
وزیر اعظم کی معاون خصوصی برائے اطلاعات فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ جج ارشد ملک کی مبینہ خفیہ ویڈیو سے متعلق ڈی جی فرانزک پنجاب کی رپورٹ چلائی گئی جو غلط ہے اور ویڈیو، آڈیو کی کوئی حتمی رپورٹ نہیں بنی۔
اسلام آباد میں پریس کانفرنس کے دوران معاون خصوصی نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) عدالتیں، وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) اور قومی احتساب بیورو (نیب) کے اختیارات اپنی مرضی کے تحت استعمال کرنا چاہتی ہے۔
انہوں نے الزام لگایا کہ جھوٹ مافیا کا کام ہی ایسی کہانیاں ترتیب دینا ہے اور یہ اتنا جھوٹ بولتے ہیں کہ سچ لگنا شروع ہوجاتا ہے۔
فردوس عاشق اعوان نے واضح کیا کہ مذکورہ معاملہ سپریم کورٹ کے زیر نگرانی ہے اور ایف آئی اے اپنی رپورٹ عدالت میں جمع کرائے گی۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ ’16 برس قبل بنائی گئی ویڈیو 5 منٹ میں ردوبدل کرکے چلائی گئی تاہم اس کے پس پشت مقاصد کے بارے میں ایف آئی اے عدالت کو رپورٹ پیش کرے گی۔
معاون خصوصی اطلاعات نے جج ارشد ملک کی مبینہ خفیہ ویڈیو سے متعلق تمام رپورٹس کو من گھڑت اور جھوٹ پر مبنی قرار دیا۔
واضح رہے کہ یہ رپورٹس سامنے آئی تھیں کہ ایف آئی اے کو پنجاب سائنس فرانزک لیبارٹری کی موصول ہونے والی رپورٹ میں جج ارشد ملک کی مبینہ خفیہ ویڈیو میں ایڈیٹنگ نہ ہونے کی تصدیق کی گئی اور رپورٹ میں آڈیو ویڈیو کو بھی درست قرار دیا گیا۔
وزیراعظم کی معاون خصوصی برائے اطلاعات نے قبائلی اضلاع میں پہلی مرتبہ انتخابات کے انعقاد کو امن کی جیت قرار دیا۔
انہوں نے کہا کہ قبائلی علاقوں میں آزادانہ اور شفاف انتخابات پر قوم کو مبارک باد دیتی ہوں جہاں کسی بھی جماعت کی جیت دراصل امن کی جیت ہوگی۔
ان کا کہنا تھا کہ یہ پہلی مرتبہ ہوا کہ برسر اقتدار حکومت نے صوبے میں تمام دیگر جماعتوں کو انتخابی مہم کے لیے یکساں ماحول فراہم کیا۔
فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ خیبر پختونخوا اسمبلی کی 16 عام نشستوں پر مجموعی طور پر 2 سو 85 امیدواروں نے انتخابی عمل میں حصہ لیا جن میں 2 خواتین امیدوار بھی شامل ہیں۔
انہوں نے قبائلی اضلاع میں امن کا ماحول برقرار رکھنے کے لیے افواج پاکستان اور عوام کو خراج تحسین پیش کیا۔
ان کا کہنا تھا کہ آج قبائلی عوام اپنے ووٹ کی طاقت سے اپنی قیادت کا انتخاب کریں گے
معاون خصوصی نے کہا کہ ’جہاں کبھی بارود کی بو آتی تھی اب وہاں ووٹ کی خوشبو سے شفاف انتخابات کا عمل اختتام پذیر ہوا‘۔




