https://twitter.com/i/status/1283654504987017216
بھارت کی ریاست مدھیاپرادیش میں پولیس نے دلیت کسان جوڑے کو شدید تشدد کا نشانہ بنایا اور ان کی فصل کو تباہ کردیا جس کے بعد جوڑے نے خود کشی کی کوشش پولیس کے اقدام پر مختلف حلقوں کی جانب سے شدید غم و غصے کا اظہار کیا گیا۔
سوشل میڈیا میں گردش کرنے والی ویڈیو میں دکھاجاسکتا ہے کہ درجن بھر پولیس اہلکار جوڑے کو سرکاری زمین سے گھسیٹ کر باہر نکال رہے ہیں۔
یہ واقعہ ریاست مدھیا پرادیش میں پیش آیا جبکہ سوشل میڈیا مختصر وقت میں ہی لاکھوں افراد نے ویڈیو دیکھی۔
مقامی انتظامیہ کے سربراہ ایس وشواناتھ نے گزشتہ روز نیوز کانفرنس میں کہا تھا کہ جوڑے نے زہریلی دوا کھا کر خود کشی کی کوشش کی تھی لیکن انہیں ہسپتال منتقل کردیا گیا تھا۔تاہم نیوز کانفرنس کے بعد وشواناتھ اور پولیس سربراہ کو عہدوں سے ہٹا دیا گیا۔
دلیت سیاسی رہنما کماری میاواتی نے ٹوئٹر پر اپنے بیان میں کہا کہ ‘جوڑے کی فصل کو تباہ کرکے ان کو خود کشی پر مجبور کرنا انتہائی ظلم اور شرم ناک ہے’ ۔انہوں نے کہا کہ ‘ملک بھر سے اس واقعے کی مذمت کا آنا فطری بات ہے، حکومت کو سخت کارروائی کرنی چاہیے’۔ ایک پولیس اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ جوڑے کو وہاں سے ہٹانا، سرکاری زمینوں پر قبضے کے خلاف مہم کا حصہ تھا۔انہوں نے کہا کہ جس زمین پر جوڑے نے کھیتی باڑی کی تھی وہ ایک کالج کی تعمیر کے لیے مختص کی گئی تھی۔
ریاستی حکومت نے گزشتہ روز ہی 6 پولیس اہلکاروں کو برطرف کرکے واقعے کی تفتیش کا حکم جاری کردیا تھا۔
بھارتی مردم شماری سے متعلق دستاویزات کے مطابق بھارت کی نچلی ذات کی نصف سے زائد آبادی کے پاس اپنی زمین نہیں ہے، کئی ریاستوں میں دلیتوں کو زمین دینے کے لیے قوانین بھی بنائے جاچکے ہیں لیکن صرف چند ریاستیں اس پر عمل بھی کررہی ہیں۔
پولیس تشدد کا نشانہ بننے والے جوڑے کے پڑوسی این کمار نے نکھیدی گاں سے فون پر رائٹرز کو بتایا کہ ‘انہوں نے پولیس کی منتیں کی کہ ان کی فصل کو تباہ نہ کریں لیکن پولیس نے ان کی ایک نہ سنی’۔ان کا کہنا تھا کہ جوڑا قرض دار تھا اور پولیس سے کہا تھا کہ وہ فصل کی کٹائی تک دوماہ انتظار کریں۔
مدھیا پرادیش میں موجود قبائلی رہنما اور دلیت حقوق کے لیے کام کرنے والی سماجی کارکن رام پراکاش شرما نے واقعے کو بدقسمت قرار دیا اور حکام پر زور دیا کہ جوڑے کی مدد کے لیے زیادہ سے زیادہ کوشش کریں۔
انہوں نے کہا کہ ‘مدھیا پرادیش میں دلیت انتہائی پسماندہ افراد میں شامل ہیں اور ان کے پاس اپنے زرعی زمینیں نہیں ہیں’۔رام پراکاش شرما نے مطالبہ کیا کہ ‘حکومت اس جوڑے کو ایک گھر اورملازمت فراہم کرے تاکہ وہ اپنے بچوں کو پال سکیں اور فاقہ کشی کا شکار نہ ہوں’۔
یاد رہے کہ امریکی ادارے کمیشن برائے بین الاقوامی مذہبی آزادی (یو ایس سی آئی آر ایف) کی جانب سے رواں برس جاری رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ مذہبی آزادی کی ممکنہ طور پر سب سے بری اور سب سے خطرناک حد تک بگڑی ہوئی صورتحال دنیا کی سب سے بڑی جمہوری ریاست کہلوانے والے ملک بھارت میں ہے۔ کمیشن نے اپنی رپورٹ میں تجویز دی تھی کہ بھارت کو خاص تشویش ناک ملک قرار دیا جائے۔ادارے کی نائب چیئرمین نادائن مائنزا کا کہنا تھا کہ سب سے زیادہ چونکا دینے والا اور پریشان کن اقدام شہریت ترمیمی قانون کی منظوری تھی جس نے مسلمانوں کے سوا دیگر 6 مذاہب کے ماننے والوں کے لیے شہریت کا عمل تیز کردیا۔ان کا مزید کہنا تھا کہ جب حکومت اپنے قومی رجسٹریشن پروگرام کو مکمل کرے گی تو اس سے ممکنہ طور پر لاکھوں مسلمانوں کی حراست، ملک بدری اور بے وطنی کا خطرہ ہے۔



