
سپریم کورٹ نے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی توسیع کے حوالے سے حکومت کودرست فیصلہ کرنے کے لئے ایک دن کی مزید مہلت دیتے ہوئے سماعت آج جمعرات تک ملتوی کر دی ہے۔
سپریم کورٹ میں چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی مدت ملازمت میں توسیع سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران ریمارکس دیے ایسے تو اسسٹنٹ کمشنر کی تعیناتی نہیں ہوتی جیسے آرمی چیف کو تعینات کیاجارہا ہے، آرمی چیف کو
شٹل کاک کیوں بنایا گیا، کل تک اس معاملے کا حل نکالیں، ہم قانون کے مطابق فیصلہ کریں گے۔
حکومت نے آرمی چیف کو شٹل کاک بنادیا ہے، اسسٹنٹ کمشنر بھی ایسے نہیں رکھا جاتا، جیسے آرمی چیف کا تقرر کیا جارہا ہے۔
چیف جسٹس نے دوران سماعت مزید کہا کہ وزیراعظم نے آرمی چیف کی تقرری کی سفارش کی، صدر مملکت نے اس کی توسیع دے دی، لگتا ہے کسی نے کچھ دیکھا ہی نہیں، سمری، ایڈوائس اور نوٹیفیکیشن جیسے بنائے گئے، لگتا ہے وزارت قانون نے بڑی محنت سے کیس خراب کیا ہے۔
جسٹس آصف سعید کھوسہ نے صدر مملکت اور وزیراعظم کو تجویز دی کہ وہ اس معاملے ایڈوائس اور نوٹیفکیشن جاری کرنے والوں کی ڈگریاں چیک کروائیں۔
ساتھ ہی چیف جسٹس کے یہ ریمارکس بھی دیکھنے میں آئے کہ آرمی ایکٹ میں مدت اور دوبارہ تعیناتی کا ذکر نہیں، ماضی میں 5 سے
6 جنرلز 10، 10 سال تک توسیع لیتے رہے، کسی نے پوچھا تک نہیں تاہم آج یہ سوال سامنے آیا ہے، اس معاملے کو دیکھیں گے تاکہ آئندہ کے لیے کوئی بہتری آئے۔
عدالت عظمیٰ میں چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں جسٹس مظہر عالم اور جسٹس منصور علی شاہ پر مشتمل 3 رکنی بینچ نے جیورسٹ فاؤنڈیشن کے وکیل ریاض حنیف راہی کی جانب سے دائر درخواست پر سماعت کی اور طویل سماعت کے بعد اسے کل تک کے لیے ملتوی کردیا۔
آرمی چیف کی جانب سے سابق وزیر قانون فروغ نسیم ان کا کیس لڑنے کے لیے عدالت میں پیش ہوئے جبکہ اٹارنی جنرل انور منصور خان حکومتی موقف بیان کرنے کے لیے کمرہ عدالت میں موجود تھے۔
خیال رہے کہ
آرمی چیف کی مدت ملازمت 29 نومبر کو مکمل ہورہی ہے اور اس ملازمت کی مدت میں وزیراعظم عمران خان نے توسیع کردی تھی۔
تاہم عدالت نے اس نوٹیفکیشن کو معطل کرتے ہوئے مذکورہ کیس میں جنرل قمر جاوید باجوہ کو خود فریق بناتے ہوئے آرمی چیف، وفاقی حکومت اور وزارت دفاع کو نوٹس جاری کردیے تھے۔
سماعت شروع ہوئی تو چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ میڈیا پر غلط خبریں چلیں کہ ہم نے ازخود نوٹس لیا ہے، میڈیا کو سمجھ نہیں آیا تھا کہ ہم ریاض حنیف راہی کی درخواست پر ہی سماعت کر رہے ہیں۔
چیف جسٹس نے اس معاملے پر وضاحت کی اور سماعت کے آغاز میں استفسار کیا کہ کیا گمشدہ درخواست گزار کا علم ہوا؟ اس پر عدالت میں موجود ریاض حنیف راہی کو روسٹرم پر بلایا گیا۔
ان کے روسٹرم پر آنے کے بعد چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ ریاض راہی صاحب آپ کہاں رہ گئے تھے، کل آپ تشریف نہیں لائے، ہم نے آپ کی درخواست زندہ رکھی، جس پر ریاض راہی نے کہا کہ حالات مختلف پیدا ہوگئے ہیں۔
اس پر چیف جسٹس نے جواب دیا کہ ہم انہی حالات میں آگے بڑھ رہے ہیں، آپ تشریف رکھیں۔
دوران سماعت چیف جسٹس نے اٹارنی جنرل انور منصور خان سے استفسار کیا کہ یہ بات طے ہے کہ کل جن خامیوں کی نشاندہی کی گئی تھی ان کو تسلیم کیا گیا، خامیاں تسلیم کرنے کے بعد ان کی تصحیح کی گئی تھی، اس پر اٹارنی جنرل نے کہا کہ انہیں خامیوں کے طور پر تسلیم نہیں کیا گیا، جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ اگر خامیاں تسلیم نہیں کی گئیں تو تصحیح کیوں کی گئی؟
اس پر اٹارنی جنرل نے بتایا کہ میں اس کی وضاحت کرتا ہو، توسیع کے حوالے سے قانون نہ ہونے کا تاثر غلط ہے، یہ تاثر بھی غلط ہے کہ کابینہ کے صرف 11 ارکان نے ہاں میں جواب دیا تھا، جس پر چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ اگر باقی اراکین نے ہاں میں جواب دیا تھا تو کتنے وقت میں دیا تھا یہ بتا دیں، کل جو آپ نے دستاویز دی تھی اس میں 11 ارکان نے ہاں لکھا ہوا تھا، نئی دستاویز آپ کے پاس آئی ہے تو دکھائیں۔
جس پر اٹارنی جنرل نے کہا کہ کل کے عدالتی حکم میں بعض غلطیاں ہیں، میں نے کل آرمی رولز کا حوالہ دیا تھا، عدالت نے حکم نامے میں قانون لکھا اور عدالت نے کہا کہ صرف 11 ارکان نے کابینہ میں توسیع کی منظوری دی۔
اس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ اب تو حکومت اس کارروائی سے آگے بڑھ چکی ہے، جس پر اٹارنی جنرل نے جواب دیا کہ کابینہ سے متعلق نکتہ اہم ہے اس لیے اس پر بات کروں گا۔
