چینی سرمایہ کاروں کی خیبر پختونخوا میں مائنز اینڈ منرلز، ٹور ازم اور فارما سیوٹیکل سیکٹر میں سرمایہ کاری کی یقین دہانی

اسلام آباد۔:خیبر پختونخوا بورڈ آف انویسٹمنٹ کے چیف آپریٹنگ آفیسر(سی ای او) حسن داؤد بٹ نے کہا  ہے کہ چینی سرمایہ کاروں نے خیبر پختونخوا میں مائنز اینڈ منرلز، ٹور ازم اور فارما سیوٹیکل سیکٹر میں سرمایہ کاری کی یقین دہانی کرائی ہے۔  سی پیک میں مواقعوں کا فائدہ اٹھاتے ہوئے بی آر آئی اور سی پیک کو مرکزی حیثیت حاصل ہے۔بدھ کو ایک بیان میں  انہوں نے کہا کہ چینی سرمایہ کاروں نے خیبر پختونخوا میں مائنز اینڈ منرلز، ٹور ازم اور فارما سیوٹیکل سیکٹر میں سرمایہ کاری  کی یقین دہانی کرائی ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں نے دونوں سرمایہ کاری کانفرنسز میں پاکستان میں سرمایہ کاری کے حوالے سے اور خیبر پختونخوا میں خاص طور پر سرمایہ کاروں کو راغب کرنے کے لئے مختلف شعبوں کے حوالے سے آگاہ کیا۔ چینی سرمایہ کاروں نے فارما سیوٹیکل، سیاحت اور مائننگ کے شعبوں میں دلچسپی کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہاکہ جلد ہی چینی سرمایہ کاروں کا وفد خیبر پختونخوا کے نئے قائم ہونے والے انڈسٹریل زونز کا دورہ کریگا اور مختلف شعبوں  میں سرمایہ کاری کا جائزہ بھی لیں گا۔ انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا ہائیڈل اور قابل تجدید توانائی، مائنز اور منرلز، سیاحت، زراعت اور مختلف دیگر شعبوں میں بڑے مواقع فراہم کرتا ہے اور ان قدرتی ذخائر سے فائدہ اٹھانے کی ضرورت ہے تاکہ سرمایہ کاری کے عمل کو فاسٹ ٹریک کیا جائے اورصوبہ کے محنتی نوجوانوں کے لئے ملازمتیں پیدا کی جاسکیں۔ انہوں نے کہاکہ صوبائی حکومت نے صوبے میں روزگار کے مواقع کے حوالے سے خصوصی ہدایات دی ہیں کہ  صوبہ میں آسانی کے ساتھ کاروبار کو یقینی بنانے کے لئے تمام کوششیں کی جائیں تاکہ چین اور دوسری جگہوں سے آنے والے سرمایہ کاروں کو آسانی ہو اور سٹیک ہولڈرز کے ساتھ معاملات کرتے ہوئے ان کی ہینڈ ہولڈنگ ہر سطح پر کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ سی پیک میں مواقعوں کا فائدہ اٹھاتے ہوئے بی آر آئی اور سی پیک کو مرکزی حیثیت حاصل ہے۔ سرمایہ کاری کے معاملے میں سرمایہ کاری کی پالیسی اور صنعتی پالیسی پر تنقیدی جائزہ لیا جا سکتا ہے اور سرمایہ کاروں کے لئے کشش پیدا کرنے کے لبرل مراعات کی پیش کش کی جاسکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت چاہتی ہے کہ صوبہ میں بی او آئی ٹی کے کام کے دائرہ کار کو مزید بہتر بنانے کے لئے مکمل تعاون کی یقین دہانی کروائی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