
چین کے متعلق یہ نیا سفر نامہ ، "چین سے چین تک ” حال ہی میں شائع ہوا ہے اور ماضی کے تمام سفر ناموں سے مختلف انداز لئے ہوئے ہے۔ یہ سفر نامہ محمد کریم احمد نے تحریر کیا ہے۔ موصوف ریڈیو پاکستان سے بطور سینیئر پروڈیوسر وابستہ ہیں اور چائنہ ریڈیو انٹر نیشنل ( اب چائنہ میڈیا گروپ) کی اردو سروس سے بطور فارن ایکسپرٹ تین برس تک وابستہ رہے۔
اس دوران انہوں نے چینی سماج، چین میں ہونے والی ترقی، ر وایت و جدت کے امتزاج ، چینی شہریوں کے ڈسپلن ، روزمرہ معاملات میں جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کا مشاہدہ کیا اور اس کو بڑی خوبصورتی سے قلمبند کیا۔ سفر نامے کی یہ خوبی ہے کہ اس کو پڑھنے والا ایک لمحے کے لئے بھی یہ محسوس نہیں کرتا کہ وہ کوئی کتاب پڑھ رہا ہے۔ قاری کو یہی محسوس ہوتا ہے کہ وہ خود چین میں ہے اور یہ سب کچھ اپنی آنکھوں سے دیکھ رہا ہے۔

اس سفر نامہ کی ایک خاصیت یہ ہے کہ اس میں چینی سماج کی ہمہ جہت ترقی کو ادبی انداز میںتحریر کیا گیا ہے اور یہ بتا یا گیا ہے کہ چین نے کس خوبصورتی سے روایت و جدت کو ہم آہنگ کیا ہے۔ کتاب میں چین میں اردو زبان کی بڑھتی ہوئی مقبولیت کا تذکرہ اور چینی سماج میں قابل فخر کردار ادا کرتے پاکستانیوں کا ذکر بھی ہے۔ چین کی مرحلہ وار معاشی ترقی اور بدلتے حالات کے مطابق اپنے آپ کو ڈھالنے اور دنیا کی معاشی طاقت بننے کاراز بھی اس سفر نامہ سے آشکار ہوتا ہے
چینی سیاسی بندوبست اور اس میں چینی شہریوں کی شمولیت ، نظام کی شفافیت اور چینی حکومت کی جانب سے اپنے و غیر ملکی شہریوں کے لیے سہولتوںکی فراہمی کا ذکر بھی مصنف نے کیا ہے۔
اس سفر نامہ کو پڑھ کر محسوس ہوتا ہے کہ چین نے کس طرح ا پنے آپ کو جدید تقاضوں کے مطابق ڈھالا۔ اس میں ہمارے لیے سبق ہے کہ جدید دنیا میں ترقی کے لیے کس طرح کا لائحہ عمل اپنا نا چاہیے۔
اس سفرنامہ کے بارے میں ملک کے معروف دانشور،تجزیہ کار اور سابق نگران وزیر اعلی پنجاب ڈاکٹر حسن عسکری، اردو زبان کے معروف چینی شاعر ودانشور انتخاب عالم، ایڈیٹر ایکسپریس غلام محی ا لدین اور پاکستان پاورٹی ایلیویشن فنڈ کے سینیئر جنرل مینیجر منذ را لہی نے اپنے تاثرات کا ا ظہار کیا ہے ۔

اس سفرنامہ کو فکشن ہائوس لاہور نے شائع کیا ہے اور اس کی قیمت چھ سو روپے ہے۔ آپ اس کو لاہور ، حیدر آباد اور کراچی میں فکشن ہائوس سے خرید سکتے ہیں ۔



