سیلز ٹیکس اور خریداری پر شناختی کارڈ کی شرط ملک بھر میں تاجروں کی دو روزہ شڑ ڈائون ہڑتال کا آغاز ہوگیا

Image result for shater down"

سيلز ٹيکس اور شناختی کارڈ کی شرط پر تاجر برادری کی جانب سے آج اور کل ملک بھر ميں احتجاج اور شٹر ڈاؤن ہڑتال کی جا رہی ہے۔

صدر اليکٹرونک مارکيٹ محمد رضوان کے مطابق منگل 29 اور بدھ 30 اکتوبر کو کراچی کی تمام الیکٹرونک مارکيٹس بند رہيں گی۔

محمد رضوان کا کہنا تھا کہ سيلز ٹيکس اور شناختی کارڈ کی شرط کا معاملہ اب تک حل نہيں ہوا۔ پرانے موبائل پر ٹيکس اورڈيوٹی دينے کو تيار ہيں لیکن نئےموبائل کے برابر ٹيکس منظور نہيں۔

صدراليکٹرونکس مارکیٹ نے کہا کہ حکومت آئی ايم ايف کے دباؤ پر بات کرنے کےلیے تيار نہيں، حکومت کی غلط پاليسيوں کی وجہ سے معيشت تباہ ہوگئی۔

لاہور ميں انجمن تاجران پاکستان کے سیکرٹری جنرل نعيم مير نے پريس کانفرنس کرتے ہوئے چيئرمين ايف بی آر سے عملی اقدامات کا مطالبہ کيا۔

اسلام آباد ميں مرکزی تنظیم تاجران پاکستان کے صدر کاشف چودھری نے بھی ہڑتال کی حمايت کی۔

تاجر تنظیموں کا کہنا ہے کہ اگر 29 اور 30 اکتوبر کے ہڑتال کے بعد بھی حکومت نے مطالبات نہ مانے تو غیر معینہ مدت تک ہڑتال کی جاسکتی ہے۔

بلوچستان میں بھی مرکزی انجمن تاجران نے آج اور کل شٹر ڈاؤن ہڑتال کی حمایت کی ہے۔

انہوں نے مطالبہ کیا ہے کہ سیلز انوائسز پر شناختی کارڈ نمبر اندراج کی شرط ختم کی جائے، تاجروں سے 1.5 فیصد ٹرن آؤٹ کی بجائے خالص منافع پر ٹیکس وصول کیا جائے، پرچون فروشوں کےلیے فکسڈ ٹیکس نظام لایا جائے، تاجروں کو وِد ہولڈنگ ایجنٹ نہ بنایا جائے جب کہ نئے اور پرانے موبائل فونز پر جائز ٹیکس لگایا جائے۔