پیرو،دس ہزار فٹ بلندی سے گرنے والی لڑکی زندہ بچ گئی حادثے کے بعد 11 دِن تک بھوکی پیاسی اکیلی ایمازون کے جنگلات میں رہی

Image result for Jolian kopaky the woman who live after plane crash pic

 

پیرو:پیرو میں طیارہ حادثے کے دوران دس ہزار فٹ بلندی سے ایمازون کے جنگلات میں گرنے والی لڑکی زندہ بچ گئی اور وہ اِس حادثے کے بعد 11 دِن تک بھوکی پیاسی اکیلی ایمازون کے جنگلات میں رہی۔غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق 1971 میں پیرو میں کرسمس کے موقع پر ایک طیارے کوحادثہ پیش آیا تھا اْس طیارے میں 94 مسافر سوار تھے اور حادثے کے نتیجے میں 93 مسافر موقع پر ہی جاں بحق ہوگئے تھے جبکہ صرف ایک نو عْمر لڑکی خوش قسمتی سے زندہ بچ گئی تھی۔دس ہزار فٹ بلندی سے گرنے والی لڑکی زندہ بچ گئی.جولیان کوپیکے نامی لڑکی جو 1971 کے طیارہ حادثے میں زندہ بچ گئی تھی اْس وقت اْس کی عْمر 17 سال تھی اور وہ اپنی والدہ کے ہمراہ پیرو کے مشرقی شہر لیما میں اپنے والد سے ملنے جارہی تھی، دورانِ پرواز موسمی صورتحال خراب تھی۔جولیان کوپیکے کے مطابق اْن کا طیارہ ایک خوفناک طوفان کے ساتھ سفر کر رہا تھا اور زور دار بجلی بھی چمک رہی تھی، اْسی دوران طیارے کی موٹر پر آسمانی بجلی کا زور دار جھٹکا لگا جس کے نتیجے میں اْن کے طیارے کے دو ٹکڑے ہوگئے تھے اور وہ تمام مسافر طیارے سمیت دس ہزار فٹ بلندی سے نیچے گِر گئے۔مْتاثرہ لڑکی نے بتایا کہ حادثے کے بعد جب اگلی صبح اْس کی انکھ کْھلی تو اْس نے خود کو ایمازون کے جنگلات میں پایا اور اْس کو ایک آنکھ سے نظر نہیں آرہا تھا جس کے بعد اْس کا پاؤں پِھسلا اور وہ دوبارہ بے ہوش ہوگئی تھی۔

Image result for Jolian kopaky the woman who live after plane crash pic

اْس کو پْوری طرح سے ہوش میں آنے میں آدھا دِن لگا تھا جس کے بعد وہ اپنی والدہ کو تلاش کرنے نِکل گئی لیکن وہ ناکام رہی۔جولیان بہت مایوس ہوگئی تھی کیونکہ وہ اپنی والدہ کو کھو چْکی تھی پھر اچانک اْس کو اپنے والد کی کہی ہوئی ایک بات یاد آئی کہ جہاں پانی دیکھیں تو اْس کے بہاؤ کے ساتھ چلتے رہیں کیونکہ جہاں پانی ہوتا ہے آبادی بھی اْس کے قریب ہی ہوتی ہے۔جولیان پانی کے بہاؤ کے ساتھ ساتھ چلتی رہی اور آگے چل کر اْس کو اپنے طیارے کے کچھ مسافر نظر ائے وہ سب ہلاک ہوچْکے تھے اْن میں ایک عورت بھی تھی لڑکی کو لگا کہ شاید وہ عورت اْس کی والدہ ہے لیکن وہ اْس کی والدہ نہیں تھی۔طیارے کے مسافروں کے پاس سے اْس کو ایک مٹھائی کا بیگ مِلا جو اْس کی خوراک کا ذریعہ بنا، جنگل کی تنہائی نے جولیان کو نااْمید کردیا تھا اور وہ یہ سوچنے پر مجبور ہوگئی تھی کہ شاید وہ اب اکیلی ہی رہ جائے گی لیکن خوش قسمتی سے اْس کو ایک جھونپڑی نظر ائی جس میں تین ادمی موجود تھے، جب اْس نے اْن کو دیکھا تو اْس کو لگا کہ خْدا کی جانب سے میری مدد کرنے فرشتے ا?ئے ہیں۔جولیان کا کہنا تھا کہ جب اْن لوگوں نے اْس کو دیکھا تو وہ لوگ اْس کو کوئی پانی کی روح سمجھ رہے تھے لیکن بہت اصرار کرنے پر اْنہوں نے لڑکی کو جھونپڑی میں رات گْزارنے کی اجازت دے دی اور پھر اگلے دِن وہ لوگ لڑکی کو قریبی شہر میں واقع اسپتال لے گئے۔اْنہوں نے مقامی اسپتال میں جولیان کا علاج کروایا اور پھر وہاں کے حکام نے اْس کے والد سے اْس کی ملاقات کروائی۔واضح رہے کہ جولیان کوپیکے 10 اکتوبر 1954 کو لیما میں پیدا ہوئی تھی۔