
مقامی عدالت کے ایڈیشنل سیشن جج محمد سہیل انجم نینے مسلم لیگ ن کے صدر اور قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف شہباز شریف کی وزیر اعظم عمران خان کے خلاف ہتک عزت کے دعوے کی جلد سماعت کی ایک متفرق درخواست پر فریقین کے وکلا ء سے10 جون کو جواب طلب کرلیا۔
شہباز شریف نے اپنے وکیل مصطفی رمدے کی وساطت سے درخواست دائر کی۔درخواست میں شہباز شریف نے موقف اختیار کیا کہ ہتک عزت کا دعوی 3 سال سے زیر التوا ہے، اب تک دعوی پر 60 سماعتیں ہوچکی ہیں، جن میں سے 33 میں عمران خان کے جونیئر وکلا نے التوا کی درخواست کی۔انہوں نے کہا کہ عمران خان کے وکیل بابر اعوان عدالت میں پیش نہیں ہو رہے، لہذا ان پر جرمانہ کیا جائے۔شہباز شریف نے عدالت سے استدعا کی تھی کہ دعوی کی جلد سماعت کی درخواست منظور کی جائے اور روزانہ کی بنیاد پر درخواست پر سماعت کی جائے۔
واضح رہے کہ عمران خان نے اپریل 2017 میں الزام لگایا تھا کہ شہباز شریف نے پاناما لیکس کے معاملے پر چپ رہنے اور موقف سے پیچھے ہٹنے کے لیے انہیں 10 ارب روپے کی پیشکش کی۔
اس الزام پر جولائی 2017 میں ہتک عزت کا دعوی دائر کرتے ہوئے اس وقت کے وزیر اعلی پنجاب نے پی ٹی آئی چیئرمین کے خلاف 10 ارب روپے ہرجانے کا کیس دائر کیا تھا۔درخواست میں کہا گیا تھا کہ وزیراعلی پنجاب شہباز شریف، جن کے بڑے بھائی نواز شریف وزیراعظم پاکستان کے عہدے پر تعینات ہیں، کا تعلق انتہائی معزز گھرانے سے ہے اور عوامی خدمت و فلاح و بہبود کی بنا پر درخواست گزار کا قومی اور بین الاقوامی سطح پر بہت عزت و احترام کیا جاتا ہے۔
شہباز شریف نے گزشتہ برس بھی عمران خان کے خلاف ایک لیگل نوٹس بھجوایا تھا جس میں جاوید صادق کو فرنٹ مین مقرر کرکے اربوں روپے وصول کرنے کے الزام پر معافی مانگنے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔
عمران خان کے فیس بک اکانٹ پر پوسٹ کی گئی اس ویڈیو میں عمران خان کو کہتے ہوئے سنا جاسکتا ہے کہ ‘اب وزیراعظم اس معاملے سے نکل نہیں سکتے تاہم اگر ہم چپ کرکے بیٹھ جائیں تو ان کے پاس بہت وسائل ہیں، جب مجھے چپ کرنے کے لیے 10 ارب روپے آفر کرسکتے ہیں تو یہ اداروں کو کتنا آفر کرسکتے ہیں؟’



