کم آمدنی والے افراد کو قرضوں کی فراہمی کا جائزہ لیا گیاوزیراعظم کی اس عمل میں کسی بھی پیش آنے والی رکاوٹ کو ترجیحی بنیادوں پر دور کرنے کی ہدایت
وزیرِاعظم کی زیرصدارت نیشنل کوارڈینیشن کمیٹی برائے ہائوسنگ، کنسٹرکشن و ڈویلپمنٹ کا ہفتہ وار اجلاس ہوا۔عمران خان نے گورنراسٹیٹ بینک اورچیئرمین پاکستان ہاسنگ اتھارٹی کو ہدایت کی کہ کم آمدنی والے افراد کو قرضوں کی فراہمی کا باقاعدہ جائزہ لیا جائے اور اس عمل میں کسی بھی پیش آنے والی رکاوٹ کو ترجیحی بنیادوں پر دور کیا جائے۔
گورنراسٹیٹ بینک نے اجلاس کو بتایا کہ حکومت کی جانب سے اعلان کردہ مارک اپ سبسڈی کے حوالے سے محض چند ہفتوں میں اب تک آسان قرضوں کے لئے آٹھ ہزار سے زائد درخواستیں موصول ہو چکی ہیں۔
سینئرصوبائی وزیرپنجاب علیم خان نے اجلاس کو بتایا کہ بلڈرز اور ڈویلپیرز اس امر کے معترف ہیں کہ تعمیرات کیلئے قرضے فراہم کرنے کے حوالے سے یبنک نہایت متحرک کردار ادا کر رہے ہیں۔
اجلاس کو بتایا گیا کہ ملکی تاریخ میں پہلی دفعہ اسٹیٹ بینک کی کاوشوں اور بنکوں کے تعاون سے کم آمدنی والے افراد کو ذاتی مکان کے لئے قرضوں کی فراہمی کیلئے یکساں اور اسٹینڈرڈ درخواست فارم رائج کیا گیا ہے تاکہ آسان قرضوں کی فراہمی کے عمل کو آسان ترین بنایا جا سکے۔
سیکریٹری ہائوسنگ نے اجلاس کو بتایا کہ وزارتِ ہائوسنگ نے بینک آف پنجاب اور الفلاح بنک سے مفاہمت کی یاداشت پردستخط کیے ہیں جس کے تحت ان بینکوں کی جانب سے طے شدہ شرح پر گھروں کی تعمیر کے لئے قرض فراہم کیا جائے گا اور اس قرضے کے لئے رقم کی کوئی حد نہیں ہوگی۔ اس طرح اس عمل سے وہ لوگ بھی استفادہ حاصل کر سکیں گے جن پر مارک اپ سبسڈی سکیم کا اطلاق نہیں ہوتا۔
وزیرِاعظم نے بینکوں کے متحرک کردار اور تعاون پر اطمینان کا اظہار کیا۔ وزیرِ اعظم نے گورنراسٹیٹ بینک اور چیئرمین نیا پاکستان ہائوسنگ اتھارٹی کو ہدایت کی کہ کم آمدنی والے افراد کو قرضوں کی فراہمی کا باقاعدہ جائزہ لیا جائے اور اس عمل میں کسی بھی پیش آنے والی رکاوٹ کو ترجیحی بنیادوں پر دور کیا جائے۔



