ٹرمپ اپنی تخلیق کردہ شکست سے جان چھڑانے کے لئے کوشاں

غیروں کے ساتھ اپنے بھی ٹرمپ کی بدحواسیوں کے خلاف برس پڑے
ٹرمپ سے زیادہ ایران کی باتوں پر یقین کرتا ہوں ،سابق سربراہ سی آئی اے
چند دن قبل تک بلند و بانگ دعوے کرنے والے ٹرمپ اب دنیا سے مذاکرات کی بھیک مانگ رہے ہیں

اسلام آباد(رپورٹ : محمد رضوان ملک )امریکی صدر ٹرمپ جواسرائیل کی شہ پر ایران پر چڑھ دوڑے تھے آج کل اپنی ہی تخلیق کر دہ شکست سے بچنے کے لئے ہاتھ پائوں مار رہے ہیں۔
ان کی دورغ گوئی کی پالیسی اور حرکتوں کے باعث نہ صرف غیر بلکہ اپنے بھی ان کی بدحواسیوں کے خلاف برس پڑے ہیں ۔
سی آئی اے کے سابق سربراہ جان برینن کا کہنا ہے کہ وہ صدر ٹرمپ سے زیادہ ایران کی باتوں پر یقین کرتے ہیں۔غیر ملکی میڈیا کے مطابق جان برینن کا کہنا تھا کہ حقائق بار بار سامنے آنے کے باوجود ٹرمپ انہیں تسلیم کرنے کو تیار نہیں اور وہ اپنی ہی تخلیق کردہ شکست سے نکلنے کی کوشش کر رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ٹرمپ کا یہ مؤقف بھی درست نہیں کہ ایران مذاکرات کے لیے سگنل دے رہا ہے یا امریکی شرائط پر بات چیت کرنا چاہتا ہے، میں صدر ٹرمپ سےزیادہ ایران کی باتوں پریقین کرتاہوں۔سابق سربراہ سی آئی اے کے مطابق ایرانی حکومت کی جانب سے ٹرمپ انتظامیہ سے کسی قسم کی بات چیت نہیں ہو رہی۔
ٹرمپ کے بیانات پر سخت تنقید کرتے ہوئےانہوں نے کہا کہ وہ ایران کے مؤقف کو ٹرمپ کے دعوؤں سے زیادہ قابلِ اعتماد سمجھتے ہیں۔جان برینن کا کہنا تھا کہ متعدد حقائق سامنے آنے کے باوجود صدر ٹرمپ انہیں تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں اور وہ اپنی پالیسی کی ناکامی سے نکلنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ موجودہ صورتحال میں ایران اور ٹرمپ انتظامیہ کے درمیان کسی قسم کی باضابطہ بات چیت نہیں ہو رہی۔
اس کو قدرت کا انتقام کہ لیں کہ چند روز قبل تک ایران کو نیست و نابود کرنے کی بڑھکیں مارنے والے ٹرمپ آج دنیا سے مذاکرات کی بھیک مانگ ر ہے ہیں اور ان کو اپنی ہی مسلط کر دہ شکست سے بچنے کے لئے کوئی راستہ نظر نہیں آرہا۔