کشمیر یوں کی قربانیوں کے مقابلے میں ہم نے صرف دن منائے ہیں،سینٹر ساجد میر

بھارتی حکومت نے بھارتی آئین سے آرٹیکلز 370 اور 35 (A) کوخارج کر کے کشمیر کی خصوصی حیثیت کو ختم کردیا اور ہمیں احتجاج کے لیے ایک اور دن مل گیا
کشمیر مسئلہ چند منٹ کی خاموشی یا سلیکٹڈ کے بے سرو پا بھاشنوں سے اجاگر نہیں ہوگا ،بلکہ اس کیلئے مدبرانہ سفارتکاری اختیار کرنا ہوگی،سینٹر مولا بخش چانڈیو

کشمیر کے مسئلے پر موجودہ حکمران مٹی پاؤ کی پالیسی پر عمل پیرا ہیں،صرف ایک منٹ کی خاموشی سے لگتا ہے کہ اب مکمل خاموشی کے لیے ریہرسل کی جارہی ہے،حافظ حسین احمد

 

اسلام آباد(محمد رضوان ملک / نیوزپورٹر)پاکستان پیپلز پارٹی کے سینٹر مولا بخش چانڈیو اور مرکزی جمعیت اہلحدیث کے سربراہ سینٹر پروفیسر ساجد میر سمیت جے یو آئی ف کے ترجمان اور سابق سینٹر حافظ حسین احمد نے حکومت کی کشمیر پالیسی پر تحفظات کا اظہار کردیا ہے۔ سینٹر مولا بخش چانڈیو نے ایک بیان میں کہا ہے کہ کشمیر مسئلہ چند منٹ کی خاموشی یا سلیکٹڈ کے بے سرو پا بھاشنوں سے اجاگر نہیں ہوگا ،مسئلہ کشمیر اجاگر کرنے کیلئے مدبرانہ سفارتکاری اختیار کرنا ہوگی۔عمران خان کا محبوب بھارتی وزیراعظم کشمیر ہڑپ کر گیا اور یہ بھاشن دیتے رہے، مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حثیت کا خاتمہ نہ کشمیریوں کو قبول ہے نہ ہم کریں گے، عمران حکومت بیشک خاموش رہے مگر قوم خاموش نہیں رہے گی ،ہم بھٹو ، بینظیر بھٹو شہید اور بلاول بھٹو زرداری کی جماعت ہیں ۔پیپلز پارٹی کشمیر پر کوئی سمجھوتا قبول نہیں کرے گی ۔انہوں نے کہا کشمیر سے دستبردار ہونے والی حکومت اپنے صوبوں کو آنکھیں دکھا رہی ہے۔
سینٹر ساجد میر کا کہنا تھا کہ کشمیر یوں کی قربانیوں کے مقابلے میں ہم نے صرف دن منائے ہیں۔ وزیر اعظم عمران خان کی اقوام متحدہ میں کی گئی تقریر کے بعد 5 اگست 2019 کو ہمیں مقبوضہ کشمیر کے لیے سیاہ ترین دن دیکھنا پڑا۔ یو م استحصال کشمیر کی مناسبت سے اپنے پیغام میں انہوں نے کہا کہ بھارتیہ جنتا پارٹی کی حکومت نے بھارتی آئین سے آرٹیکلز 370 اور 35 (A) کوخارج کر کے کشمیر کی خصوصی حیثیت ہی کو ختم کردیا اور ہمیں احتجاج کے لیے ایک اور دن مل گیا۔سوال یہ ہے کہ اس ایک سال کے دوران عالمی سطح پر کشمیر یوں کی جدوجہد آزادی کی آواز بلند کرنے کے لیے پاکستان نے کیا سفارتی اقدامات کیے؟ ۔علامہ ساجد میر کا کہنا تھا کہ 5 اگست 2019 کے بعد بھارتی استبداد نے ایک منظم پالیسی کے تحت باشندگانِ کشمیر کو پہلے سے جاری بد ترین ریاستی بربریت و تشدد میں اضافہ ہوا۔ کشمیری اس دن سے ایک مستقل اجتماعی خوف میں مبتلا ہیں۔انہوں نے کہا کہ کشمیر جنگ سے آزادہو گا نہ مذاکرات سے بلکہ ٹھوس اورمنظم سفارتکاری سے آزاد ہوگا۔ ہم نے جنگ اور مذاکرات دونوں کرکے دیکھ لیے۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ وزارت خارجہ کے دفتر میں کشمیر سیل قائم کرے۔عالمی دنیا کو سفارتکاری کے ذریعے کشمیر کا مسئلہ اجاگر کرنے کے لیے پاکستانی سفارتکاروں کو سپیشل ٹاسک سونپے جائیں انہیں ٹارگٹ دیا جائے۔ ہمارا احتجاج اور ریلیاں کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کی ایک علامت ہیں۔ ہمیں اس سے آگے کام کرنا ہو گا۔کشمیریوں کی چوتھی نسل قربانیاں دے رہی ہے۔وہ پاکستان سے محبت کرتے ہیں۔وہ اپنی میتیں پاکستانی پرچموں میں لپیٹ کراپنی محبت کا اظہار کرتے ہیں مگر افسوس ہم نے صرف دن منائے۔
جے یو آئی کے ترجمان سابق سینٹر حافظ حسین احمد کا کہنا تھا کہ کشمیر پر بھارت کے قبضے تسلط اور کشمیریوں پر ظلم و ستم کو ایک سال مکمل ہوچکا ہے پورے سال بعد صرف ایک منٹ کی خاموشی سے لگتا ہے کہ اب مکمل خاموشی کے لیے ریہرسل کی جارہی ہے اور کشمیر کے مسئلے پر موجودہ حکمران مٹی پاؤ کی پالیسی پر عمل پیرا ہیں آج حکمرانوں کو کشمیر کمیٹی ، کشمیر کے حوالے سے بلند و بانگ دعوے ، ایٹمی صلاحیت کی حامل طاقت سمیت کوئی ایسا حربہ بھی کام نہیں آرہا جو کشمیریوں پر ہونے والے دردناک مظالم کا مداوا کرسکے۔کشمیر کمیٹی کے حوالے سے تنقید کرنے والوں کی زبان آج نئی کشمیر کمیٹی پر کیوں خاموش ہے جبکہ عمران خان بھارت کے تمام تر ظلم و ستم اور جارحیت کے بدلے انہیں سہولتیں فراہم کررہے ہیں بھارتی پائلٹ جس نے پاکستانی کی فضائی حدود میں داخل میں ہوکر پاکستان کی تنصیبات پر حملے کی کوشش کی اسے جس انداز میں رہا کیا گیا ، وہ سب کے سامنے ہے ۔ کرتارپوررہداری اور کلبھوشن یادیو کے معاملے پر موجودہ حکومت بھارت کے لیے سہولت کار بنی ہوئی ہے۔