بلاول کی پیشکش پر ایم کیو ایم کے مثبت ردعمل کے نے حکومت کو ہلا کر رکھ دیا پیپلزپارٹی مقامی حکومتوں کو قانونی ترمیم کے ذریعے با اختیار بنادے تو متحدہ بھرپور ساتھ دے گی۔ترجمان ایم کیو ایم

چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری کی پیش کش کے جواب میں متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) کا کہنا ہے پیپلزپارٹی مقامی حکومتوں کو قانونی ترمیم کے ذریعے با اختیار بنادے تو متحدہ بھرپور ساتھ دے گی۔ترجمان ایم کیو ایم کا کہنا ہے کہ واٹربورڈ، کے ڈی اے، ایل ڈی اے اور بلڈنگ کنٹرول بھی مقامی حکومت کے ماتحت کیے جائیں۔ایم کیو ایم نے کہا کہ ہم وفاقی حکومت کی ڈیڑھ سالہ کارکردگی سے مطمئن نہیں ہیں، تاہم حکومت سے علیحدگی کا فیصلہ کسی کی خواہش پر نہیں کریں گے۔قبل ازیں
متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) پاکستان سے تعلق رکھنے والے میئر کراچی وسیم اختر نے پاکستان پیپلزپارٹی (پی پی پی) کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی جانب سے وفاق حکومت گرانے میں ساتھ دینے کی صورت میں سندھ میں وزارتیں دینے کی پیش کش کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ ہماری پارٹی اس پر سوچ سکتی ہے۔کراچی میں میڈیا سے گفتگو کے دوران میئر وسیم اختر کا کہنا تھا کہ ‘ہماری پارٹی ہوسکتا ہے اس پر بیٹھے اور تبادلہ خیال کرے کہ آگے کیا کیا جاسکتا ہے، کیونکہ یہ کسی کا انفرادی معاملہ نہیں ہے’۔بلاول بھٹو کی کراچی میں ترقیاتی کام کے حوالے سے مذکورہ پیش کش پر ان کا مزید کہنا تھا کہ ‘ہماری پارٹی اور رابطہ کمیٹی اس پر سوچ سکتی ہے’۔
قبل ازیں بلاول بھٹو زرداری نے کہا تھا کہ ‘ہم چاہتے ہیں کہ کراچی میں ترقی ہو کیونکہ یہاں پورے پاکستان کے ہر صوبے سے تعلق رکھنے والے لوگ آکر بستے ہیں لیکن ہمیں اپنی ضرورت کے مطابق وسائل نہیں دیے جاتے ہیں جس کے لیے ہمیں وفاق سے اپنا حصہ چھیننا پڑے گا’۔کراچی کے مسائل پر بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ بینظیر بھٹو کے متعارف کردہ پبلک پرائیوٹ پارٹنرشپ کے طریقہ کار پر چلنے کی کراچی میں بہت صلاحیت ہے، لہٰذا ہمیں مل کر سوچنا ہوگا کہ ہم کیسے کراچی کے لیے کام کرسکتے ہیں۔
لانڈھی اور کورنگی میں منصوبوں کی افتتاحی تقریب میں خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ دوران خطاب میں ایم کیو ایم پاکستان کی جانب اشارہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ‘میں اپنے پرانے ساتھیوں کو کہنا چاہتا ہوں کہ جو ظلم کراچی کے ساتھ ہورہا ہے اسے روکا جاسکتا ہے، (اس کے لیے) وفاقی حکومت سے اتحاد کو ختم کریں اور عمران کی حکومت کو گرادیں’۔
چیئرمین پیپلز پارٹی کا کہنا تھا کہ ‘میں ان سے کہنا چاہتا ہوں کہ جتنی وزارتیں وفاق میں ایم کیو ایم کے پاس ہیں ہم انہیں سندھ میں دینے کے لیے تیار ہیں بس شرط یہ ہے کہ عمران کو گھر بھیج دیں، اس صوبے کو اس کا حصہ دلوا دیں ہم ساتھ مل کر اس صوبے کو ترقی دلوا سکتے ہیں’۔انہوں نے کہا کہ ‘امید ہے آج نہیں تو کل ان کو یہ فیصلہ لینا پڑے گا، پاکستان کو بچانا پڑے گا اور نیا پاکستان ختم کرنا پڑے گا’۔
دوسری جانب پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے سینیٹر شبلی فراز نے بلاول بھٹو کے بیان پر جواب دیتے ہوئے کہا کہ اس لگتا ہے کہ سندھ حکومت خطرے میں ہے۔
خیال رہے کہ یہ پہلا موقع نہیں ہے کہ میئر کراچی نے پی ٹی آئی کی جانب سے کراچی کو نظرانداز کرنے کی شکایت کی ہو اس سے قبل بھی متعدد مرتبہ وہ اس کا اظہار کرچکے ہیں
۔
تاہم شبلی فراز کی یہ خوش فہمی جلد ختم ہوگئ جب ایم کیو ایم کے ترجمان نے پیپلز پارٹی کی اس آفر پر جوابی پیشکش کر دی ۔