اسلام آباد:سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے سائنس و ٹیکنالوجی کو بتایاگیا کہ وزیر اعظم ہاوس میں نہیں اس کے عقب میں سائنس اینڈ انجینئرنگ یونیورسٹی بنائی جائے گی، وزارت سائنس وٹیکنالوجی کے حکام نے بتایا کہ سی ڈی ڈبلیوپی سے منظوری کے بعد کرائے کی عمارت میں یونیورسٹی شروع کردیں گے،الیکٹرک وہیکل کے لئے پاکستان میںلیتھئیم بیٹری بنائیں گے اور برآمد کریں گے ۔چیرمین کمیٹی نے کہاکہ سائنس فاونڈیشن سائنس کی ترقی کے لئے میرے پاس تم ہو جیسی ڈاکیو منٹری بنا ئے ،کمیٹی نے سائنس سکول میں سالانہ ایک ہزار بچوں کو داخل کرنے کی سفارش کردی ،پاکستان سائنس فانڈیشن کا سربراہ نہ لگانے پر کمیٹی نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے جلدسربراہ لگانے کی سفارش کی ہے۔دوسال سے سربراہ کے بغیر ادارہ کام کررہاہے جو کہ تشویش ناک صورتحال ہے۔بدھ کوسینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے سائنس و ٹیکنالوجی کا اجلاس سینیٹر مشتاق احمد خان کی سربراہی میں پارلیمنٹ ہاوس میں ہوا۔اجلاس میں سینیٹرنزہت صادق اور وزارت سائنس و ٹیکنالوجی کے حکام نے شرکت کی ۔چئیرمین کمیٹی سینیٹر مشتاق احمدخان نے کہاکہ جب بھی قدرتی آفات آتی ہیں تو آرمی کو محاذ پر بھیج دیا جاتا ہے۔کراچی میں زہریلی گیس کا مسئلہ ہوا تب بھی فوج کو بلایا گیازہریلی گیس کی تحقیق کرنا سائنس دانوں کا کام تھا۔ وزارت سائنس و ٹیکنالوجی کو اس مسئلے پر فوری کام کرنا چاہئے تھا۔وزارت سائنس کی جانب سے کمیٹی کو سائنس ٹیلنٹ فارمنگ اسکیم پر بریفنگ دیتے ہوئے حکام نے کہاکہ 12سو بچے داخل ہوچکے ہیں ۔چیرمین کمیٹی نے کہاکہ سائنس ٹیلنٹ فارمنگ اسکیم منصوبے میں صرف سرکاری اور دور دراز علاقوں کے طلبا کو تربیت دی جائے۔یقینی بنایا جائے کہ اس منصوبے میں پرائیویٹ سکولوں کو شامل نہ کیا جائے۔پرائیوٹ سکولوں کو اور بہت مواقع اور مراعات حاصل ہیں۔سرکاری سکولوں کے طلبا کو بہت کم مواقع حاصل ہوتے ہیںپاکستان سائنس فاونڈیشن کا کام سائنس کا پالرائزیشن ہے۔ کیا سائنس فاونڈیشن سائنس کی ترقی کے لئے میرے پاس تم ہو جیسی ڈاکیو منٹری نہیں بنا سکتی۔بچوں کو سائنس کے لئے راغب کرنے کے لئے ڈاکیومنٹری ضروری ہے۔کمیٹی کو پاکستان یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ایمرجنگ ٹیکنالوجی منصوبے پر بریفنگ دیتے ہوئے کہاکہ ہمارے ملک میں تعلیم کے درمیان خلیج ہے دنیابھر میں ٹیکناجوجسٹ کی ڈگری ہوتی ہے مگر یہاں پر اس پر کوئی توجہ نہیں ہے جس پر چئیرمین کمیٹی نے کہاکہ پاکستان میں ٹیکنالوجسٹ کو کچھ سمجھا ہنہیں جاتا۔