انور منصور کی بات پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ہم نے تو وہی لکھا جو آپ نے دستاویزات میں دیا، اس پر اٹارنی جنرل نے کہا کہ جن اراکین کے جواب کا انتظار ہے ان کا جواب ہاں میں تصور کیا جانا چاہیے، اس پر چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ کس قانون میں ہے کہ جن کے جوابات کا انتظار ہو وہ ہاں تصور ہوگا۔
عدالتی ریمارکس پر اٹارنی جنرل نے جواب دیا کہ رول 19 میں لکھا ہے کہ جن کے جواب کا انتظار ہو وہ ہاں تسلیم ہوگا، جس پر چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ اس رول میں یہ بھی واضح ہے کہ جواب کے انتظار میں وقت کا تعین ہوگا، آپ ہمیں دستاویزات میں تعین کردہ وقت دکھا دیں۔
ساتھ ہی چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ رول 19 میں وقت مقرر کرنے کی صورت میں ہی ہاں تصور کیا جاتا ہے۔
دوران سماعت چیف جسٹس نے یہ بھی کہا کہ 18ویں ترمیم کے بعد آرمی ایکٹ میں تبدیلیاں ہوئی ہیں، اس پر اٹارنی جنرل نے بتایا کہ آرمی چیف ملٹری کو کمانڈ کرتا ہے۔
اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ آرٹیکل 243 کے مطابق صدر مملکت، افواج پاکستان کے سپریم کمانڈر ہیں، آرٹیکل 243 کے تحت ہی صدر، وزیراعظم کے مشورے پر افواج کے سربراہ تعینات کرتے ہیں۔
اس پر جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ آرٹیکل 243 مراعات و دیگر معاملات سے متعلق ہے، کیا تعیناتی کی مدت کی بات کی گئی ہے؟، آرمی چیف کتنے عرصے کے لیے تعینات ہوتے ہیں؟، کیا آرمی چیف حاضر سروس افسر بن سکتا ہے یا ریٹائر جنرل بھی، اس معاملے میں قواعد کو دیکھنا ضروری ہے۔
جسٹس منصور کی بات پر اٹارنی جنرل نے کہا کہ میرے پاس ترمیمی مسودہ ابھی آیا ہے، جس پر جسٹس مظہر عالم میاں خیل نے ریمارکس دیے کہ ہمارے پاس وہ بھی نہیں آیا۔
ساتھ ہی چیف جسٹس نے پوچھا کہ آئین و قانون کی کس شق کے تحت قواعد تبدیل کیے گئے، آرٹیکل 255 ان لوگوں کے لیے ہے، جو سروس سے نکالے جاچکے یا ریٹائر ہوچکے ہیں۔
دوران سماعت چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ یہ آرمی چیف کی مدت ملازمت کا انتہائی اہم معاملہ ہے، اس میں سب کی بات سنیں گے، یہ سوال آج تک کسی نے نہیں اٹھایا، اب اگر سوال اٹھ گیا ہے تو اسے دیکھیں گے، ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی ریمارکس دیے کہ ماضی میں 5 یا 6 جنرلز خود کو توسیع دیتے رہے ہیں، مستقبل میں ایسے مسائل پیدا نہ ہوں، اس لیے اس معاملے کو تسلی سے دیکھتے ہیں کیونکہ یہ معاملہ اب واضح ہونا چاہیے۔
چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ یہ انتہائی اہم معاملہ ہے مگر اس میں آئین خاموش ہے، جس پر اٹارنی جنرل نے بتایا کہ مدت تعیناتی نوٹیفکیشن میں لکھی جاتی ہے جو صوابدیدی ہے۔
اٹارنی جنرل کی بات پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ بہت سارے قوانین خاموش ہیں، کچھ روایتیں بن گئی ہیں، ماضی میں 5، 6 جنرلز خود کو توسیع دیتے رہے، 10، 10 سال تک توسیع لی گئی لیکن کسی نے پوچھا تک نہیں، تاہم آج یہ سوال سامنے آیا ہے، اس معاملے کو دیکھیں گے تاکہ آئندہ کے لیے کوئی بہتری آئے۔
چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ تاثر دیا گیا کہ آرمی کی چیف کی مدت ملازمت 3 سال ہوتی ہے، ساتھ ہی جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس دیے کہ آپ نے آج بھی ہمیں آرمی ریگولیشنز کا مکمل مسودہ نہیں دیا۔
اس موقع پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ جو صفحات آپ نے دیے وہ نوکری سے نکالنے کے حوالے سے ہیں، آرمی ریگولیشنز کے مطابق ریٹائرمنٹ معطل کرکے افسران کو سزا دی جاسکتی ہے، حال ہی میں 3 سینئر افسران کی ریٹائرمنٹ معطل کر کے سزا دی گئی تھی۔
اسی دوران عدالت میں موجود بینچ کے رکن جسٹس منصور علی شاہ نے استفسار کیا کہ آرمی چیف کی مدت 3 سال کہاں مقرر کی گئی ہے؟ کیا آرمی چیف 3 سال بعد گھر چلا جاتا ہے۔
عدالتی سوال پر اٹارنی جنرل نے بتایا کہ لیفٹیننٹ جنرل 57 سال کی عمر میں 4 سال کی مدت مکمل کر کے ریٹائر ہوتے ہیں، اس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ لیفٹیننٹ جنرل کے علاوہ کہیں بھی مدت کا تعین نہیں کیا گیا، بعض لیفٹیننٹ جنرلز کو تعیناتی کے بعد 4 سال کی مدت نہیں ملتی جبکہ آرمی چیف کی ریٹائرمنٹ کی مدت کا ذکر ہی نہیں۔
