
وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کی ایک مقامی عدالت نے وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کو امریکی شہری سنتھیا ڈی رچی کے خلاف قانون کے مطابق انکوائری کرنے کا حکم دیا ہے۔عدالت نے اپنے حکمنامے میں کہا ہے کہ اگر انکوائری کے دوران سنتھیا رچی کے خلاف کافی شواہد دستیاب ہو جاتے ہیں تو ایف آئی اے اُن کے خلاف مقدمے کا اندراج بھی کرے۔
بی بی سی کے مطابق اسلام آباد کے ایڈشنل سیشن جج جہانگیر اعوان نے پیر کے روز یہ حکم سابق حکمران جماعت پاکستان پیپلز پارٹی کے ایک مقامی کارکن کی درخواست پر دیا۔
پاکستان پیپلز پارٹی اسلام آباد کے کارکن شکیل عباسی نے سنتھیا ڈی رچی کی جانب سے سابق وزیر اعظم بینظیر بھٹو کے خلاف نازیبا الفاظ استعمال کرنے پر مقدمے کے اندارج کے لیے درخواست دائر کی تھی۔شکیل عباسی کی جانب سے یہ درخواست عدالت میں اس وقت دائر کی گئی جب ایف آئی اے نے ان کی درخواست پر سنتھیا کے خلاف کارروائی کرنے سے انکار کیا تھا۔مقامی عدالت میں اس درخواست کی سماعت کے دوران بھی ایف آئی اے نے یہ مؤقف اختیار کیا کہ اس درخواست پر سائبر کرائم کے تحت کسی غیر ملکی کے خلاف مقدمہ نہیں بنایا جا سکتا۔
اس مقدمے میں درخواست گزار کے وکیل ریاست علی آزاد نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اُنھوں نے اپنی درخواست میں امریکی شہری کے خلاف ’پریوینشن آف الیکٹرانک کرائم ایکٹ سنہ 2016‘ کی مختلف دفعات کے علاوہ انسداد دہشت گردی کی دفعہ کے تحت مقدمہ درج کرنے کی استدعا کی تھی جو عدالت نے منظور کر لی ہے۔اُنھوں نے دعویٰ کیا کہ اُن کی درخواست پر مقامی عدالت نے ایف آئی اے کو قانون کے مطابق کارروائی کے بارے میں نہیں کہا بلکہ امریکی بلاگر کے خلاف مقدمہ درج کرنے کا حکم دیا ہے۔اُنھوں نے کہا کہ اگر ایف آئی اے نے عدالتی احکامات پر عمل درآمد نہ کیا تو وہ ایف آئی اے حکام کے خلاف توہین عدالت کی درخواست دائر کریں گے۔
سنتھیا رچی نے پاکستان میں اداکارہ عظمیٰ خان پر تشدد کی وائرل ویڈیوز کے پس منظر میں اپنا تبصرہ سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر پوسٹ کیا تھا۔
انھوں نے لکھا تھا کہ اس واقعے سے (عظمی خان) انھیں وہ کہانیاں یاد آ رہی ہیں کہ ’بی بی (بینظیر) اس وقت کیا کرتی تھیں جب ان کے شوہر اُن سے بیوفائی کرتے تھے۔‘ انھوں نے دعویٰ کیا کہ بینظیر اپنے گارڈز کے ذریعے ایسی خواتین (جن کے زرداری صاحب سے مبینہ تعلقات ہوتے) کی عصمت دری کرواتی تھیں۔‘اپنی ٹویٹ میں ان کا مزید کہنا تھا کہ ’خواتین عصمت دری کے ایسے کلچر کی مخالفت کیوں نہیں کرتیں؟ کیوں کبھی مردوں کو جوابدہ نہیں کیا جاتا؟ انصاف کا نظام کہاں ہے؟‘
اس کے بعد سنتھیا ڈی رچی نے پاکستان پیپلز پارٹی سے تعلق رکھنے والے سابق وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی، سابق وفاقی وزیر مخدوم شہاب الدین اور سابق وزیر داخلہ رحمان ملک پر انھیں جنسی طور پر ہراساں کرنے کے الزامات بھی عائد کیے۔پیپلز پارٹی کے رہنماؤں نے نہ صرف ان الزامات کی تردید کی تھی بلکہ سنتھیا رچی کے خلاف ہتک عزت کے دعوے بھی دائر کیے تھے۔
اس مقدمے میں درخواست گزار شکیل عباسی نے بی بی سی کو بتایا کہ ایف آئی اے کی جانب سے امریکی خاتون کے خلاف کارروائی سے انکار کے بعد اُنھوں نے پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی کو درخواست دی کہ وہ سنتھیا رچی کی ان ٹویٹس کو بلاک کریں جن میں بینظیر پر سنگین الزامات عائد کیے گئے ہیں لیکن اُن کی طرف سے بھی کوئی عملی اقدام نہیں اُٹھایا گیا۔
سنتھیا ڈی رچی نے پاکستان پیپلز پارٹی سے تعلق رکھنے والے سابق وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی، سابق وفاقی وزیر مخدوم شہاب الدین اور سابق وزیر داخلہ رحمان ملک پر انھیں جنسی طور پر ہراساں کرنے کے الزامات بھی عائد کیے ہیں
شکیل عباسی کے مطابق اس کے بعد اُنھوں نے امریکی بلاگر کے خلاف قانونی کارروائی کے لیے جسٹس آف پیس میں درخواست دی جس پر عدالت نے امریکی شہری کے خلاف مقدمہ درج کرنے کا حکم دیا ہے۔
عدالت میں اس درخواست کی سماعت کے دوران پی ٹی اے نے بھی امریکی شہری کے خلاف مقدمہ درج کرنے کی مخالفت کی تھی۔
جسٹس آف پیس کیا ہے؟
جسٹس آف پیس ایک کمیٹی ہوتی ہے جس کی سربراہی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج کرتا ہے۔یہ کمیٹی قانون نافذ کرنے والے اداروں کی طرف سے قانونی کارروائی میں لیت و لعل سے کام لینے پر دونوں جانب کے وکلا کو طلب کر کے دلائل سننے کے بعد فیصلہ کرتی ہے۔
اسلام آباد کے ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج نے یہ درخواست ایڈشنل سیشن جج جہانگیر اعوان کو بھجوا دی تھی جنھوں نے اطراف کے دلائل سننے کے بعد امریکی شہری کے خلاف مقدمہ درج کرنے کا حکم دیا ہے۔



