اسلام آباد(نیوزرپورٹر) ترقیاتی تنظیم پتن اور لیبر قومی موومنٹ صوبہ پنجاب کی جانب سے ایک مشترکہ بیان میں کہا گیا ہے کہ پنجاب حکومت نے سماجی کارکنوں اور تنظیموں پر پابندی لگا کر ضرورت مندوں کو ملنے والی ہر قسم کی امداد کا گلا گھونٹنے کی کوشس کی ہے ایک ایسے وقت میں جب جب امداد ی سرگرمیان تیز کرنے کی ضرورت ہے بظاہراس اقدام کا مقصد سماجی دوری /تن دوری کے عمل کی خلاف ورزی کو روکنا ہے ۔ حکومت پنجاب کا حکمنامہ سماجی کارکنوں یااداروں کو پی ڈی ایم اے(Provincial Disaster Management Authority) کے ذریعے امدادی سرگرمیوں انجام دینے کا راستہ دکھاتا ہے ، جوامدادی سرگرمیاں حکومت کے مروجہ معیارات او ر پروٹوکول کے تحت انجام دیگی ۔ بیان میں اس امر پر تشویش ظاہر کی گئی ہے کہ سرکاری حکمنا مہ میں یہ لازم قرار دیا گیا ہے کہ تمام سماجی کارکنوں اور تنظیموں کو ڈی سی آفس سے این ا و سی حاصل کرنے کیلئے درخواست دینا ہوگی ۔آیا ڈی سی آفس اور پی ڈی ایم اے اتنا اسٹاف رکھتے ہیں جو تما م درخوست گزاروں کو جنگی بنیادوں پر این او سی جاری کر سکیں ؟ پھر اس بات کی کیا ضمانت ہے کہ سرکاری افسران ،این او سی حاصل کرنے والے سماجی کارکنوں اورتنظیموں سے سماجی فاصلے/تن دوری کے معیار کو قائم رکھوا سکیں گے ؟ حکومت نے اس بات کا تخمینہ لگا یا ہے کہ اس سارے عمل کو کتنا وقت درکا رہے ، اور یہ اس آبادی پر کس حد تک اثر اندازہوگا، جو پہلے ہی امداد میں تاخیر کا شکار ہے ؟بیان میں کہا گیاہے کہ ہم حکومت پر زور دیتے ہیں کہ وہ اپنے اس حکمنامے کو واپس لینے پر غور کرے اور عوامی آگہی کیلئے سماجی فاصلے /تن دوری اور دیگر احتیاطی تدابیر کو سوشل میڈیا اور ٹی وی چینلز کے ذریعے مشتہر کرے ۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ سچ ہے کہ اکثر سماجی کارکن یا ادارے امدادی سرگرمیوں کے دوران سماجی فاصلہ/تن دور ی قائم رکھنے کا خیال نہیں رکھتے ، جو کرونا وائرس کی روک تھا م کی بنیادی احتیاط ہے ۔ لیکن جو حل حکومت نے تجویز کیا ہے وہ بھی موزو ں نہیں۔ جب سے کرونا وائرس پھیلا ہے ، پنجا ب حکومت بھوک زدہ خاندانوں میں راشن اور امداد پہنچانے میں بری طرح ناکام رہی ہے ۔ حکومت ابھی تک حاجت مندوں سے درخواستیں وصول کر رہی ہے ،جن کا تجزیہ کیا جائیگااوربعد ازاںنقد امداد خوش قسمتوں تک پہنچے گی ۔ اس عمل پر ہفتوں لگ جائیں گے ۔ اس دوران سرکاری امداد کے درمیان محیط خلا کو سماجی کارکن اور تنظیمیں پر کررہی ہیں ۔ اب اس حکم کے ذریعے حکومت پنجاب عوام کی طرف کی جانیوالی امداد کا گلا گھونٹنا چاہتی ہے ۔ یقینا یہ طریقہ کار بحران کو مزید بڑھانے کا سبب بنے گا۔ اس سے بڑھ کر ، ہماری سوچی سمجھی رائے ہے کہ سرکاری افسران (بشمول ڈی سی اور پی ڈی ایم اے اس بڑی سطح کی سرگرمی انجام دینے کا بہت کم تجربہ اورصلاحیت رکھتے ہیں ۔ ان کی سابق آفات میں ناقص کارکردگی کی بدولت عوامی سطح پر اعتماد کا فقدان پایا جاتاہے ۔



