
برمنگھم:تحریک کشمیر یورپ کے صدر محمد غالب یوم سیاہ کشمیر کے حوالے سے 26 اکتوبر کو ہمبرگ جرمنی میں ہونے والے احتجاجی مظاہرے میں بطور مہمان خصوصی شرکت کے لیے جرمنی روانہ ہوگے ہیں
اس کے بعد 27 اکتوبر کو تحریک کشمیر یورپ ڈنمارک کے زیر اہتمام کوپن ہیگن میں منعقدہ کشمیر کانفرنس میں مہمان خصوصی ہونگے روانگی سے قبل میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا یورپ بھر میں یوم سیاہ کشمیر جوش و خروش سے منایا جارہا ہے
احتجاجی مظاہرے کانفرنسیں اور سیمینارز منعقد ہونگے کشمیر پر بھارت کے غاصبانہ قبضہ اور ریاستی دہشتگردی اور موجودہ حالات کو اجاگر کیا جائے گا۔
انہوں نے کہا 1947 میں بھارت کشمیر میں اپنی فوجیں داخل کر کے دراندازی نہ کرتا تو آج لاکھوں کشمیری آزادی کی جدو جہد میں قربانیاں پیش نہ کرتے بھارت نے فوج داخل کر کے کشمیریوں کی آزادی پر ڈاکہ ڈالا جب کشمیریوں نے بھارت کے خلاف مزاحمت شروع کی تو بھارت خود اقوام متحدہ میں مسلہ کشمیر لے کر گیا اور کشمیریوں کے ساتھ عالمی برادری کے سامنے وعدئے کیے گے کہ کشمیریوں کوجمہوری حق دے گا کہ وہ اپنے مستقبل کا فیصلہ خود کریں
بھارت نے ابھی تک بین القوامی معائدوں اور وعدوں پر عمل درآمد نہیں کیا ۔ محمد غالب نے کہا کہ بھارت جیسا ملک جو کسی وعدے اور معائدے کی پاسداری نہیں کرتا دہشتگروی اور فوجی طاقت کو استعمال کر کے نہتے عوام کا قتل عام کر رہا ہےکسی کی جان، مال اور عزت محفوظ نہیں ایسے ملک کے ساتھ ہر طرح کا بائیکاٹ کیا جائے کسی بھی بڑے ادارے اور فورم میں شامل نہ کیا جائے اقوام متحدہ میں اس دہشتگرد ملک کی رکنیت ختم کی جائے اور عالمی امن کے لیے قائم اس ادارے کے وقار اور ساکھ کو بحال کیا جائے مودی جیسے انسانیت دشمنوںکو گلے نہ لگایا جائے۔