جس پر اٹارنی جنرل نے بھی کہا کہ جی، آرمی چیف کی مدت تعیناتی کا کوئی ذکر نہیں، اس پر جسٹس منصور علی شاہ نے استفسار کیا کہ کیا دستاویزات کے ساتھ آرمی چیف کا اپوانٹمنٹ لیٹر ہے، جنرل قمر باجوہ کی بطور آرمی چیف تعیناتی کا نوٹیفکیشن کہاں ہے، کیا پہلی بار جنرل باجوہ کی تعیناتی بھی 3 سال کے لیے تھی، آرمی چیف کی مدت تعیناتی کا اختیار کس کو ہے۔
جسٹس منصور علی شاہ نے پوچھا کہ اگر ریٹائرمنٹ سے 2 دن قبل آرمی چیف کی توسیع ہوتی ہے تو کیا وہ جاری رہے گی، اس پر اٹارنی جنرل نے جواب دیا کہ ٹرم کا استعمال کیا جاتا ہے لیکن اس کا تعین کہیں نہیں، فوجی افسران کو کمیشن ملتا ہے جب ان کی تعیناتی ہوتی ہے، آرٹیکل 243/3 کے تحت کمیشن ملتا ہے تاہم آرمی چیف کی تعیناتی کی مدت پر قانون خاموش ہے، آرٹیکل 243 کے تحت کابینہ سفارش نہیں کر سکتی، جس پر جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس دیئے کہ یہ واضح ہے کہ آرمی چیف کی تعیناتی کی سفارش وزیراعظم نے کرنی ہے۔
اٹارنی جنرل کی بات پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ کابینہ کی سفارش ضروری نہیں تو 2 مرتبہ معاملہ کابینہ کو کیوں بھیجا؟ اس پر اٹارنی جنرل نے کہا کہ عدالت کو قائل کرنے کی کوشش کروں کہ تعیناتی میں توسیع بھی شامل ہوئی ہے۔
دوران سماعت چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ نارمل (عام) ریٹائرمنٹ سے متعلق آرمی کے قواعد پڑھیں، آرمی ایکٹ کے رول 262 سی کو پڑھیں، جنرل کی ریٹائرمنٹ کی عمر 60 سال دی گئی ہے۔
اس پر انور منصور نے عدالت کو بتایا کہ آرمی چیف پبلک سرونٹ نہیں ہیں، ان کی تعیناتی پبلک سرونٹ کرتے ہیں، آرمی چیف افسر سے بالاتر گریڈ میں ہوتے ہیں۔
اٹارنی جنرل کی بات پر جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس دیئے کہ معاملہ توسیع اور نئی تعیناتی کا ہے، اس کو کیسے قانونی طور پر ثابت کریں گے، جس پر انور منصور خان نے کہا کہ تعیناتی کی تعریف میں دوبارہ تعیناتی بھی آتی ہے۔
اس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ریٹائرمنٹ اور ڈسچارج کا ذکر رولز میں ہے، جب مدت مکمل ہوجائے پھر نارمل ریٹائرمنٹ ہوتی ہے، 253 کے ایک چیپٹر میں واضح ہے کہ گھر کیسے جائیں گے یا فارغ کیسے کریں گے۔
اس موقع پر چیف جسٹس کے ریمارکس کے دوران اٹارنی جنرل نے بولنا چاہا تو چیف جسٹس نے پوچھا کہ انور منصور آپ جلدی میں تو نہیں، جس پر جواب دیا گیا کہ نہیں میں رات تک یہاں ہوں، آرٹیکل 255 میں ایک ایسا لفظ ہے جو اس معاملے کا حل ہے۔
اٹارنی جنرل نے کہا کہ اس آرٹیکل میں حالات کے تحت اگر ریٹائرمنٹ نہ دی جاسکے تو 2 ماہ کی توسیع دی جاسکتی ہے، جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ ایک بندہ اپنی ریٹائرمنٹ کی عمر کو پہنچ چکا ہے تو اس کی ریٹائرمنٹ کو معطل کیا جاسکتا ہے، اگر جنگ ہورہی ہو تو پھر آرمی چیف کی ریٹائرمنٹ میں عارضی تاخیر کی جاسکتی ہے۔
عدالتی ریمارکس پر اٹارنی جنرل نے بتایا کہ ریٹائرمنٹ کی حد کا کوئی تعین نہیں، اس پر جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس دیے کہ آپ کہنا چاہتے ہیں کہ ان کی ریٹائرمنٹ نہیں ہوسکتی، مدت پوری ہونے پر محض غیر متعلقہ قاعدے پر توسیع ہوسکتی ہے، یہ تو بہت عجیب بات ہے۔
ساتھ ہی چیف جسٹس نے کہا کہ آرٹیکل 255 جس پر آپ انحصار کررہے ہیں وہ تو صرف افسران کے لیے ہے، جس میں آپ نے ترمیم کی وہ تو آرمی چیف سے متعلق ہے ہی نہیں، آپ کے آرمی چیف اس میں نہیں آتے۔
دوران سماعت آرمی چیف کی جانب سے پیش ہونے والے فروغ نسیم نے کہا کہ جنگی صورتحال میں کوئی ریٹائر ہورہا ہو تو اسے کہتے ہیں، آپ ٹھہرجائیں، جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ آرٹیکل 255 اے کہتا ہے کہ اگر جنگ ہورہی ہو تو چیف آف آرمی اسٹاف کسی کی ریٹائرمنٹ کو روک سکتا ہے، یہاں آپ چیف کو سروس میں برقرار رکھ رہے ہیں۔
چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ آپ کا سارا کیس 255 اے کے گرد گھوم رہا ہے، اس پر اٹارنی جنرل انور منصور خان نے عدالت کو بتایا کہ 1948 سے آج تک تمام آرمی چیف ایسے ہی تعینات ہوئے، ‘جسٹس کیانی کی توسیع بھی ایسے ہی ہوئی’۔
عدالت میں اٹارنی جنرل کی جانب سے سابق آرمی چیف جنرل اشفاق پرویز کیانی کو جسٹس کیانی کہہ دیا، جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ وہ جسٹس نہیں جنرل کیانی تھے، چیف جسٹس کی اس بات پر عدالت میں قہقہے گونج اٹھے۔
تاہم اپنے دلائل جاری رکھتے ہوئے اٹارنی جنرل نے کہا کہ جن فوجی افسران کو توسیع دی گئی ان کی فہرست دے چکا ہوں، اس پر جسٹس منصور علی شاہ نے پوچھا کہ کیا ریٹائرڈ جنرل کو آرمی چیف تعینات کیا جا سکتا ہے.
