متنازعہ شہریت ترمیمی بل پر بھارت بھر میں مظاہرے، بھارت اب رہنے کے قابل ملک نہیں رہا، ہندو طالبہ بھی بھارتی فوج کے مظالم کے خلاف پھٹ پڑیں

پولیس نے گرلز ہاسٹل میں گھس کر ہراساں کیا،بھارت اب رہنے کے قابل نہیں رہا، ہندو طالبہ—اسکرین شاٹ

گزشتہ ہفتے بھارتی پارلیمنٹ سے منظوری اور صدر کے دستخط کے بعد قانون بن جانے والے بھارت کے متنازع ’شہریت ترمیمی بل 2019‘ کے بعد بھارت بھر میں مظاہرے جاری ہیں۔

دارالحکومت نئی دہلی سے لے کر آسام اور بھارت کی دیگر ریاستوں کے بڑے شہروں میں مظاہرے کیے جا رہے ہیں۔

دارالحکومت نئی دہلی کی سب سے بڑی یونیورسٹی کا درجہ رکھنے والی قدیم ترین یونیورسٹی ’ جامعہ ملیہ اسلامیہ یونیورسٹی‘ کے طلبہ کی جانب سے سب سے زیادہ اس بل پر مظاہرے کیے گئے اور پولیس نے طلبہ کے ان مظاہروں کو روکنے کے لیے اپنی حدود ہی پار کرلیں۔

بھارتی نشریاتی ادارے ’این ڈی ٹی وی‘ کے مطابق متنازع شہریت بل پر جامعہ ملیہ اسلامیہ یونیورسٹی کے طلبہ کی جانب سے کیے جانے والے مظاہروں کو روکنے کے لیے پولیس کی بھاری نفری غیر قانونی طور پر یونیورسٹی میں داخل ہوئیں اور بڑے پیمانے پر طلبہ کو ہراساں کرنے سمیت انہیں تشدد کا نشانہ بنایا۔

جامعہ ملیہ میں 14 دسمبر سے 16 دسمبر تک شدید مظاہرے رہے—فوٹو: رائٹرز

رپورٹ کے مطابق پولیس کے تشدد کا نشانہ بننے والوں میں نہ صرف مسلمان اور مرد طلبہ شامل ہیں بلکہ پولیس کی جانب سے بڑی تعداد میں طالبات کو بھی ہراساں کرنے اور تشدد کا نشانہ بنائے جانے کے واقعات پیش آئے۔

پولیس کی جانب سے غیر قانونی طور پر طلبہ کے ہاسٹلز سمییت طالبات کی ہاسٹلز میں داخل ہونے کے خلاف نہ صرف مسلمان بلکہ ہندو طالبات نے بھی مظاہرہ کیا اور بتایا کہ کس طرح پولیس نے ہاسٹلز میں گھس کر طالبات کی بے حرمتی کی۔

این ڈی ٹی وی کے مطابق جامعہ ملیہ کی ہندو طالبہ انوگیا نے یونیورسٹی کے باہر روتے ہوئے میڈیا کو پولیس کے ظلم کی داستان سنائی۔

سوشل میڈیا پر سامنے آنے والی مذکورہ طالبہ کی ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ کس طرح جواں سالہ طالبہ پولیس کی بربیت سے ڈری ہوئی ہے۔

جامعہ ملیہ کی طالبہ نے روتے ہوئے بتایا کہ پولیس غیر قانونی طور پر متنازع شہرت بل پر مظاہرہ کرنےو الے طلبہ کو روکنے کے نام پر یونیورسٹی میں داخل ہوئی اور مظاہرہ کرنے والے طلبہ کو بدترین تشدد کا نشانہ بنایا۔

طالبہ کا کہنا تھا کہ پولیس نے مظاہرہ کرنے والے طلبہ کو تو تشدد کا نشانہ بنایا ہی مگر پولیس نے پر امن رہنے والی طالبات کو بھی ہراساں کیا اور زبردستی گرلز ہاسٹل میں گھس آئی۔

رونے والی طالبہ نے بتایا کہ وہ ہندو ہیں اور وہ دوسری ریاست سے دہلی میں یہ سوچ کر تعلیم حاصل کرنے آئی تھیں کہ یہ شہر دارالحکومت ہونے کی وجہ سے پر امن ہوگا مگر آج نہیں بہت ڈر لگ رہا ہے۔

طالبہ کا کہنا تھا کہ انہیں ہندو ہونے کے باوجود تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور یونیورسٹی میں توڑ پھوڑ کرکے انہیں ان کے گھر سے محروم کردیا گیا کیوں کہ یونیورسٹی ان کا گھر تھی۔

طالبہ نے مزید کہا کہ یہ کیسی جمہوریت ہے کہ احتجاج کرنے والوں پر تشدد کیا جا رہا ہے، ہندو طالبہ نے روتے ہوئے کہا کہ اب ‘بھارت‘ رہنے کے قابل نہیں رہا۔