وزیراعظم سے خصوصی ہدایات لے کر وفاقی وزیرداخلہ محسن نقوی تہران پہنچ گئے
حالیہ صورتحال پر سپریم لیڈر کیلئے وزیراعظم اور فیلڈمارشل کا خصوصی خط لیکر آیا ہوں: محسن نقوی
اسلام آباد/تہران(رپورٹ :محمد رضوان ملک )امریکہ اور ایران کے درمیان مستقل اور پائیدار جنگ بندی کے لئے پاکستان ایک با ر پھر متحرک ہو گیا ہے۔ وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی اس سلسلے میں ویزراعظم پاکستان شہباز شریف سے خصوصی ہدایات لے کر تہران پہنچ گئے ہیں جہاں ہو اعلیٰ ایرانی قیاد ت سے ملاقاتیں کریں گے۔
وزیر داخلہ محسن نقوی نے اس سلسلے میں ایرانی ہم منصب اسکندر مومنی سے ملاقات کی ہے جس میں علاقائی سلامتی کی صورتحال کا جائزہ لیا گیا ہے۔ وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا ہے کہ وہ حالیہ صورتحال پر سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کے لیے فیلڈ مارشل کا خصوصی خط لے کر تہران آئے ہیں۔
ایرانی ہم منصب اسکندر مومنی سے ملاقات کے موقع پر میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ سپریم لیڈر آیت اللّٰہ سید مجتبیٰ حسینی خامنہ ای کے لیے وزیراعظم شہباز شریف کا بھی پیغام لے کر تہران آئے ہیں۔
عرب میڈیا کے ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیرِ داخلہ محسن نقوی تہران میں ایک مفاہمتی یادداشت تک پہنچنے کے طریقوں پر بات کریں گے، وفاقی وزیرداخلہ محسن نقوی اس سے پہلے بھی دو مرتبہ ایران کا دورہ کرچکے ہیں۔
عرب میڈیا کا ذرائع کے حوالے سے کہنا ہے کہ ایران کے منجمد فنڈز کے حوالے سے پیش رفت ہوئی ہے، منجمد فنڈز کےحجم اور اجرا کے وقت کےبارےمیں اختلافات برقرار ہیں۔
دوسری طرف امریکی صدرٹرمپ نے ثالثوں کو آگاہ کیا ہے کہ 60 دن سے زیادہ کسی قسم کے مذاکرات نہیں ہوں گے، اب یہ ایران پر منحصر ہے کہ وہ تیزی سے جواب دے۔
دوسری طرف اسرائیل کی جانب سے جنگ بندی کی مسلسل خلاف ورزی کرتے ہوئے لبنان پر حملے جاری ہیں۔
ترکیے کے وزیر خارجہ حاقان فیدان نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ اسرائیل کی جانب سے خطے میں جنگ بندی کو ناکام بنانے کی کوششوں کو روکنے کے لیے مؤثر اقدامات کرے۔
ڈھاکا میں بنگلا دیش کے امورِخارجہ کے مشیر خلیل الرحمان کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس کے دوران ترک وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ اسرائیلی جارحیت کو روکنا عالمی برادری کی اولین ترجیح ہونی چاہیے، اسرائیل پورے خطے کو جنگ کی طرف دھکیل رہا ہے تاکہ فلسطین کے لیے دو ریاستی حل کو ناکام بنایا جاسکے۔
انہوں نے ایران اور امریکا کے درمیان جاری مذاکرات میں ہونے والی پیشرفت کا خیر مقدم کیا اور پاکستان کی سفارتی کوششوں کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ترکیے ان کوششوں کی بھرپور حمایت کر رہا ہے۔




