حکو مت کرونا اور بھوک کے چیلنج سے نمٹنے کی حکمت عملی بنانے میں ناکام رہی ہے،حکو مت کی یہ دکان کھولو وہ نہ کھولو کی پالیسی نہیں چلے گی،مرکزی تنظیم تاجران پاکستان کے صدر محمدکاشف چوہدری کی اسلام آباد میں پر یس کانفر نس

اسلام آباد: مرکزی تنظیم تاجران پاکستان کے صدر محمدکاشف چوہدری نے حکو مت سے مطالبہ کیا ہے کہ رمضان المبارک کے دوران ملک بھر میں ہر طر ح کے کاروبارکھولے جا ئیں، تاجر برادری کے صبر کا پیمانہ لبر یز ہو چکا ہے ، اگر حکو مت نے فیصلہ نہ کیا تو ملک بھر کے تاجر از خود پورے ملک میں کاروبار کھول دیںگے ،حکو مت نے یہ دوکان کھولو وہ نہ کھولو کی پالیسی اپنائی ہو ئی ہے ، جیسے کرونا صر ف چند خاص کاروباروں پر ہی حملہ کرتا ہے ،رمضان المبارک بہت سے کاروباروں کے لیے سال میںآمد نی کا ایک ہی مہینہ ہو تا ہے ،حکو مت کرونا اور بھوک کے چیلنج سے نمٹنے کی حکمت عملی بنانے میں ناکام رہی ہے ۔انھوں نے کہا حکمران لاک ڈاون کے حوالے سے کوئی لائحہ عمل مرتب نہیں کر سکے تاجروں کی دکانیں بند لیکن عملا پورا ملک آزادانہ گھوم رہاہے،تاجروں نے مشکل حالات میں اپنی قومی ذمہ داری پوری کی ہے جبکہ اس مشکل حالات میں بھی حکمران قومی پالیسی وضع نہیں کر سکے۔ان خیالات کا اظہار انھوں نے اسلام آباد میں پر یس کانفر نس سے خطاب کر تے ہو ئے کیا ۔ اس موقع پرمر کزی تنظیم تاجران پنجاب کے صدر شر جیل میر، ضیاء احمد راجہ طاہر تاج بھٹی ،ملک سجاد ، نسیم عباسی ، ملک عبدالرحمن ،اور دیگر تاجر رہنماء بھی اُن کے ہمراہ تھے ۔ محمد کاشف چوہدری نے کہا حالیہ لاک ڈائون کی وجہ سے ملک بھر کا کاروباری طبقہ شدید مالی مشکلات کا سامنا کر رہا ہے،تاجروں کے لیے دکانوں ، گھروں کا کرایہ اور ملازمین کی تنخواہیں اور یو ٹیلیٹی بلز ادا کر نا بھی مشکل ہو چکا ہے، کاروبار کھولنے کے SOPزمینی حقائق کے بر خلاف اور ناقابل عمل ہیں ،حکومتوں کی غیر سنجیدگی کے باعث کاروبار بند ہو نے کے باوجود عملا لاک ڈائون نہ ہو سکا اور لاک ڈائون کے فوائد اور نقصانات کا صحیح تجزیہ کر کے بر وقت فیصلہ کر نے بھی ناکام ہی ہے ، حکو مت کے پاس ٹیکس لینے کے لیے تو ڈیٹا موجود ہے مگر تاجروں کو امداد دینے کے لیے نہیں ،مر کزی اور صو بائی حکو متوں کے دعوئوں کے بر عکس بجلی بر وقت پہنچ رہے ہیں اور عدم ادائیگی پر میٹر کاٹے جا رہے ہیں ،وسائل ہو نے کے باوجود ریلیف دینے کے وعدے اعلانات تک محدود رہے ہیں ، انھوں نے کہا حکو مت خود کہہ رہی ہے کہ کرونا سے خوفزدہ ہو کر معیشت کا پہیہ روک کر زند ہ نہیں رہا جا سکتا اسلیے ہمارا مطالبہ ہے کہ کرونا سے بچتے ہوئے زند گی اور معیشت کے سفر کو بھی راوں دواں رکھنے کی منصو بہ بند کر نی چاہیے ، انھوں حکو مت لاک ڈائون میں مارکیٹیں کو بندکرنے کے باوجود سماجی فاصلے کے ضابطے پر عملدرآمد کروانے میں مکمل ناکام رہی ہیں۔