یومِ استحصالِ کشمیر پر سینیٹ کا خصوصی اجلاس، کشمیریوں سے یکجہتی کی قرارداد منظور،32 سال بعد صدر کا سینٹ سے خطاب

کشمیر کے حوالے سے کوئی بھی فیصلہ کرنے سے قبل حریت قیادت ، متعلقہ سٹیک ہولڈر ز اور پارلیمان کو اعتماد میں لیا جائے ، اپوزیشن سینٹرز کا موقف

یوم استحصال کشمیر پر سینیٹ کا خصوصی اجلاس منعقد کیا گیا جس میں صدر مملکت عارف علوی بھی شریک ہوئے اور انہوں نے ایوان بالا سے خطاب بھی کیا جبکہ سینیٹ نے کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کی قرار داد بھی منظور کی۔اپوزیشن اراکین نے حکومت کی کشمیر پالیسی پر سوال اٹھادئیے۔آئندہ کشمیر کے حوالے سے کوئی بھی فیصلہ کرنے سے قبل حریت رہنمائوں سمیت تمام متعلقہ سٹیک ہولڈرز کو اعتماد میں لیا جائے ۔خاص طور پر پارلیمان کو اعتماد میں لئے بغیر کوئی اہم فیصلہ نہ کیا جائے۔
صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے یوم استحصال کشمیر کے موقع پر سینیٹ سے خطاب میں کہا ہے کہ پاکستان کبھی بھی کشمیریوں کو اکیلا نہیں چھوڑے گا اور وہ دن دور نہیں جب کشمیر میں آزادی کا سورج طلوع ہوگا۔انہوں نے کہا کہ ہمیں بھارت کے آئین کا آرٹیکل 370 منظور نہیں تھا، بھارت نے اقوام متحدہ کی قراردادوں کی خلاف ورزی کی۔اس موقع پر صدر مملکت نے کشمیریوں کی اخلاقی، سیاسی اور سفارتی حمایت جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا۔
یوم استحصال کشمیر پر سینیٹ کے خصوصی اجلاس سے خطاب میں وزیر اعظم عمران خان کے مشیر برائے پارلیمانی امور بابر اعوان نے کہا جموں، کشمیر، لداخ، جونا گڑھ، سر کریک اور سیاچن پاکستان کا ہے اور پاکستان کا اصل نقشہ کابینہ نے گزشتہ روز متفقہ طور پر منظور کیا اور اب نقشہ پارلیمنٹ سے منظور کرایا جائے گا۔
وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ 5 اگست کو بھارتی سرکار کی حماقت نے کشمیر کا مسئلہ دنیابھر میں اجاگر کرنے میں پاکستان کا ہاتھ بٹایاآج پوری دنیا میں کشمیر کا مسئلہ گونج رہا ہے۔
مسلم لیگ (ن)کے سینیٹر مشاہد حسین کا کہنا تھا کہ 70 فیصد جنگ اب میڈیا، پارلیمانی ڈپلومیسی یا قانونی ہوگی، مودی قاتل اور آر ایس ایس فاشسٹ جماعت ہے۔پیپلز پارٹی کی رکن شیری رحمان نے کہا کشمیر میں دنیا کا سب سے بڑا زبردستی کا قبضہ کیا گیا ہے۔
جماعت اسلامی پاکستان کے امیرسراج الحق بولے کہ پاکستان کی بقا کا واحد راستہ یہ ہے کہ ہم کشمیر کا ساتھ دیں۔انہوں نے بھارت سے ہر طرح کی تجارت اور پاکستان کی فضائی حدود بھارت کے لیے بند کرنے کا بھی مطالبہ کیا۔
بعدازاں سینیٹ میں کشمیریوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کی قرارداد متفقہ طور پر منظور کرلی گئی جس میں مطالبہ کیاگیا ہے کہ بھارت 5 اگست کے غیر قانونی اقدامات ختم کرے ، کشمیر کا فوجی محاصرہ ختم کیاجائے ، کشمیری نوجوانوں اور سیاسی رہنماں کو رہا کیا جائے، 9 لاکھ سے زائد قابض افواج کو واپس بلایا جائے اور کشمیروں کو حق خود ارادیت دیا جائے۔
سینیٹ اجلاس میںیورپی یونین سمیت افغانستان، چین، ترکی، انڈونیشیا، ایران، جرمنی سمیت مختلف ممالک کے سفیربھی شریک ہوئے ۔صدر عارف علوی کی اہلیہ خاتون اول بیگم ثمینہ علوی کے علاوہ قومی اسمبلی کے ڈپٹی سپیکر قاسم سوری نے بھی ایوان بالا کی کاروائی دیکھی ۔