار اُبھر کر سامنے آیا ہے، پاکستان اور چین کے درمیان تجارت میں پاکستانی بزنس کمیونٹی کی طرف سے ٹریڈ ڈیبیسٹ کے حوالے سے تشویش پائی جاتی تھی تاہم یہ بات قابل ذکر ہے کہ تجارت میں عدم توازن کی وجہ دونوں ممالک کے صنعتی شعبے میں سٹرکچل مسائل ہیں کیونکہ چین برآمدات کیلئے ایک وسیع و عریض نظام رکھتا ہے جب کہ ان کی درآمدات کم ہے، چائنہ 120 ممالک میں تجارت کر رہا ہے اور انہوں نے کبھی بھی ٹریڈ سرپلس کی پالیسی اختیار نہیں کی،پاکستانی بزنس کمیونٹی کی تشویش ختم کرنے کیلئے چین نے کئی اقدام کئے ہیں تاکہ چین پاکستان تجارتی تعلقات میں توازن قائم کیاجا سکے۔چین پاکستان کو اپنے مارکیٹ میں 90فیصد تک رسائی دے گا جبکہ پاکستان چین کو67فیصد رسائی دے گا،چین پاکستان فری ٹریڈ ایگریمنٹ کے دوسرے مرحلے میں چین پاکستان کے تمام تحفظات کو دور کرے گا اور پاکستانی پراڈکس جس میں کاٹن،لیدر، کپڑے اور نٹس شامل ہیں کو بغیر ڈیوٹی مارکیٹ میں رسائی دے گا،اس مرحلے میں دونوں ممالک باہمی طور پر سرمایہ کاری بھی کریں گے۔