نیشنل ڈیٹا بیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی (نادرا )نے جمعیت علمائے اسلام(ف)کے مرکزی رہنما اور سابق سینیٹر حافظ حمداللہ کو غیرملکی شہری قرار دیتے ہوئے ان کی پاکستانی شہریت منسوخ کردی ۔ جس کے بعد پیمرا نے ان کو پاکستانی ٹی وی چینلز پر بلانے پر پابندی عائد کردی ہے۔ نادرا کی جانب سے سے انہیں غیر ملکی شہری قراردئیے جانے کے بعد پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی(پیمرا) نے انہیں کنفرم ایلین قراردیتے ہوئے ایک نوٹیفکیشن کے ذریعے ٹی وی چینلز کو ہدایت کی ہے کہ انہیں کسی پروگرام میںنہ بلایا جائے۔ پیمرا کی جانب سے اپنے اس اقدام کی وضاحت کرتے ہوئے بتایا گیا کہ نادرا نے اپنے حکم نامے میں شناختی کارڈ منسوخ کرتے ہوئے حافظ حمداللہ صبور کو جاری کمپیوٹرائزڈ قومی شناختی کارڈ ڈیجیٹل طور پر ضبط کرلیا۔پیمرا کے نوٹیفکیشن میں کہا گیا کہ حافظ حمداللہ غیر ملکی ہیں اور پاکستانی شہری نہیں ہیں لہذا تمام ٹی وی چینلز کو ہدایت کی جاتی ہے کہ وہ حافظ حمداللہ کو ٹی وی پر بلانے اور ان کی تشہیر سے گریز کریں۔پیمرا نے کہا کہ یہ فیصلہ اعلی حکام کی اجازت کے بعد کیا گیا ہے۔واضح رہے کہ جمعیت علمائے اسلام(ف ) کے رہنما اور سابق سینیٹر حافظ حمداللہ اپنی جماعت کے متحرک رہنمائوں میں سے ایک ہیں اور ٹی وی چینلز پر اپنے جارحانہ بیانات کی وجہ سے شہرت رکھتے ہیں۔

نادرا اور پیمرا کی جانب سے یہ اقدام ایک ایسے موقع پر کیا گیا ہے کہ جب جمعیت علمائے اسلام(ف)کے سربراہ مولانا فضل الرحمن کی جانب سے31اکتوبر کو ہونے والے ‘آزادی مارچ’ میں چند دن باقی ہیں اور اس قدم سے حکومت اور جے یو آئی(ف)کے درمیان پہلے سے خراب تعلقات مزید کشیدہ ہو سکتے ہیں۔یاد رہے کہ جمعیت علمائے اسلام (ف) نے جون میں یہ اعلان کیا تھا کہ ان کی جماعت اکتوبر میں اسلام آباد میں حکومت مخالف لانگ مارچ کرے گی۔اور اس آزادی مارچ کا مقصد ‘وزیراعظم’ سے استعفی لینا ہے کیونکہ ان کے بقول عمران خان ‘جعلی انتخابات’ کے ذریعے اقتدار میں آئے۔مولانا فضل الرحمن کی جانب سے اس لانگ مارچ کے لیے پہلے 27 اکتوبر کا اعلان کیا گیا تھا لیکن بعد ازاں اسے 31 اکتوبر تک ملتوی کردیا گیا، ساتھ ہی یہ کہا گیا کہ 27 اکتوبر کو دنیا بھر میں مقبوضہ کشمیر میں بھارتی قبضے کے خلاف یوم سیاہ منایا جاتا ہے، لہذا اس روز کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کیا جائے گا۔