عدالتی سوال پر اٹارنی جنرل نے جواب دیا کہ شاید ریٹائر جنرل بھی بن سکتا ہو لیکن آج تک ایسی کوئی مثال نہیں، اس پر جسٹس منصور علی شاہ نے پوچھا کہ کیا 3 سالہ مدت کے بعد آرمی چیف فوج میں رہتا ہے یا گھر چلاتا ہے۔
ساتھ ہی چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ فوجی افسران سروس کی مدت اور مقررہ عمر کو پہنچنے پر ریٹائر ہوتے ہیں، ہم قانون سمجھنا چاہتے ہیں ہمیں کوئی جلدی نہیں، اس پر اٹارنی جنرل نے کہا کہ میں تو رات تک دلائل دینے کے لیے بھی تیار ہوں، جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ وفاقی حکومت ریٹائرمنٹ کے بعد ہی ریٹائرمنٹ کو معطل کر سکتی ہے۔
اس موقع پر جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ دوران جنگ ممکن ہے کہ افسران کو ریٹائرمنٹ سے روک جاتا ہے، ساتھ ہی چیف جسٹس نے کہا کہ قانون کے مطابق آرمی چیف دوران جنگ افسران کی ریٹائرمنٹ روک سکتے ہیں، حکومت آرمی چیف کی ریٹائرمنٹ کو روکنا چاہتی ہے۔
عدالتی ریمارکس پر اٹارنی جنرل نے کہا کہ ریٹائرمنٹ کی معطلی عارضی نہیں ہوتی،اس پر جسٹس منصورعلی شاہ نے کہا کہ آئینی عہدے پر تعیناتی میں توسیع آئین کے تحت نہیں، عارضی سروس رولز کے تحت دی گئی، بظاہر تعیناتی میں توسیع آرمی ریگولیشنز کے تحت نہیں دی گئی۔
بعد ازاں عدالت نے مذکورہ معاملے پر سماعت کو ایک بجے تک ملتوی کردیا۔
وقفے کے بعد کیس کی دوبارہ سماعت شروع ہوئی تو چیف جسٹس نے کہا کہ ہم آپ کو اجازت دیتے ہیں، جو بولنا ہے بولیں، پھر ہم قانونی نکات پر بات کریں گے، ہم آپ کے دلائل کی تعریف کرتے ہیں، جس پر اٹارنی جنرل نے کہا کہ میں آپ کے تمام سوالات کے جوابات دیتا رہوں گا۔
چیف جسٹس نے کہا کہ ایک طریقہ یہ ہے کہ آپ کو دلائل مکمل کرنے دیں، پھر قوانین پڑھیں، دوسرا طریقہ یہ ہے کہ آپ پہلے قانون پر بات کر لیں، پھر اپنا موقف دیں، اس پر اٹارنی جنرل نے جواب دیا کہ عدالت کے ہرسوال کا جواب دوں گا۔
انور منصور کی بات پر چیف جسٹس نے کہا کہ ٹکڑوں میں جواب کا کوئی فائدہ نہیں، آرمی ایکٹ کو سمجھے بغیر ہمیں دلائل کیسے سمجھ آئیں گے، آپ کا ایک ایک لفظ سن کر سمجھنے کی کوشش کریں گے۔
اٹارنی جنرل کی بات پر چیف جسٹس نے کہا کہ ہم ان رولز اور ریگولیشن کو پڑھتے ہیں، پاک فوج کے تقسیم ہند سے پی کے کے رولز کو روزانہ کی روشنی میں دیکھتے ہیں، اس پر اٹارنی جنرل نے کہا کہ جیسے عدالت کہے گی ویسے کہیں گے۔
اس پر چیف جسٹس نے کہا کہ جو کہنا ہے کہیں ایک ایک لفظ نوٹ کر رہے ہیں۔
اس موقع پر جسٹس منصور علی شاہ نے پوچھا کہ پہلا سوال یہ ہے کہ آرمی چیف کی مدت تعیناتی کیا ہوگی، آرمی چیف کی مدت تعیناتی پر آئین خاموش ہے، دوبارہ آرمی چیف کی تعیناتی کس قانون کے تحت ہوگی، کیا ریٹائرمنٹ کے بعد ریٹائرڈ جنرل کو دوبارہ آرمی چیف بنایا جا سکتا ہے؟
جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ آرمی چیف کی تعیناتی وزیراعظم کی صوابدید ہے، اصل مسئلہ آرمی چیف کی دوبارہ تعیناتی کا ہے، اس پر اٹارنی جنرل نے جواب دیا کہ آرمی چیف کی تعیناتی آرٹیکل 243 کے تحت ہوتی ہے، مدت مقرر نہ ہو تو کیا آرمی چیف تاحیات عہدے پر رہیں گے، 1947 سے تعیناتی کی یہی روایت رہی ہے۔
چیف آف آرمی اسٹاف میں اسٹاف کا مطلب کیا ہے، جسٹس منصور
اٹارنی جنرل نے بات کو جاری رکھتے ہوئے کہا کہ چیف آف آرمی اسٹاف آرمی کے کمانڈنگ افسر ہیں، اس پر جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ چیف آف آرمی اسٹاف میں اسٹاف کا مطلب کیا ہے، خالی چیف آف آرمی بھی تو ہوسکتا تھا۔
اس پر اٹارنی جنرل نے کہا کہ اس بارے میں مجھے علم نہیں، پڑھ کر بتا سکتا ہوں، کمانڈنگ افسر وہ ہوتا ہے جو آرمی کے کسی الگ یونٹ کا سربراہ ہو۔
عدالت میں دلائل دیتے ہوئے اٹارنی جنرل نے بتایا کہ آرمی ایکٹ کا ہر سیکشن الگ یونٹ، پلٹون کو ظاہر کرتا ہے، اس پر چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ وہ جو کہتے ہیں کہ فوج میں کمیشن میں گیا تو کیا ان کو کوئی ذمہ داری ملتی ہے ؟ اس پر انور منصور نے بتایا کہ کمیشن آرٹیکل 243 کے تحت ہے۔
اس پر چیف جسٹس نے کہا کہ اس میں تو لکھا ہے کہ جونئیر کمیشنڈ افسر کے علاوہ ہے، جس پر جواب دیا گیا کہ نہیں ایسا نہیں ہے، ساتھ ہی
دوران سماعت چیف جسٹس نے کہا کہ حکومت کا انحصار سیکشن 255 پر ہے جو آرمی افسر کے لیے ہے، اس پر اٹارنی جنرل نے کہا کہ آرمی ایکٹ کے مطابق فوجی افسر وہ ہے جو کمیشنڈ افسر ہو، ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ آرمی چیف کو کسی بھی افسر کی برطرفی کا اختیار ہے۔