اگر ان کی بات کی جائے تو پاکستان انجینئرنگ کونسل والے ناراض ہوجاتے ہیں۔ممبر ٹاسک فورس برائے نالج اکانومی ڈاکٹر شعیب نے کہاکہ نالج اکانومی کے حوالے سے کل 27 منصوبے ہیں 6سانئس اینڈ ٹیکنالوجی کے منصوبے نالج اکانومی ٹاسک فورس نے بنائے ہیں وزیراعظم ہاوس کو یونیورسٹی بنانا بھی ایک منصوبہ ہے۔جس میں بائیو ٹیکنالوجی، مائیکرو ٹیکنالوجی، آرٹیفیشل ٹیکنالوجی پر توجہ دیں گے اورماسٹر اور پی ایچ ڈی کے طلب علموں کو داخلہ دیں گے۔یونیورسٹی پرآج اجلاس ہے وزیراعظم ہاوس وزیراعظم ہاوس رہے گا۔وزیر اعظم ہاوس کے عقب میں سائنس اینڈ انجینئرنگ یونیورسٹی بنائی جائے گی اور اس کا راستہ قائداعظم یونیورسٹی کی طرف سے ہوگا۔سنٹر آف ایکسیلنس بنارہے ہیں۔ملک بھر میں اس طرح کوئی یونیورسٹی نہیں ہے پاکستان میں جامعات کی تعداد ابھی بھی کم ہے ۔سی ڈی ڈبلیو پی ہوچکی ہے جیسے ہی منظوری ہوجائے تو کرایے کی عمارت میں یونیورسٹی شروع کریں گے۔پاکستان کی 1.1ارب ڈالر آئی ٹی کی برآمدات ہیں۔نینو میٹریل کی انڈسٹری پر بنانے کے لیے ایک منصوبہ بنایا ہے۔ہیلتھ سائنسز میں آرٹیفیشل انٹیلیجنس کا منصوبہ ہے کامسٹس یونیورسٹی لاہور کا ایک بائیو میڈیکل میٹریل کا منصوبہ ہے اس کے فنڈر جاری ہوچکے ہیں۔اسکالر شپ پروگرام پر کمیٹی کو بریفنگ دیتے ہوئے حکام نے کہاکہ 250 پی ایچ ڈی اور 450 طلبا ماسٹر ڈگری کے طلبا کو اسکالر شپ پر باہر بھیجا جائے گا۔طلبا کو ایڈوانس سکلز کے لئے اسکالر شپ پر بھیجا جائے گا۔ الیکٹرک وہیکل کے لئے سب کچھ پاکستان میں کرنا مشکل ہو گا۔لیتھئیم بیٹری پر اگر فوکس کیا جائے تو اچھے نتائج حاصل ہو سکتے ہیں۔ چئیرمین کمیٹی نے کہاکہ نئی کی بجائے پہلے سے موجود یونیورسٹیوں کی استعداد کار میں اضافہ کیا جائے۔ پہلے سے موجود یونیورسٹیاں مالی خسارے کا شکار ہیں۔ چئیرمین کمیٹی پہلے سے موجود سیٹ اپ کو مزید پائیدار کرنا زیادہ فائدہ مند ہو گا۔ چئیرمین کمیٹی نے کہاکہ کیا اس منصوبے کے لئے جگہ ڈھونڈی گئی ہیں جہاں سے لیتھئیم ؟ریکوڈک پر آپ کیوں نہیں کچھ کر رہے۔ اگر ہم اپنے وسائل استعمال کر کے ریکوڈک پر کام کریں تو پاکستان کو فائدہ ہو گا۔ ریکوڈک پر 1500سوارب روپے اداکرنے ہیں اس کے بعد ہی ریکوڈک کو ہاتھ لگاسکتے ہیں۔ اور وزیراعظم کہے رہے ہیں کہ قرض ادا کریں گے ۔


