اقوام متحدہ طاقتوروں کی لونڈی ہے اسرائیلی جارحیت پر خاموشی کیوں؟ امریکی پابندیوں سے نپٹ لیں گے روحانی نے اقوام متحدہ کو کھری کھری سنا ڈالیں

Image result for Hassan rouhani pic

نیویارک:ایرانی صدر حسن روحانی نے اقوام متحدہ کے کردار پر تنقیدکرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ فلسطین،شام،لبنان اور عراق پر حملوں کے حوالے سے خاموش ہے۔ ایرانی صدارتی ذرائع کے مطابق ایرانی صدر نے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوٹیرش سے علاقائی صورت حال پر بات چیت کی۔ روحانی نے کہا کہ اقوام متحدہ سے تعاون کی بدولت شام اور یمن کے بحرانوں میں مثبت پیش رفت دیکھنے میں آئی ہے اور اگر وہ چاہے تو ان کوششوں میں مزید تعاون کر سکتے ہیں۔ امریکی پابندیوں کے حوالے سے ایرانی صدر نے کہا کہ ہم اس تنازعے کو بھی ماضی کے مسائل کی طرح حل کر لیں گے البتہ یہ تاریخ میں ایک شرمناک باب کی حیثیت سے درج ہوگا کہ کس طرح ایک غاصب ریاست نے اپنی اقتصادی دہشتگردی سے ایک دیگر ملک کی عوام کو معاشی بد حالی میں جھونک دیا جس پر اقوام متحدہ نے اف تک نہ کی تھی۔ صدر روحانی نے اقوام متحدہ پر اس حوالے سے بھی تنقید کی کہ وہ اسرائیل کی طرف سے فلسطین،لبنان،شام اور عراق پر حملوں پر خاموش رہی۔ اس موقع پر گوٹیرش نے بھی کہا کہ اقوام متحدہ جوہری معاہدے کی مکمل حمایت کرتا ہے جو سلامتی کونسل کی قراردادوں کا بھی ایک حصہ ہے۔دوسری طرف ایرانی صدر حسن روحانی نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے خطے میں امن کا ایک منصوبہ پیش کیا ہے۔ بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق انہوں نے آبنائے ہرمز سے متصل تمام ممالک کو تنازعات کے خاتمے کے لیے مل بیٹھنے کی دعوت دی ہے۔ تاہم انہوں نے ایران کے خلاف پابندیوں کے خاتمے تک امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ بات چیت کے امکان کو مسترد کر دیا۔ روحانی کے مطابق امریکی حکومت بے رحم معاشی دہشت گردی جاری رکھے ہوئے ہے۔