اس پر جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ آرمی ایکٹ میں کسی افسر کی مدت تعیناتی کا ذکر نہیں، جس پر اٹارنی جنرل نے جواب دیا کہ مدت تعیناتی میں توسیع کا ذکر رولز میں ہے۔
اٹارنی جنرل کے جواب پر چیف جسٹس نے کہا کہ رولز ہمیشہ ایکٹ اور قانون کے تحت ہی بنتے ہیں، ایکٹ میں ایسا کچھ نہیں کہ کسی بہت قابل افسر کو ریٹائر ہونے سے روکا جائے۔
ساتھ ہی جسٹس منصور علی شاہ نے پوچھا کہ کیا آرمی ایکٹ میں کسی بھی افسر کی مدت سروس کا ذکر ہے؟، جس پر اٹارنی جنرل نے کہا کہ مدت ملازمت کا ذکر رولز میں ہے ایکٹ میں نہیں۔
اسی بات پر چیف جسٹس نے کہا کہ آرمی ایکٹ میں مدت اور دبارہ تعیناتی کا ذکر نہیں، آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کا بھی ذکر ایکٹ میں نہیں، جس پر اٹارنی جنرل نے جواب دیا کہ سیکشن 176 میں قواعد بنانے کا اختیار موجود ہے، فوج کوئی جمہوری ادارہ نہیں ہے، دنیا بھر میں فوج کمانڈ پر ہی چلتی ہے۔
اٹارنی جنرل کی بات پر جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ ہم اس کے بارے میں جانتے ہیں، ساتھ ہی اٹارنی جنرل نے کہا کہ میں آرمی ایکٹ کے چیپٹر ون ٹو اور تھری کو پڑھوں گا۔
اس موقع پر چیف جسٹس نے آرمی افسر کے حلف نامے سے متعلق ریمارکس دیے کہ فوجی حلف اٹھاتے ہیں کہ ملک اور آئین کا وفادار رہوں گا، فوج کا حلف ہے کہ جہاں ضرورت ہوئی ملک کے لیے جان دوں گا، ایک حلف آئین میں بھی دیا گیا ہے، اس پر اٹارنی جنرل نے کہا کہ آئین میں دیا گیا حلف فوجی افسر کمیشن کے وقت اٹھاتے ہیں۔
اس پر چیف جسٹس نے کہا کہ افسر کے حلف میں ہے کہ اگر جان دینی پڑی تو دے گا، یہ بہت بڑی بات ہے۔
ساتھ ہی چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ‘میں خود کو کسی سیاسی سرگرمی میں ملوث نہیں کروں گا’ یہ جملہ بھی حلف کا حصہ ہے، بہت اچھی بات ہے کہ اگر سیاسی سرگرمیوں میں حصہ نہ لیا جائے۔
بات کو جاری رکھتے ہوئے چیف جسٹس نے کہا کہ فیلڈ مارشل سمیت کسی بھی آرمی افسر کو حکومت ریٹائرڈ کرسکتی ہے، حکومت رضاکارانہ طور پر یا پھر جبری طور پر ریٹائر کرسکتی ہے، جس پر اٹارنی جنرل نے کہا کہ اس میں کسی مدت کا ذکر نہیں ہے، ساتھ ہی جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ بار بار مدت کا ذکر آرہا ہے تو آپ مدت کے بارے میں بتادیں۔
تاہم اس دوران چیف جسٹس نے کہا کہ چیف آف آرمی اسٹاف فوجی معاملات پر حکومت کا مشیر بھی ہوتا ہے، فوج کے نظم و نسق کی ذمہ داری بھی آرمی چیف پرعائد ہوتی ہے، ہم فوج کے سارے ریگولیشنز کو دیکھ رہے ہیں تاکہ آپ کے دلائل کو سراہ سکیں۔
سماعت کے دوران چیف جسٹس نے پوچھا کہ کچھ عرصے قبل آپ نے ریٹائرڈ افسران کو سزا دی، آپ نے پہلے انہیں سروس میں بلایا پھر سزا دی؟ ہمیں بتائیے کس قانون کے تحت انہیں سروس میں بلا کر سزادی، ان کو دوبارہ حاضر سروس کرکے سزادی گئی؟ ہم اس کو سمجھنا چاہتے ہیں کیونکہ 255 میں ریٹائرمنٹ دے کرواپس سروس میں بلایا جاسکتا ہے جبکہ صرف حاضر سروس کو سزا دی جاسکتی ہے۔
چیف جسٹس نے کہا کہ جن کو سزا دی ان کے بارے میں بتادیں کافی چیزیں صاف ہوجائیں گی، اس پر اٹارنی جنرل نے کہا کہ اس بارے میں بھی عدالت کو آگاہ کروں گا۔
ساتھ ہی چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ نوکری سے نکالے جانے پر ڈسچارج یا پھر ریٹائرمنٹ ہوتی ہے، ہم سروس ٹرمینیشن سے متعلق پوری اسکیم دیکھ رہے ہیں، اس میں نوکری سے برخاستگی، ریٹائرمنٹ اور ریٹائرمنٹ کی معطلی آتی ہے جبکہ جنگ کے دوران عارضی طور پر ریٹارمنٹ معطل کی جا سکتی ہے۔
انہوں نے ریمارکس دیے کہ آرمی ایکٹ پر عملدرآمد نے لیے رولز بنائے گئے، ان آرمی افسران جن کو سزا ہوئی تھی ریکارڈ منگوا لیں تاکہ تمام پہلوؤں کا تعین ہو سکے۔
چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ 3 آرمی افسران کو دوبارہ بلایا گیا کہ حاضر سروس کرکے پھر سزا دی گئی، اگرایسا نہیں تو پھر سزا کیسے ہوئی؟ بتائیں آرمی نے پھر کیسے سزا دی؟ کیونکہ 255 اے میں ریٹائرڈ افسران کو حاضر کرکے سزا دی گئی کے بارے میں ہے، جس پر اٹارنی جنرل نے کہا کہ 255 میں جرم کرنے والوں کو نہیں بلایا جاتا، جرم کرنے والے افسران پر آرمی ایکٹ کی سیکشن 292 کا اطلاق ہوتا ہے، ایکٹ میں واضح ہے کہ ریٹائرڈ افسر کے خلاف کارروائی ہوسکتی ہے۔
اس موقع پر عدالت نے فوج کے سزا یافتہ تینوں سابق اعلیٰ افسران کی تفصیلات طلب کرلیں اور چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ تفصیلات دیکھ کر جائزہ لیں گے کہ سزا کس قانون کے تحت ہوئی۔
چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ قواعد میں یہ نہیں لکھا کہ ریٹائرمنٹ سے پہلے ریٹائرمنٹ معطل ہو سکتی ہے، 4 اسٹار جنرل کی ریٹائرمنٹ کی کوئی عمر نہیں، لیفٹیننٹ جنرل تک ریٹائرمنٹ کی عمر موجود ہے، آرمی چیف ایک عہدہ ہے جس کا رینک ایک جرنل ہوتا ہے۔
اٹارنی جنرل کی بات پر جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ سیکشن 255 میں وفاقی حکومت کا ذکر ہے، آرمی چیف کو وفاقی حکومت نہیں وزیراعظم کی سفارش پر صدر تعینات کرتے ہیں، جسے تعینات وفاقی حکومت نے نہیں کیا اسے حکومت چھیڑ بھی نہیں سکتی، آرمی چیف پر سیکشن 255 کا اطلاق نہیں ہوتا۔
چیف جسٹس نے کہا کہ ہم دیکھنا چاہتے ہیں کہ جنہوں نے رولز بنائے ان کے ذہن میں کیا اسکیم تھی، اس پر اٹارنی جنرل نے کہا کہ میں پہلے 262 سی پڑھنا چاہتا ہوں، ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ ریٹائرمنٹ محدود ہوسکتی ہے۔
دوران سماعت ہی جسٹس منصور علی شاہ نے پوچھا کہ نارمل ریٹائرمنٹ کب ہوتی ہے، مدتِ ملازمت پوری ہو جائے تو کیا ریٹارمنٹ نہیں ہوتی؟ جس پر جواب دیا گیا کہ جی ریٹائرمنٹ ہوتی ہے۔
عدالت عظمیٰ میں چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ 255 کی ذیلی شق اے میں مقررہ مدت پر ریٹائرمنٹ کا لفظ ہے، جو آپ کے حق میں نہیں، آرٹیکل 255 بی بھی آپ کے حق میں نہیں جا رہا، اس پر اٹارنی جنرل نے کہا کہ 1970 کے قوانین کے تحت ریٹائرمنٹ کی عمر متعین تھی تاہم انہوں نے یہ بھی بتایا کہ چیف آف آرمی اسٹاف کی ریٹائرمنٹ متعین نہیں یہ ایک عہدہ ہے جو جنرل رینک کا افسر ہوتا ہے۔
اسی دوران جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ چیف آف آرمی اسٹاف کو کیا وفاقی حکومت مقرر کر سکتی ہے، صدر، وزیراعظم کہ سفارش پر آرمی چیف کو آئینی عہدے کے لیے تعینات کرتا ہے۔
جس پر اٹارنی جنرل نے کہا کہ عدالت کو آرمی چیف کے جنرل کے عہدے پر غور کرنا ہوگا، اس پر جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس دیے کہ آرمی چیف اور جنرل کو الگ نہیں کیا جا سکتا، ہمارے سامنے صرف آرمی چیف کا معاملہ ہے کسی جنرل کا نہیں، شق 255 آرمی چیف کو ڈیل نہیں کرتی۔
ساتھ ہی جسٹس منصور نے کہا کہ وفاقی حکومت آرمی چیف کو تعینات کرتی ہے اور 255 کا اطلاق کرتی ہے، چیف آف آرمی اسٹاف کو وفاقی حکومت نہیں بلکہ صدر تعینات کرتا ہے۔
ان ریمارکس پر اٹارنی جنرل نے جواب دیا کہ یہ آرمی عہدہ ہے لیکن وہ بھی جنرل ہیں، جس پر جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ مجھے ان کے جنرل ہونے سے کوئی مسئلہ نہیں، چاہے وہ ساری زندگی ہی جنرل رہیں، معاملہ یہ ہے کہ کیا انہیں بطور آرمی چیف توسیع مل سکتی ہے۔
اس موقع پر اٹارنی جنرل سے استفسار کیا کہ آپ نے کہا کہ آرمی چیف کو وفاقی حکومت تعینات نہیں کرسکتی، جس پر جواب دیا گیا کہ ان کو صدر ہی تعینات کرتا ہے، جس پر جسٹس منصور نے پھر ریمارکس دیے کہ اگر آرمی چیف کی تعیناتی حکومت نہیں کرتی تو پھر ان کو توسیع کیسے دے سکتی ہے۔
چیف جسٹس نے کہا کہ مدت تو 65 سال تک لکھی ہے، اس پر اٹارنی جنرل نے کہا کہ وہ تو پرانی اور غیر متعلقہ ہے، 255 اے، بی اور سی ریٹائرمنٹ سے متعلق ہے۔
سماعت کے دوران چیف جسٹس منصور علی شاہ نے پوچھا کہ اگر وفاقی حکومت آرمی چیف کی تعیناتی نہیں کرتی تو توسیع کیسے کرسکتی ہے، کیا مدت ختم ہوجائے تو کیا ریٹائرڈ ہو جائے گا، اس پر اٹارنی جنرل نے بتایا کہ جنرل کی ریٹائرمنٹ کی کوئی عمر نہیں، جس پر جسٹس منصور علی شاہ نے پوچھا کہ اس کا مطلب ہے کہ کسی ریٹائرڈ جنرل کو بھی آرمی چیف لگا سکتے ہیں، اس میں تو یہ بھی نہیں لکھا کہ آرمی چیف، آرمی سے ہوگا، ایسے تو آپ کو بھی آرمی چیف بنا سکتے ہیں۔
دوران سماعت جسٹس منصور علی شاہ نے پوچھا کہ کیا وزیراعظم کسی بھی ریٹائرڈ افسر کو گھر سے بلا کر چیف بناسکتے ہیں؟ جس پر اٹارنی جنرل نے کہا کہ آئین میں ایسی کوئی ممانعت نہیں ہے، آئین کے مطابق ریٹائرڈ افسران کی آرمی چیف کے عہدے پر تعیناتی پر بھی پابندی نہیں۔
اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ ماضی میں ایڈہاک ججز کی مدت میں بھی توسیع دی گئی، ایڈہاک ججز کی مدت میں توسیع کا بھی آئین میں ذکر نہیں ہے۔
کسی نے دوبارہ سمری کو پڑھنے کی زحمت بھی نہیں کی، عدالت
اس موقع پر جسٹس منصور نے اٹارنی جنرل سے پوچھا کہ آرمی چیف کب ریٹائرڈ ہونگے؟ جس پر اٹارنی جنرل نے جواب دیا کہ آرمی چیف کل رات کو ریٹائر ہو جائیں گے، اس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ پھر تو اس کا فوری فیصلہ ہونا چاہیے۔
