
چاند میڈیکل کالج لاڑکانہ کی بائیس سالہ طالبہ نمرتا کمہاری جو سولہ ستمبر کو اپنے ہاسٹل کے کمرے میں مردہ پائی گئی تھیں اور اس کی لاش پنکھے سے جھول رہی تھی اور خیال کیا جارہا تھا کہ اس نے خودکشی کی ہے اس کی حتمی پوسٹ مارٹم رپورٹ میں انکشاف ہو اہے کہ مو ت سے قبل اس کے ساتھ زیادتی ہوئی تھی
حتمی پوسٹ مارٹم رپورٹ کے مطابق ڈاکٹر نمرتا کو قتل کرنے سے پہلے زیادتی کا نشانہ بنایا گیا جبکہ موت کی وجہ دم گھٹنا ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ڈی این اے ٹیسٹ میں مرد کے ڈی این اے پروفائل کی موجودگی کی تصدیق ہو گئی ہے جو لاش کے کپڑوں سے بھی ظاہر ہے، مرد کے ڈی این اے کی باقیات سے ظاہر ہے کہ نمرتا سے زیادتی کی گئی۔
میڈیکو لیگل آفیسر ڈاکٹر امرتا کی جانب سے جاری کردہ حتمی پوسٹ مارٹم رپورٹ بھی مبہم ہے جو کہ خودکشی یا قتل کا صحیح تعین نہیں کرسکی ہے۔
پوسٹ مارٹم کی رپورٹ کے مطابق ڈاکٹر نمرتا کی موت دم گھٹنے کی وجہ سے ہوئی کیونکہ نمرتا کی گردن پر پھندے کے نشانات تھے۔ میڈیکو لیگل آفیسر ڈاکٹر امرتا نے مزید کہا کہ اس طرح کی علامتیں یا تو گلا گھونٹنے پر یا پھانسی پر ظاہر ہوتی ہیں۔
واضح رہے کہ 16ستمبر کو لاڑکانہ کے چانڈکا میڈیکل کالج کے ہاسٹل سے 22 سالہ طالبہ نمرتا کی لاش برآمد ہوئی تھی



