پی سی بی انتظامیہ کے کرکٹ دشمن فیصلوں نے ملک کے مقبول ترین کھیل کو تباہی کے دھانے پر پہنچادیا،آئی سی سی کے آئین کی بھی خلاف ورزی ہو رہی ہے ،شکیل شیخ

 

اسلام آباد:پی سی بی گورننگ بورڈ کے سابق رکن، کرکٹ کمیٹی کے سابق چیئرمین اور اسلام آباد ریجنل کرکٹ ایسوسی ایشن کے سابق صدر شکیل شیخ نے الزام عائد کیا ہے کہ پاکستانی کرکٹ بورڈ آمریت کے بد ترین شکنجے میں ہے ۔آمروں کے غلط فیصلوں سے ملک کا مقبول ترین کھیل تباہی کے دھانے پر پہنچ گیا ہے۔ منتخب نمائندوں کو ان کے حق سے محروم کر دیا گیا ہے چند افراد کرکٹ دشمن فیصلے کر رہے ہیں۔ملکی کرکٹ میں آمریت کا راج ہے اور آئی سی سی کے آئین کی خلاف ورزی ہو رہی ہے۔ ایک نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں اظہار خیال کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کرکٹ بورڈ میں نا اہل لوگ اہم عہدوں پر موجود ہیں۔پیسے کو بے دریغ لوٹا جارہا ہے صرف نو آفیشلز کی ماہانہ تنخواہ ایک کروڑ اٹھائیس لاکھ سے بھی زیادہ ہے۔ چئیرمین احسان مانی کے کھیل دشمن فیصلے پاکستان کرکٹ کے لیے تباہ کن ہیں۔ چیف ایگزیکٹو وسیم خان انتظامی طور پر ناکام شخص ہیں۔ لیسٹر شائر کے ایک کوچ کہتے ہیں کہ ایسے ایڈمنسٹریٹرز کی موجودگی میں پاکستان کرکٹ کے لیے دعا ہی کی جا سکتی ہے۔ امپورٹڈ سی۔ ای۔ او کی لیسٹر شائر میں چار سالہ کارکردگی ناکامیوں کی داستان ہے۔ جب وسیم خان وہاں تھے تو کاونٹی کی کارکردگی مسلسل تنزلی کا شکار رہی۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ کرکٹ بورڈ کے تمام فیصلے غیر قانونی ہیں۔ بھاری فنڈ آفیشلزکی تنخواہوں پر خرچ کیے جا رہے ہیں اور ملک بھر میں کرکٹ کی سرگرمیاں ختم ہو کر رہ گئی ہیں۔ ہائی پرفارمنس سنٹر کے نام پر سرمایہ لٹانے کا ایک اور طریقہ نکالا گیا ہے۔ ایں سی۔ اے کو ہائی پرفارمنس سنٹر میں بدلنے کا مقصد صرف اور صرف اپنے ملکی و غیر ملکی دوستوں کو نوازنا ہے۔ آئی۔ سی۔ سی میں ان کے خلاف فیصلے ہو رہے ہیں۔ ملکی تاریخ میں پہلی مرتبہ اسلام آباد کو ہر طرز کی کرکٹ کی میزبانی سے محروم کرنا آئی۔ سی۔ سی کے آئین کی بھی خلاف ورزی ہے۔ انہوں نے کہا اس آمریت سے جلد از جلد چھٹکارا حاصل کرنا ہو گا۔ بورڈ میں اہم عہدوں پر موجود افراد انتظامی حیثیت سے ناکام ہو چکے ہیں۔

دنیا بھر میں تنخواہوں اور اخراجات میں کمی کی جا رہی ہے۔ کرکٹ آسٹریلیا نے 80 فیصد تک کٹوتی کی ہے۔ ہمارے بورڈ میں ایسی سوچ کا نہ ہونا عہدیداروں کی تنگ نظری کا ثبوت ہے۔ شکیل شیخ کا کہنا تھا کہ بورڈ میں جمہوریت کے نام پر بدترین آمریت قائم ہے۔ منتخب نمائندوں کو ان کے حق سے محروم کر دیا گیا ہے۔ فیصلے چند افراد کر رہے ہیں۔ تمام سٹیک ہولڈرز کو دیوار سے لگا دیا گیا ہے۔ محکمانہ کرکٹ ختم کر کے سینکڑوں کرکٹرز کا معاشی اور کھیل کا مستقبل داو پر لگا دیا گیا ہے۔ بورڈ کا موجودہ آئین حکومت سے منظور کروایا گیا ہے۔ جبکہ آئی۔ سی۔ سی کا آئین ایسے اقدامات کی نفی اور حوصلہ شکنی کرتا ہے۔ بورڈ میں سیاسی مداخلت بھی موجود ہے۔ ان حالا ت میں کھیل کو ناقابل تلافی نقصان پہنچ رہا ہے۔ جونیئر کرکٹ کو روک کر نئے کھلاڑیوں کا راستہ بند کر دیا گیا ہے۔