
ارکان پارلیمنٹ نے بڑھتی مہنگائی کے تناسب سے اپنی تنخواہوں اور مراعات میں اضافے کا بل تیار کر لیا ۔تین فروری بروز پیر کو بل سینٹ کے اجلاس میں پیش کیا جائے گا۔ پیر کے لئے سینٹ کے شیڈول اجلاس کا جو ایجنڈا جاری کیا گیا ہے اس میں پاکستان پیپلز پارٹی کے علاوہ حکومت اور اپوزیشن سے تعلق رکھنے والے متعددارکان سینٹ جن میںسینٹر نصیب اللہ ، ساجد طوری،سردار یعقوب ، دلاور خان،اشکوک کمہار اور شمیم آفرید ی شامل ہیں کی جانب سے تیار کردہ ارکان پارلیمنٹ کی تنخواہوں، مراعات اور الاونسز میں اضافے کا ترمیمی بل )سیلریز اینڈ الاونسز ترمیمی بل) 2020 بھی شامل کرلیا گیا ہے۔بل میں چیئرمین سینیٹ اور قومی اسمبلی کے اسپیکر کی تنخواہ سپریم کورٹ کے ججوں اور ڈپٹی چیئرمین سینیٹ اور ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی کی تنخواہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے ججوں کے برابر کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔بل میں کہا گیا ہے کہ اسپیکر قومی اسمبلی اور چئیرمین سینیٹ کی تنخواہ 2 لاکھ 25 ہزار سے بڑھا کر سپریم کورٹ کے جج کی بنیادی تنخواہ 8 لاکھ، 79 ہزار روپے کے برابر مقرر کی جائے۔ڈپٹی چئیرمین سینیٹ اور ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی کی تنخواہ 1 لاکھ 85 ہزار سے بڑھا کر 8 لاکھ 29 ہزار روپے اسلام آباد ہائی کورٹ کے جج کی بنیادی تنخواہ کے برابر کرنے کے تجویز دی گئی ہے۔ بل ارکان پارلیمنٹ کی تنخواہوں اور مراعات ایکٹ میں ترمیم کرکے اراکین کی تنخواہ 1 لاکھ 50 ہزار روپے سے بڑھا کر 3 لاکھ روپے مقرر کرنے کی تجویز شامل ہے۔مجوزہ بل میں کہا گیا ہے کہ اراکین پارلیمنٹ کو سفر کے لیے ٹرین کی ائیر کنڈنشنڈ کلاس ٹکٹ کے برابر رقم دی جائے اور جہاز کے بزنس کلاس کے ٹکٹ کے مطابق سفری الاونس دیا جائے۔سینیٹرز نے تجویز پیش کی ہے کہ بذریعہ سڑک سفر کی صورت میں اراکین پارلیمنٹ کو 25 روپے فی کلومیٹر سفری الاونس دیا جائے اور بیرون ملک دوروں میں فرسٹ کلاس ائیر ٹکٹ بھی دیا جائے۔ سینیٹ میں پیش ہونے والے بل میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ اراکین پارلیمنٹ کو 25 فرسٹ کلاس بزنس ائیر ٹکٹ فراہم کیے جائیں، اندرون ملک سفر کے لیے اراکین پارلیمنٹ کی اہلیہ، شوہر یا بچے بھی ان ٹکٹوں کو استعمال کر سکیں گے۔بل کے اغراض و مقاصد میں سینیٹرز نے موقف اپنایا ہے کہ چئیرمین، ڈپٹی چئیرمین سینیٹ، اسپیکر اور ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی اور دیگر اراکین پارلیمنٹ کو کو ملنے والے تنخواہ ان کے روزانہ کے اخراجات برداشت کرنے کے لیے ناکافی ہیں۔بل میں کہا گیا ہے کہ ملک میں ہونے والی حالیہ مہنگائی اور روپے کی قدر میں کمی نے عام شہریوں کی طرح چئیرمین سینیٹ اور اسپیکر قومی اسمبلی کو بھی متاثر کیا ہے۔سینیٹ میں اپوزیشن کی دوسری بڑی جماعت پاکستان پیپلزپارٹی کی رکن شیری رحمن نے اس تجویز کی مخالفت کرتے ہوئے کہا ہے کہ پی پی پی اس بل کی حمایت نہیں کرے گی۔شیری رحمن کا کہنا تھا کہ بزنس ایڈوائزری کمیٹی میں بل کی مخالفت کا واضح موقف دیا تھا۔خیال رہے کہ گزشتہ دونوں اسلام آباد میں ایک تقریب کے دوران وزیراعظم عمران خان نے کہا تھا کہ آج میں اپنے گھر کا خرچ خود اٹھاتا ہوں، خزانے سے نہیں لیتا جبکہ مجھے جو تنخواہ ملتی ہے اس سے گھر کے اخراجات پورے نہیں ہوتے۔




