خد شہ ہے کہ اگر انہیں جلد کھولنے کی اجازت نہ ملی تو اس صنعت سے وابستہ 80 فیصد کاروبار مستقل بند ہو جائیں گے
پر یس کلب اسلام آباد کے سامنے منعقدہ مظاہرے سے ہو ٹل اینڈریسٹورنٹس ایسوسی ایشن کے صدرشیخ عبدالوحید اور دیگر تاجررہنمائوں کا خطاب
اسلام آباد:مرکزی تنظیم تاجران پاکستان کے صدر محمدکاشف چوہدری نے کہا ہے کہ حکومت ایس او پیز کے ساتھ ہو ٹلز ، ریسٹورنٹس اور مارکیز کو کھولنے کی اجازت دے کیونکہ ان کاروباروں سے ہزاروں افراد کا روزگار وابستہ ہے جبکہ ان کی بندش سے غربت و بے روزگاری میں اضافہ ہو گیا ہے اسی طر ح ان کاروبار سے وابستہ دیگر کاروبار بھی شدیدمتاثر ہو رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کرونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کیلئے مارچ کے دوسرے ہفتے میں اسلام آباد سمیت پورے ملک میں ریسٹورنٹس اور شادی ہالوں و مارکیز کوبند کر دیا گیا تھا لیکن طویل لاک ڈاؤن کی وجہ سے ہو ٹل انڈسٹری بحران سے دوچار ہے ،محمد کاشف چوہدری نے کہا خد شہ ہے کہ اگر انہیں جلد کھولنے کی اجازت نہ ملی تو اس صنعت سے وابستہ 80 فیصد کاروبار مستقل بند ہو جائیں گے جبکہ ہزاروں کارکنان روزگار سے محروم ہو جائیں گے ،ان خیالات کا اظہار انھوں نے ہو ٹل اینڈ ریسٹورنٹس ایسوسی ایشن کے زیر اہتمام نیشنل پر یس کلب اسلام آباد کے سامنے منعقدہ احتجاجی مظاہرے کی قیادت کر تے ہو ئے کیا ۔ اس موقع پرہو ٹل اینڈریسٹورنٹس ایسوسی ایشن کے صدرشیخ عبدالوحید اور دیگر تاجر رہنمائوں نے بھی خطاب کیا ۔ محمد کاشف چوہدری نے کہا مارکیز اور شادی ہالز معاشی سرگرمیوں کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کررہے ہیں کیونکہ اس صنعت سے بہت سے دیگر شعبوں کا کاروبار وابستہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ ریسٹورنٹس، مارکیز اور شادی ہالوں کی بندش کی وجہ سے گوشت، پولٹری، زیورات، دلہن کے لباس، پھول فروش، فرنیچر، کراکری سپلائرز، ٹینٹ سروس والے، ویٹر، بینڈوالے، لائٹنگ اور جنریٹر سپلائی کرنے والے سمیت دیگر بہت سے کاروبار بھی بہت متاثر ہو رہے ہیں۔ جب ایس او پیز کے ساتھ دوسرے کاروبار کھول دیے گئے ہیں توہوٹل ریسٹورنٹس، مارکیز اور شادی ہالز کو بھی دوبارہ کھولنے کی اجازت دی جانی چاہیے کیونکہ ان کے مالکان طے شدہ ایس او پیز کے ساتھ اپنا کاروبار چلانے کے لئے تیار ہیں۔ شیخ عبدالوحیدنے اس بات پر زور دیا کہ حکومت اس صنعت کے لئے ایک امدادی پیکیج کا اعلان کرے تا کہ اس طر ح کے کاروبار مزید تباہی سے بچ سکیں، انہوں نے کہا کہ مارکیز اور شادی ہالوں میں جگہ کی کوئی تنگی نہیں ہوتی لہذا وہ سماجی فاصلہ برقرار رکھ سکتے ہیں اور اپنے گاہکوں و کارکنوں کی صحت کی حفاظت کے لئے تمام حفاظی اقدامات لینے کو تیار ہیں لہذا حکومت ان کا کاروبار کھولنے کے لئے ایک تاریخ دے تا کہ وہ گاہکوں سے بکنگ کا سلسلہ شروع کر سکیں۔