عدالت میں جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ آرمی چیف کی دوبارہ تعیناتی کیسے ہوسکتی ہے جب وہ اسٹاف کا حصہ ہی نہیں ہوں گے، اسٹاف کا لفظ اسی لیے استعمال کیا جاتا ہے کہ ریٹائرمنٹ کے بعد اسٹاف کا حصہ نہیں ہوسکتا۔
اس موقع پر چیف جسٹس نے دوبارہ پوچھا کہ کیا کوئی ریٹائر افسر دوبارہ تعینات ہوسکتا ہے، اس پر اٹارنی جنرل نے بتایا کہ جب تک کمانڈ دوسرے جنرل کے سپرد نہیں ہو جاتی تب تک ریٹائرڈ تسلیم نہیں کیا جاتا۔
سماعت کے دوران اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ سمری میں آرٹیکل 243 اور 245 کا حوالہ دیا، جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ وزیراعظم نے سفارش دوبارہ تعیناتی کی تھی، صدر کی جانب سے توسیع کا نوٹیفکیشن جاری ہو گیا۔
چیف جسٹس کے اس ریمارکس پر کمرہ عدالت ایک مرتبہ پھر قہقہوں سے گونج اٹھا۔
تاہم سماعت جاری رہی اور چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ کسی نے دوبارہ سمری کو پڑھنے کی زحمت بھی نہیں کی، کیا لکھا ہےاور کیا بھیج رہے ہیں یہ بھی پڑھنے کی زحمت نہیں کی، اس پر اٹارنی جنرل نے جواب دیا کہ وزارتی معاملات ہیں غلطیاں ہوجاتی ہیں۔
سماعت کے دوران انہوں نے عدالت کو بتایا کہ آرٹیکل 243 کے تحت آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع ہوئی، جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ اس آرٹیکل کے تحت نئی تقرری ہوتی ہے، سمری میں تو وزیر اعظم نے سفارش ہی نہیں کی کہ توسیع دیں، وزیر اعظم نے نئی تقرری کی سفارش کی ہے اور صدر نے توسیع دی، لگتا ہے کسی نے کچھ دیکھا ہی نہیں کہ کیا ہو رہا ہے۔
عدالتی ریمارکس پر اٹارنی جنرل نے کہا کہ صدر نے جو دستخط کیے ہیں وہ بھی نئی تقرری کے ہیں، جس پر جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ اس کا مطلب یہ ہوا کہ ریٹائرڈ افسر کی تقرری کی گئی، آرمی چیف 29 نومبر کو ریٹائرڈ ہورہے ہیں اس کے بعد ان کی تقرری ریٹائرڈ جرنل کے طور پر ہوگی۔
وزارت قانون کی کوشش ہے کہ آرمی کو بغیر کمانڈ رکھا جائے، چیف جسٹس
ساتھ ہی چیف جسٹس نے کہا کہ آپ کی سمری پر لکھا ہوا ہے کہ آرمی چیف 29 نومبر کو ریٹائرڈ ہوجائیں گے، اس پر اٹارنی جنرل نے جواب دیا کہ آرمی چیف اس وقت تک ریٹائرڈ نہیں ہوتے جب تک وہ کمانڈ دوسرے جرنل کے حوالے نہ کریں۔
اٹارنی جنرل کی بات پر جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ ایک طرف آپ کہتے ہیں کہ ریٹائرڈ ہورہے ہیں پھر کہتے ہیں ریٹائر نہیں ہورہے، پھر کہا جاتا ہے آرمی چیف ریٹائر ہوتے ہی نہیں، آپ اس کی وضاحت کریں۔
عدالتی بات پر اٹارنی جنرل نے کہا کہ وزیر اعظم نے آرمی چیف کی مدت کم کر کے دوبارہ تعینات کیا، جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ وزیراعظم کی جانب سے جس سمری کو صدر نے منظور کیا اس میں تو ریٹائرڈ لکھا ہوا ہے۔
عدالتی ریمارکس پر اٹارنی جنرل نے کہا کہ آرمی کو بغیر کمانڈ کے نہیں چھوڑا جا سکتا، جس پر چیف نے ریمارکس دیے کہ کوئی نہیں چاہتا آرمی کماںنڈ کے بغیر رہے، تاہم وزارت قانون کی پوری کوشش ہے کہ آرمی کو بغیر کمانڈ رکھا جائے، ایسے تو اسسٹنٹ کمشنر کی تعیناتی نہیں ہوتی جیسے آرمی چیف کی تعیناتی کی جارہی ہے، آرمی چیف کو شٹل کاک کیوں بنایا گیا، آرمی بغیر کمانڈ ہوئی تو ذمہ دار کون ہوگا۔
چیف جسٹس نے کہا کہ آج آرمی چیف کے ساتھ یہ ہو رہا تو کل صدر اور وزیراعظم کے ساتھ ہوگا، آپ خود کہتے ہیں کہ توسیع اور تعیناتی الگ چیزیں ہیں۔
چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ فوجی باعزت ہوتے ہیں لیکن وزارت قانون نے مسودوں میں غلطیاں کرکے ان کو بے عزت کرنے کی کوشش کی۔
عدالت میں سماعت کے دوران چیف جسٹس نے ریمارکس دیے اسی طرح ہمارے ایک ریٹائرڈ جج دیدار شاہ کے چیئرمین نیب کے نوٹیفکیشن میں اتنی غلطیاں کیں کہ ان کی شخصیت داغدار ہوگئی، جسٹس ریٹائر دیدار شاہ کو وزارت قانون نے رسوا کیا، وزارت قانون کی وجہ سے دیدار شاہ کی تعیناتی کالعدم ہوئی، ابھی بھی وقت ہے حکومت دیکھے یہ کر کیا رہی ہے اعلیٰ ترین افسر کے ساتھ تو اس طرح نہ کریں۔
ججز صرف اللہ کو جوابدہ ہیں، چیف جسٹس
جس پر اٹارنی جنرل نے انہیں جواب دیا کہ یہ کوئی نیا کام نہیں ہو رہا، ماضی میں بھی توسیع ایسے ہی ہوتی تھی، جس پر جسٹس مظہر عالم نے کہا کہ ماضی میں کسی نے کبھی توسیع کا عدالتی جائزہ نہیں لیا۔
ساتھ ہی عدالت عظمیٰ کے چیف جسٹس نے کہا کہ رات کو اتنے بڑے دماغ بیٹھے لیکن پھر بھی غلطیوں پر غلطیاں کیں۔
