ملازمت کی تلاش میں آنیوالی معصوم لڑکیوں کو نوکری کا جھانسہ دیکر دھندے پر لگادیاجاتا ہے متاثرہ خاتون کی آئی جی اسلام آباد کو انصاف کے لئے درخواست
اسلام آباد:وفاقی پولیس کے سابق ملازم نے اپنے ساتھی کے ساتھ ملکر عصمت فروشی کا اڈا کھول لیا،دونوں نے کروڑوں روپے کے اثاثے بنالئے،ملازمت کی تلاش میں آنیوالی معصوم لڑکیوں کو نوکری کا جھانسہ دیکر دھندے پر لگادیا،متاثرہ خاتون فوزیہ نے آئی جی اسلام آباد کو انصاف کیلئے درخواست دیدی،متاثرہ خاتون نے کہا ہے کہ اگر مجھے انصاف نہ دیاگیا تو میں پارلیمنٹ کے سامنے خودکشی کرلوں گی۔تفصیلات کے مطابق وفاقی دارالحکومت میں ایک سابق پولیس اہلکار صلاح الدین نے مختلف سیکٹروں میں عصمت فروشی کے اڈے کھول کر معصوم لڑکیوں کو دھندے پر لگا دیا ہے۔فوزیہ نامی لڑکی نے آئی جی کے نام اپنی درخواست میں انکشاف کیا ہے کہ میں فیصل آباد سے بیوٹی پارلر کی نوکری کرنے کیلئے آئی تھی لیکن صلاح الدین اور اسکے ساتھی فرحت علی نے نشہ آور مشروب پلا کر میری ویڈیو بنائی اور مجھے بلیک میل کرکے اس دھندے پر لگا دیا۔اس وقت میرے انکی طرف 67لاکھ روپے ہیں جبکہ زیور بھی ہے لیکن انہوں نے مجھ پر جھوٹا مقدمہ بنا کر جیل بھجوا دیا۔تھانہ گولڑہ میں یہ مقدمہ درج کروایا گیا تھا۔فوزیہ کا کہنا ہے کہ میں نے انصاف کیلئے آئی جی کو درخواست دی ہوئی ہے لیکن ابھی تک کوئی جواب نہیں ملا۔اگر مجھے انصاف نہ ملا تو میں پارلیمنٹ ہاؤس کے سامنے خودکشی کرلوں گی۔مصدقہ ذرائع کے مطابق سابق پولیس اہلکار صلاح الدین اس وقت 7عصمت فروشی کے اڈے چلا رہا ہے اور اپنے اڈوں سمیت باقی اڈوں سے بھی وفاقی پولیس کے کچھ افسران کو بھتہ اکٹھا کرکے دیتا ہے۔دریں اثناء یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ اس کا ساتھی فرحت علی جو سیکٹر ایف سکس کے ایک گیسٹ ہاؤس میں چوکیداربھرتی ہوا تھا،اب اس مکروہ دھندے کے باعث کروڑ پتی بن چکا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔



