
احتساب عدالت نے سابق وزیراعظم محمد نواز شریف کے خلاف ریفرنسز کی سماعت مزید ایک ہفتے کے لیے ملتوی کر دی ہے۔
سپریم کورٹ کی جانب سے پاناما کیس میں نواز شریف کو بطور وزیراعظم نااہل کرنے کے بعد عدالتی فیصلے کے تحت نیب نے نواز شریف کے خلاف بیرون ملک آف شور کمپنیوں کے قیام، العزیزیہ سٹیل مل اور لندن فلیٹس کے حوالے سے ریفرنسز دائر کیے گئے تھے۔ پیر کو سماعت کے دوران عدالت نے سابق وزیراعظم پر فرد جرم عائد نہیں کی۔انھوں نے بتایا کہ عدالت میں حاضری سے استثنیٰ کی درخواست پر کوئی بات نہیں ہوئی
اس موقع پر وفاقی وزیر داخلہ احسن اقبال نے سول انتظامیہ کے احکامات سے ہٹ کر رینجرز کی جانب سے نواز شریف کے وکلا، ساتھیوں اور میڈیا کے نمائندوں کو احتساب عدالت میں جانے سے روکنے پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس کی اعلیٰ سطح پر تحقیقات ہوں گی۔
پیر کی صبح جب احسن اقبال بھی احتساب عدالت پہنچے تو میڈیا سے گفتگو میں ان کا کہنا تھا کہ ’اسلام آباد میں رینجرز چیف کمشنر کے ماتحت ہیں، چیف کمشنر نے کہا کہ میں نے انھیں کہا کہ یہاں پر ایک انتظام طے ہوا ہے ہم نے اس کے تحت چلنا ہے، رینجرز کی جو کمانڈر کر رہے تھے انھوں نے چیف کمشنر کو انکار کر دیا کہ ہمارے اپنے حکم ہیں اور ہم نواز شریف کے علاوہ کسی کو اندر نہیں جانے دیں گے۔‘
ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’رینجرز کا مقامی کمانڈر روپوش ہو گیا، یہ ایسی صورتحال ہے جو قابل قبول نہیں ہے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ وہ کٹھ پتلی وزیر داخلہ نہیں بن سکتے۔