اس موقع پر چیف جسٹس نے یہ بھی ریمارکس دیے کہ نوٹیفکیشن جاری کرنے والوں کی ڈگریاں چیک کروائیں، آئینی اداروں میں روز ایسا ہوتا رہا تو مقدمات کی بھرمار ہوگی، کل تک کوئی حل نکال لیں، ناجائز کسی کو کچھ نہیں کرنا چاہیے۔
چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ اگر یہ غیرقانونی ہے تو ہمارا حلف ہے کہ کالعدم قرار دیں، ججز صرف اللہ کو جوابدہ ہیں، اس پر اٹارنی جنرل نے بتایا کہ کمانڈ کی تبدیلی ضروری تقریب ہے، جس پر جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ کمانڈ کی تبدیلی تو ایک رسمی کارروائی ہے۔
دوران سماعت جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ دوبارہ تعیناتی کا مطلب ہے ریٹائرمنٹ کے بعد دوبارہ تعینات کیا جانا، تعیناتی والا نوٹیفکیشن کہتا ہے کہ آرمی چیف 29 نومبر کو ریٹائر ہو جائیں گے، اگر ان کی توسیع نا ہوتی اور وہ ریٹائر ہو جاتے تو کیا ہوتا؟ جس پر جواب دیا گیا کہ وہ اپنے ماتحت کو کمانڈ دیتے، حکومتی نوٹیفکیشن میں مدت نہیں دی گئی۔
عدالت کے سامنے 3 اہم معاملات
اس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ سمری میں آپ دوبارہ تعیناتی لکھتے ہیں اور نوٹیفکیشن میں توسیع لکھتے ہیں، آپ غلط کام کیوں کرتے ہیں، جب قانون موجود ہیں تو پھر کنونشن کہاں سے آگئے، کنونشن روایات ہیں جو برطانوی آئین سے اخذ کی گئی ہیں، جب آئین موجود ہے تو روایات کی کیا ضرورت ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہمارا تحریری قانون ہے کہ کنونشن برطانوی قانون میں ہیں، ہمارا قانون جہاں خاموش ہوتا ہے وہاں کنونشن کی ضرورت ہوتی ہے، اس پر اٹارنی جنرل نے کہا کہ مدت کے معاملے پر خاموشی ہے اس لیے کنونشن کا حوالہ دیا۔
عدالت عظمیٰ کے چیف جسٹس نے کہا کہ کابینہ، وزیراعظم اور صدر تینوں کی سمریوں میں نقطہ نظر الگ ہے، کل تک معاملےکا حل نکال لیں ہم کسی کے خلاف نہیں ہیں، ہم نے قانون کے مطابق فیصلہ کرنا ہے۔
سماعت کے دوران چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ہمارے سامنے 3 معاملات ہیں، پہلا معاملہ قانونی ہے، دوسرا طریقہ کار سے متعلق ہے اور تیسرا آرمی چیف کو توسیع کی وجوہات ہیں، پہلے 2 معاملات بہت اہم ہیں پھر ہمیں فیصلہ دینا ہوگا۔
اس موقع پر عدالت نے سابق وزیرقانون فروغ نسیم کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ بھی اپنا مسئلہ پاکستان بار کونسل کے ساتھ مل کرحل کرکے آئیں یہ نا ہو کہ آپ دلائل نا دے سکیں۔
چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ کل آپ اپنا ایسوسی ایٹ ساتھ لائیں وہ دلائل دے گا اور آپ اس کی معاونت کر سکیں گے، اس پر فروغ نسیم نے کہا کہ اٹارنی جنرل نے میرا لائسنس بحال کر دیا تھا، بار کی سیاست کی وجہ سے میرا لائسنس منسوخ ہوا جو بعد میں بحال ہو گیا، اس پر چیف جسٹس نے کہا کہ کہیں یہ نا ہو کہ آپ کے لائسنس کی بحالی میں سارا فن گزر جائے۔
بعد ازاں عدالت نے مذکورہ کیس کی سماعت کو کل صبح ساڑھے 9 بجے تک ملتوی کردیا۔
جنرل قمر جاوید باجوہ جو آئندہ سال 60 برس کی عمر کو پہنچ جائیں گے، بطور آرمی چیف ان کے عہدے 3 سالہ مدت رواں ہفتے کے اواخر میں مکمل ہورہی ہے اور وہ اپنی سروس اسی صورت میں جاری رکھ سکتے ہیں اگر سپریم کورٹ 29 نومبر سے قبل آرمی چیف کے حق میں فیصلہ سناتی ہے۔
واضح رہے کہ گزشتہ روز سماعت کے بعد عدالتی حکم نامے میں کہا گیا تھا کہ وزیراعظم نے 19 اگست کو اپنے طور پر آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کا نوٹیفکیشن جاری کیا، جب اس نوٹیفکیشن میں غلطی کا احساس ہوا تو وزیراعظم نے سمری صدر کو بھجوائی جس کی صدر نے منظوری دی۔
اس سے قبل دوران سماعت جسٹس منصور نے کہا کہ اگر آرمی چیف 29 نومبر کو ریٹائر ہو رہے ہیں تو اس کا مطلب ہے کہ اس کے بعد ان کی تقرری ریٹائرڈ جنرل کے طور پر ہوگی؟
جواب میں اٹارنی جنرل انور منصور خان نے کہا کہ آرمی چیف کی مدت ضرور 28 نومبر کو ختم ہورہی ہے، مگر آرمی چیف اس وقت تک ریٹائر نہیں ہوتا جب تک کمانڈ دوسرے جنرل کے حوالے نہ کردے۔
چیف جسٹس نے کہا کہ اٹارنی جنرل جس آرٹیکل 255 پر انحصار کررہے ہیں وہ تو صرف افسران کے لیے ہے، آرمی چیف اس میں نہیں آتے، جس قانون میں آپ نے ترمیم کی وہ تو آرمی چیف سے متعلق ہے ہی نہیں۔
دوران سماعت ججز نے استفسار کہ آرمی چیف کے نوٹیفکیشن میں 3 سال کی مدت کیسے لکھی گئی؟ اگر 3 سال کی مدت ہے تو کہاں ہے؟ یہ سوال کسی نے نہیں اٹھایا، اب اگر سوال اٹھ گیا ہے تو اسے دیکھیں گے، اب یہ معاملہ واضح ہونا چاہیے۔
سماعت کے دوران چیف جسٹس نے ریمارکس



