وزیراعظم نے پٹرولیم مصنوعات میں کمی سمیت کئی مراعات کے اعلان کر دیا

وزیراعظم عمران خان نےکہاہے کہ ہمیں خطرہ کورونا سے نہیں بلکہ خوف سے غلط فیصلے کرنے سے ہے،ہمیں تمام فیصلے سوچ سمجھ کرکرنے ہوں گے۔ کورونا کے باعث معاشی پیکج کا اعلان کردیا ہے، پٹرول اور ڈیزل کی قیمت 15روپے فی لیٹر کم کررہے ہیں،صنعتوں اورزراعت کو کم شرح سود پیکج دینے،غریب خاندانوں کیلئے 150ارب، یوٹیلٹی اسٹورز کو مزید 50ارب،اور گندم خریداری کیلئے280ارب روپیہ رکھے ہیں۔ سینئر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں کنفیوژن پھیلی ہوئی ہے کہ پتا نہیں کیا ہوجائے گا، لیکن میں بتا دوں کلیئر کردوں کہ ہم نے جب قومی سلامتی کمیٹی کی میٹنگ کی تھی تو لاک ڈاؤن تب ہی شروع ہوگیا تھا، سکولوں میں چھٹیاں کردی تھیں، اجتماعات پر پابندی لگا دی تھی، تب صرف 21کیسز تھے۔
اب ملک میں چل پڑا کہ سندھ یہ ایکشن لے رہا ہے، جبکہ پنجاب اور وفاق کوئی ایکشن نہیں لے رہا۔ انہوں نے کہا کہ لاک ڈاؤن کی آخری اسٹیج کرفیو ہے، کرفیو لگانے سے ہمارے پر جو اثرات پڑیں گے ہم ان کا سوچ بھی نہیں سکتے، ہماری ستر سالہ تاریخ یہ ہے کہ پرائیویٹ سکولوں کا نظام ہے، سارے پیسے ادھر لگائے جارہے ہیں، عدالتی نظام یہ ہے کہ جلیں کمزوروں سے بھری پڑی ہیں، ہسپتالوں کا نظام دیکھیں تو کوئی کوالٹی ہسپتال نہیں سرکاری ہسپتال صرف غریبوں کیلئے رہ گئے اور طاقتور باہر جاتے ہیں یا پھر سرکاری ہسپتالوں میں علاج کرواتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ میں اگر ڈیفنس میں رہتا ہوں تو کرفیو لگا دیں مجھے کوئی فرق نہیں پڑے گا۔ لیکن جہاں ایک چھوٹے گھر میں ماں باپ بچے رہتے ہیں وہاں کیسے کرفیولگائیں گے؟کرفیو لاک ڈاؤن کی آخری اسٹیج ہے، میں اٹلی یا فرانس میں ہوتا تو وہاں مجھے کرفیو لگانے میں کوئی دقت نہ ہوتی، کیونکہ پاکستان کے حالات مختلف ہیں۔ہمارے پاس وسائل نہیں کہ چھابڑی والوں کو گھروں میں رکھ کر ان کو وسائل مہیا کریں۔
عمران خان نے کہا کہ ہم دیکھ رہے ہیں کہ لاک ڈاؤن کے کیا اثرات آرہے ہیں؟ ہم مسلسل بیٹھ کر جائزہ لے رہے ہیں جو بھی قدم اٹھائیں اس کا کیا اثر ہوگا؟ ہم نے اپنے بزنس کمیونٹی کی مدد کرنے کیلئے بڑا سوچ سمجھ کر معاشی پیکج بنایا، ہم نے مزدوروں کیلئے 200ارب روپیہ رکھا ہے، اس میں صوبوں سے بھی بات کریں گے،کہ وہ اس پیکج پر ہماری کیا مدد کررہے ہیں؟ دوسرا ایکسپورٹ اور انڈسٹری جو سب سے زیادہ متاثر ہورہے ہیں، ان کو فوری طور پر 100ارب کے فنڈز دیں گے۔
سمال اینڈ میڈیم انڈسٹری اور زراعت کیلئے 100ارب رکھا ہے، ان کو کم شرح سود پر قرضے بھی دیں گے۔چوتھا سب سے مشکل حالات میں خاندانوں کیلئے 150ارب رکھ رہے ہیں، ان خاندانوں کوڈیڑھ ہزار ماہانہ دیں گے،صوبے بھی مدد کریں۔یہ فیصلہ بھی کیا کہ پناہ گاہوں کا مزید دائرہ کار بڑھا دیں گے،تاکہ بیروزگار لوگ وہاں آسکیں۔ یوٹیلٹی اسٹورز کو مزید 50ارب دیا ہے۔ گندم خریداری کیلئے280ارب روپیہ رکھا ہے، اب گندم کی کتائی بھی شروع ہوگئی ہے۔ اسی طرح پٹرول اور ڈیزل مصنوعات پر15روپے فی لیٹر کم کررہے ہیں۔100ارب روپیہ ایمرجنسی حالات کیلئے رکھا ہے۔