
جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن نے کراچی سے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی حکومت کے خلاف ‘آزادی مارچ’ کا آغاز کردیا۔
آزادی مارچ کا آغاز کراچی میں سہراب گوٹھ سے ہوا
جمعیت علمائے اسلام (ف) کے علاوہ آزادی مارچ کے جلسے میں پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی)، مسلم لیگ (ن)، عوامی نیشنل پارٹی اور جمعیت علمائے پاکستان کے رہنماؤں اور کارکنان بھی
شریک ہیں۔
آزادی مارچ کے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے مولانا نے کہا کہ ہم بھارت سمیت دنیا کو پیغام دینا چاہتے ہیں کہ مقبوضہ کشمیر کے مسئلے پر پوری قوم ایک پیج پر ہے۔
اسلام آباد پہنچ کر اسلام کا پرچم لہرائیں گے اور وزیراعظم عمران خان کو ہرحال میں استعفی دینا ہوگا۔
مولانا فضل الرحمٰن نے کہا تھا کہ 27 مارچ کو کشمیریوں سے اظہاریکجہتی منانے کے ساتھ ہی آزادی مارچ کا آغاز ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ ‘ہماری بھی کچھ کوتاہیاں ہیں لیکن اس میں کوئی شک نہیں کہ ہمارے حکمرانوں نے نامعلوم کس مصلحت کے تحت کشمیر کا سودا کیا’۔۔
مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ ‘ہم کشمیر سے متعلق پاکستان کے حکمرانوں کے خفیہ معاہدے اور کشمیر کے سودے کے فیصلے کو قبول نہیں کرتے’۔
‘آج پورے ملک میں مقبوضہ کشمیر سے اظہار یکجہتی کا دن منایا جارہا ہے’۔ان کا کہنا تھا کہ اسی دن 1947 کو بھارتی فورسز نے مقبوضہ کشمیر پر قبضہ کیا لیکن آزاد کشمیر، مقبوضہ کشمیر کی آزادی تک ان کے لیے بیس کمیپ کا کردار ادا کرتا رہے گا۔
انہوں نے عالمی برادری، اقوام متحدہ اور او آئی سی سمیت دیگر انسانی حقوق کی تنظیموں سے کشمیر کے اندر ہونے والے مظالم کا نوٹس لینے کا مطالبہ کیا۔
مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ ‘ایک قوم کی آزادی چھین کر اس پر قدغن لگا رہے ہیں، ہم اس پر خاموش نہیں رہیں گے’۔
آزادی مارچ
کراچی سے آزادی مارچ سکھر پہنچے گا جس کے بعد وہ پنجاب کے مختلف علاقوں سے ہوتا ہوا وفاقی دارالحکومت اسلام آباد پہنچے گا۔
آزادی مارچ کے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ ‘یہ قافلہ اسلام آباد کی طرف چلے گا، اس قافلے کا آغاز ہوگیا’۔
انہوں نے واضح کیا کہ ‘پورے ملک سے قافلے جمع ہورہے ہیں اور 31 اکتوبر کو آزادی مارچ اسلام آباد میں داخل ہوگا’۔
ان کا کہنا تھا کہ ‘حکومت کی مذاکراتی ٹیم ہم سے این آر او لینے آئی تھی، ہم نے اس کو مسترد کردیا’۔
جے یو آئی کے سربراہ کا کہنا تھا کہ اسلام آباد پہنچ کر اسلام کا پرچم لہرائیں گے اور وزیراعظم عمران خان کو ہرحال میں استعفی دینا ہوگا۔
مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ ‘لیکن ہم نے پاکستانی عدلیہ کے فیصلے کو قبول کیا اور اپنا احتجاج ریکارڈ کرائیں گے’۔
انہوں نے واضح کیا کہ ‘ہم اپنے مطالبے سے دستبردار نہیں ہوں گے، 25 جولائی کے جعلی انتخابات اور اس کے نتیجے میں بننے والی حکومت کو تسلیم نہیں کرتے’۔
واضح رہے کہ اپوزیشن جماعت کے سربراہ کی جانب سے اس آزادی مارچ کو منعقد کرنے کا مقصد ‘وزیراعظم’ سے استعفیٰ لینا ہے کیونکہ ان کے بقول عمران خان ‘جعلی انتخابات’ کے ذریعے اقتدار میں آئے۔
مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ ‘حکمران کہتے تھے کہ زیادہ لوگ اسلام آباد آجائیں تو استعفی دے دوں گا، کراچی والوں کا مجمع دیکھ لو اور دے دو استعفی’۔
انہوں نے کہا کہ تمام سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں اور کارکنوں کو بھی داد دیتا ہوں کہ انہوں نے یکجہتی کا ثبوت دیا۔
جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ نے حافظ حمد اللّہ کی پاکستانی شہریت ختم کرنے کو حکومت کی انتقامی کارروائی قرار دیا۔
ان کا کہنا تھا کہ حافظ حمد اللّہ کے خلاف فیصلے کو جوتے کی نوک پر رکھتے ہیں اور مفتی کفایت اللہ کو قید کرلیا تاکہ ہماری صفوں میں اشتعال پیدا کریں لیکن ہم مثبت سیاست کے حامی ہیں۔
مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ ہم نے پوری زندگی ملکی آئین کی وفاداری میں گزاری ہے اور شدت پسندوں کا مقابلہ کیا۔
انہوں نے کہا کہ ‘انشا اللّہ یہ حرکتیں حکومت کے گلے پڑیں گی اور دیکھ لو سندھ باب الاسلام سے ہم نے اپنے سفر کا آغاز کردیا’۔
سابق چیئرمین سینیٹ و پیپلز پارٹی کے رہنما رضا ربانی نے کہا کہ پیپلز پارٹی کے اراکین و کارکنان آزادی مارچ کا ہر جگہ استقبال کریں گے۔
انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی نے چیئرمین بلاول بھٹو کی ہدایت پر مارچ میں شرکت کی۔
ان کا کہنا تھا کہ ‘آج تاریخی دن ہے وہ اس لحاظ سے کہ کشمیر کے عوام سے یکجھتی کا دن منارہے ہیں’۔
رضا ربانی نے کہا کہ ‘مودی سرکار کشمیر میں قابض اور جیلیں عقوبت خانے بنے ہوئے ہیں’۔
انہوں نے کا کہا کہ کشمیر میں اتنا ظلم ہورہا ہے، آج افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے مسلم امہ خاموش ہے۔
رہنما پیپلز پارٹی نے کہا کہ ہم کشمیر میں آزادی کا مطالبہ کرتے ہیں اور ظلم ستم کی مذمت کرتے ہیں۔
سابق گورنر سندھ اور مسلم لیگ (ن) کے رہنما محمد زبیر نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان کی حکومت کے خاتمے تک جدوجہد جاری رہے گی۔
انہوں نے کہا کہ عمران خان کے پاس نظریہ ہے اور نہ کوئی منصوبہ اس لیے وزیراعظم استعفی دیں اور شفاف انتخابات کرائے جائیں۔
ان کا کہنا تھا کہ مولانا فضل الرحمٰن کے آزادی مارچ کو کامیاب بنانا ہے۔
عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی صدر سینیٹر شاہی سید نے کہا کہ 25 جولائی کے انتخابات پر ڈاکا مارا گیا اور جس ملک کے حکمران کمزور ہوں وہ فیصلے نہیں کرسکتے۔
انہوں نے کہا کہ جمہوری حکومت کے خاتمے کے حق میں نہیں مگر یہ ‘سلیکٹڈ اور نااہل’ حکومت ہے۔
شاہی سید نے کہا کہ اپوزیشن جماعتیں وزیراعظم عمران خان کی حکومت کو جمہوری تسلیم نہیں کرتیں۔
مقبوضہ کشمیر سے متعلق انہوں نے کہا کہ ‘ہم میں سو برائیاں ہوں گی مگر ہم کشمیر کا سودا نہیں کرسکتے کیونکہ کشمیر کے معصوم لوگوں نے پاکستان کے لیے قربانیاں دیں’۔
انہوں نے کہا کہ ‘اگر ملک بچانا ہے تو اس حکومت کو بھگانا ہوگا’۔
ان کا کہنا تھا کہ ‘یہ ملک اسلام کے نام پر بنا اسے ظالموں سے چھٹکارا دلانا ہے’۔
بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ سے بحی جمعیت علمائے اسلام (ف) اور اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے آزادی مارچ کا آغاز کردیا گیا ہے۔
کوئٹہ سے آزادی مارچ کی قیادت جے یو آئی (ف) کے صوبائی امیر مولانا عبدالواسع کررہے ہیں۔



