
ابوجا:افریقی ملک نائیجیریا میں پولیس نے نوجوان لڑکیوں اور خواتین کو ملازمت کے بہانے جنسی غلام بنائے جانے اور پھر انہیں حاملہ کرکے ان کے بچوں کو فروخت کرنے والے ایک گروہ کے 2 کارندوں کو گرفتار کرلیا۔نائیجیریا میں ابتدائی طور پر ایک سال قبل ایسے گروہوں کا انکشاف ہوا تھا اور پولیس نے سب سے بڑے شہر لاگوس سمیت دیگر شہروں سے ایسے افراد کو گرفتار کیا تھا جو اس گھنائونے جرم میں ملوث تھے۔پولیس اور انتطامیہ نے ایسے جرائم کرنے والوں گروہوں کی جانب سے بنائے گئے قید خانوں کو بے بی فیکٹریز کا نام دیا تھا، جن میں نائیجریا بھر سے بلیک میل کرکے لائی گئی خواتین کو حاملہ بنانے کے بعد ان کے بچوں کو فروخت کردیا جاتا تھا۔برطانوی اخبار دی انڈیپینڈنٹ کے مطابق پولیس نے لاگوس میں تازہ کارروائی کرتے ہوئے بے بی فیکٹریز چلانے والی 2 خواتین کو گرفتار کرنے سمیت 19 نوجوان حاملہ لڑکیوں اور 4 نوزائدہ بچوں کو بازیاب کرالیا۔رپورٹ کے مطابق پولیس کی جانب سے بازیاب کرائی گئی تمام لڑکیوں کی عمریں 15 سے 28 برس کے درمیان تھیں اور تمام کی تمام خواتین حمل سے تھیں۔بازیاب کرائی گئی خواتین نے پولیس کو بتایا کہ انہیں ملک کے مختلف علاقوں سے اچھی ملازمت کے بہانے لاگوس لاکر قید کرکے جنسی غلام بنایا گیا۔پولیس کے مطابق نائیجیریا کے مختلف علاقوں سے لائی گئی ان خواتین کو ملازمت کا جھانسا دے کر لاگوس لایا جاتا ہے، جہاں انہیں بلیک میلنگ کے تحت جنسی غلام بنا کر ان کا ریپ کروایا جاتا ہے یا پھرانہیں جسم فروشی پر مجبور کیا جاتا ہے۔رپورٹ کے مطابق جسم فروشی پر مجبور کی جانے والی لڑکیوں اور خواتین کو حاملہ کرنے کے بعد ان کے ہاں ہونے والے بچوں کو فروخت کردیا جاتا ہے۔ پولیس کے مطابق نوزائدہ بچوں کو700 سے 1200 امریکی ڈالرز تک فروخت کردیا جاتا ہے۔
نوجوان لڑکیوں کو جنسی غلام بنانے، حاملہ کرنے کے بعد انکے بچے فروخت کرنے کا انکشاف بے بی فیکٹریز چلانے والی 2 خواتین کو گرفتار کر کے 19نوجوان حاملہ لڑکیوں اور 4نوزائدہ بچوں کو بازیاب کرالیا نوزائدہ بچوں کو700 سے 1200 امریکی ڈالرز تک فروخت کردیا جاتا ہے، پولیس کی ابتدائی تحقیقات



