
اسلام آباد: سینٹ کی مجلس قائمہ برائے داخلہ کے چئیرمین سینٹر رحمان ملک نے امریکی شہری سنتیھا رچی کو بے بنیاد، من گھڑت و بیہودہ الزامات لگانے پر پانج ارب روپے حرجانے کا تیسرا نوٹس بھیج دیا ہے۔
سینٹر رحمان ملک کے ترجمان کی جانب سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ سنتھیا رچی کا یہ الزام کہ سابق وزیراعظم بے نظیر سے متعلق باتیں انہیں رحمان ملک نے بتائیں جھوٹ و بدنیتی پر مبنی ہے۔انہوں نے کہا سنتھیا رچی نے اسلام آباد ہائی کورٹ کے باہر میڈیا کے سامنے سینیٹر رحمان ملک کیخلاف بے بنیاد، من گھڑت اور بیہودہ الزامات لگائے۔ سنتھیا رچی جھوٹ پر جھوٹ بول رہی ہے اور اسکا ایک بیان دوسرے بیان کی نفی کرتا ہے۔ ترجمان نے واضح کیا کہ سینیٹر رحمان ملک کی سنتھیا رچی کیساتھ کبھی اسطرح کی کوئی گفتگو نہیں ہوئی ۔
سینیٹر رحمان ملک اس طر ح کے بیہودہ و غیر مہذب الزامات و گفتگو کا سوچ بھی نہیں سکتے ۔سنتھیا رچی کے کسی بھی الزام میں کوئی حقیقت نہیں ہے بلکہ یہ سب جھوٹ کا پلندہ ہے۔انہوں نے کہا امریکی خاتون نے من گھڑت، بے بنیاد اور نازیبا الزامات لگا کر سینیٹر رحمان ملک کی قومی و بین القوامی ساکھ مجروح کی۔
امریکی خاتون پندرہ دن کے اندر اپنے من گھڑت و بیہودہ الزامات اسی طرح پریس کانفرنس میں واپس لیکر غیرمشروط معافی مانگیں اور پانچ ارب ہرجانہ ادا کریں۔انہوںنے کہا امریکی خاتون نے سب سے پہلے محترمہ بینظیر بھٹو شہید کیخلاف نازیبا الزامات لگاکر پیپلز پارٹی سمیت ہر پاکستانی کو مجروح کیا۔سینیٹر رحمان ملک نے بطور چئیرمین سینیٹ قائمہ کمیٹی برائے داخلہ میں سنتھیا رچی کے محترمہ بینظیر بھٹو شہید کیخلاف الزامات پر نوٹس لیا۔انہوں نے کہا سنتھیا رچی نے نوٹس لینے کے ردعمل میں سینیٹر رحمان ملک پر یکے بعد دیگرے جھوٹے الزامات کا سلسلہ جاری رکھا ۔ سنیٹر رحمان ملک سنتھیا رچی کے کسی بھی بیہودہ الزام کا براہ راست جواب نہیں دینگے اور سنتھیا رچی کو عدالت کے ذریعے انصاف کے کٹہرے میں لائیں گے۔




