
اسلام آباد: پاکستان ورکرز فیڈریشن، پاکستان فیڈریشن آف بلڈنگ اینڈ ووڈ ورکرز اور سی ڈی اے مزدور یونین کے باہمی اشتراک سے چوک ورکرز کو منظم کرنے کے حوالے سے مہم کا باقاعدہ آغاز کر دیا گیا ہے، لیبر فورس کی ایک بہت بڑی تعداد اس پیشے سے منسلک ہے جو روزانہ روزگار کی خاطر بڑے شہروں کے چوکوں میں صبح سویرے اکھٹے ہونا شروع ہو جاتے ہیں۔ اس سلسلے میں پہلا پروگرام اسلام آباد کے چوک I-10 میں منعقد کیا گیا جس میں پاکستان ورکرز فیڈریشن ناردرن پنجاب، پاکستان فیڈریشن آف بلڈنگ اینڈ ووڈ ورکرز کے صدر اور سی ڈی اے مزدور یونین کے قائد چوہدری محمد یٰسین، PWF ناردرن پنجاب کے ایجوکیشنل سیکرٹری سید عطا ء اللہ شاہ، ماسٹر ٹرینر ڈاکٹر محمد اسحاق اور سی ڈی اے مزدور یونین کے ڈپٹی جنرل سیکرٹری اور ماسٹر ٹرینر PWF اسد محمود اور آرگنائزر برائے چوک ورکرز عمران عباس نے شرکت کی، آگاہی پروگرام میں چوک میں بیٹھے مزدوروں نے کثیر تعداد میں شرکت کی، مزدوروں سے خطاب کرتے ہوئے سی ڈی اے مزدور یونین کے قائد چوہدری محمد یٰسین نے کہا کہ پاکستان میں پہلی مرتبہ مزدوروں کی تنظیم PWF نے مزدوروں کے اس طبقے کے حقوق کی بات کی ہے، مزدوروں کا یہ طبقہ غیر رسمی شعبے میں آتا ہے جس کی ایک بڑی تعداد پاکستان کی لیبر فورس کا حصہ ہے۔ یہ مزدور غربت کی لکیر سے نیچے زندگی بسر کر رہے ہیں اور افسو س کی بات یہ ہے کہ آج تک کسی حکومت نے ان مزدوروں کے حقوق کے حوالے سے کوئی اقدامات نہیں کیے ہیں اور نہ ہی ان کے لیے قانون سازی کی گئی ہے جس کی وجہ سے ان کو کوئی قانونی تحفظ حاصل نہیں ہے، پاکستان ورکرز فیڈریشن نے ان چوک مزدوروں کو منظم کرنے اور ان کے حقوق کے لیے باقاعدہ مہم کا آغاز کیا ہے تا کہ ان مزدوروں کو منظم کرنے کے ساتھ ساتھ ان مزدوروں کے لیے قانون سازی کر کے ان کی سماجی تحفظ کے اداروں میں رجسٹریشن کویقینی بنایا جائے تاکہ ان مزدوروں کو مراعات و سہولیات مل سکیں،پاکستان ورکرز فیڈریشن نے ابتداء میں اسلام آباد شہر میں مختلف بڑے چوکوں کو اس مہم کا حصہ بنایا ہے اس کے بعد انشاء اللہ ان مزدوروں کے حقوق کے حوالے سے جدوجہد کی جائے گی،انھوں نے وزیر اعظم پاکستان،چیف کمشنر اسلام آباد اور متعلقہ اداروں سے بھی مطالبہ کیا کہ ان مزدوروں کو وزیرا عظم مزدور احساس پروگرام میں شامل کیا جائے اور اس پر عمل درآمد کو یقینی بنایا جائے تا کہ ان مزدوروں کو حقوق مل سکیں۔ ان مزدوروں کے لیے جائے کار پر پناہ گاہیں بنا کر دی جائیں تا کہ یہ مزدور موسمی اثرات سے بچ سکیں اور ان کو قانونی تحفظ مل سکے۔


