چھ ماہ میں بننے والا منصوبہ تین سال میں بھی مکمل نہ ہوسکا،سائیکل ٹریک، پارکنگ پلازے اوردکانیں دسمبر تک مکمل ہوں گی
پراجیکٹ اپنا خرچہ خود برداشت کرے گاسبسڈی نہیں دینا پڑی گی ، سالانہ خرچہ پانچ ارب جبکہ آمدن چھ ارب متوقع ہے

وزیراعظم عمران خان نے خیبر پختونخوا حکومت کے میگا پراجیکٹ بس ریپڈ ٹرانزٹ(بی آرٹی)کا افتتاح کردیا۔ منصوبہ تاحال مکمل نہیں ہوا ہے اور امید ہے کہ دسمبرتک منصوبہ مکمل ہو جائے گا۔ بی آرٹی بننے اور چلانے کے بعد اس کے آپریشن اور مینٹی ننس کے لیے سالانہ تقریبا پانچ ارب روپے درکار ہوں گے اور ان اخراجات میں سالانہ تین فیصد اضافہ بھی ہوگا توقع ظاہر کی جارہی ہے کہ اس سے سالانہ چھ ارب کی آمدن ہوگی اور حکومت کو سبسڈی نہیںدینا پڑے گی۔
بی آر ٹی کی سرکاری دستاویز کے مطابق ایشیائی ترقیاتی بینک کی مدد سے بننے والی بی آرٹی کے آپریٹنگ اخراجات میں بی آر ٹی کو چلانے والی کمپنی ٹرانس پشاور کے خرچے، ڈرائیوروں کے تنخواہیں، گاڑیوں کی مینٹی ننس، کرایوں کے سسٹم یعنی ٹکٹ مشینز وغیرہ کے اخراجات اور سٹیشنز کی صفائی شامل ہے۔دستاویز کے مطابق آپریٹنگ اخراجات کے علاوہ گاڑی کے تیل کا خرچہ تقریبا 78 روپے فی کلومیٹر ہوگا۔ ڈپو سے لے کر سٹیشن تک ٹکٹنگ عملے سے متعلق اخراجات تقریبا 48 روپے فی کلومیٹر ہوں گے۔ لبریکینٹ، فلٹرز اور ٹائرز کا تخمینہ تین روپے فی کلومیٹر لگایا گیا ہے اور اسی طرح تقریبا تین روپے فی کلومیٹر کا خرچہ دیگر اخراجات میں شامل ہے۔اسی دستاویزات میں لکھا گیا ہے کہ کل ملا کر یہ اخراجات سالانہ تقریبا 33 ملین ڈالر یا پانچ ارب روپے سے زائد بنتے ہیں اور اس میں سالانہ کے حساب سے تین فیصد سے زیادہ اضافہ ہوگا۔
حکومت نے اندازہ لگایا ہے کہ بی آر ٹی سے سالانہ 40 ملین ڈالر یا چھ ارب روپے سے زیادہ کی آمدنی حاصل ہوگی، جس کا بڑا ذریعہ کرایوں کی مد میں ملنے والی رقم ہوگی، جو اوسطا 25 روپے فی ٹرپ کے حساب سے ہوگا جبکہ اشتہارات کی مد میں ہونے والی آمدنی کرایوں سے ملنے والی آمدنی کا تین فیصد ہوگی۔ اسی طرح بی آرٹی پیکج میں بننے والے کمرشل پارکنگ پلازوں اور دکانوں کو ملا کر چھ ارب روپے تک کی آمدن متوقع ہے۔تاہم ابھی تک نہ تو پارکنگ پلازے مکمل ہیں اور نہ ہی دکانیں مکمل تعمیر ہوئی ہیں۔ حکومت نے متعدد بار کہا ہے کہ وہ پشاور بی آرٹی پر کوئی سبسڈی نہیں دے گی جبکہ اس پراجیکٹ کو باقی شہروں میں بننے والے میٹرو پراجیکٹ سے بہتر قرار دے کر اس بات کا بھی اعلان کیا گیا ہے کہ ‘یہ پراجیکٹ اپنا خرچہ خود برداشت کرے گا۔’
کارخانو مارکیٹ سے چمکنی تک کا سفر ایک گھنٹے میں طے ہوگا۔
صوبائی مشیر اطلاعات و بلدیات کامران بنگش کے مطابق ‘ہم نے اس پراجیکٹ کے اخراجات کو پورا کرنے کے لیے کمرشل پلازے، دکانیں اور فیڈرز روٹس کا منصوبہ اس لیے شامل کیا ہے تاکہ حکومت کو سبسڈی نہ دینا پڑے اور پراجیکٹ اپنا خرچہ خود برداشت کرے۔’انہوں نے بتایا کہ ‘اگر ہمارے اندازے کے مطابق روزانہ تین لاکھ 60 ہزار مسافر اس بس میں سفر کریں تو کرایوں کی مد میں ہمیں وہی آمدنی ہوگی جو ہم نے اندازہ لگایا ہے۔’
پارکنگ پلازوں اور دکانوں کی تعمیر نہ ہونے کے سوال کے جواب میں کامران بنگش نے بتایا کہ ‘ہم کوشش کر رہے ہیں کہ دسمبر تک پارکنگ پلازے اور اس کے ساتھ منسلک کمرشل دکانوں پر کام مکمل کرلیں تاکہ اس سے ملنے والی آمدنی سے یہ پراجیکٹ چل سکے۔’سبسڈی کے بارے میں انہوں نے بتایا کہ ابھی تک حکومت کا کوئی پلان نہیں ہے کہ اس پراجیکٹ پر سبسڈی دیں کیونکہ ہم نے اس کا فنانشل تجزیہ کیا ہے اور امید ہے کہ ہمیں سبسڈی کی ضرورت نہیں پڑے گی۔
تاہم دستاویز میں یہ درج ہے کہ بی آرٹی سے ہونے والی آمدنی کا جو اندازہ لگایا گیا ہے اگر وہ کم ہوئی تو حکومت کرایوں میں اضافہ کر سکتی ہے جبکہ مزید درج ہے کہ اگر بی آرٹی پر سالانہ خرچہ اس کی آمدن سے زیادہ ہوگیا تو اس سے منسلک منصوبوں یعنی پارکنگ پلازوں اور کمرشل دکانوں پر ٹیکس میں بھی اضافہ کیا جا سکتا ہے۔
ایشیائی ترقیاتی بینک کے اندازے کے مطابق پشاور میں روزانہ تقریبا سات لاکھ 92 ہزار لوگ مختلف ٹرانسپورٹ کے ذرائع سے سفر کرتے ہیں، جس میں سب سے زیادہ دو لاکھ 36 ہزار لوگ منی بسوں میں، دو لاکھ تین ہزار سوزوکی پک اپ اور 87 ہزار لوگ کاروں میں سفر کرتے ہیں۔اسی طرح ویگن میں 50 ہزار، ٹیکسی میں 49 ہزار جبکہ رکشہ میں تقریبا 82 ہزار لوگ روزانہ کی بنیاد پر سفر کرتے ہیں۔اسی سروے کے مطابق یہ انداہ لگایا گیا ہے کہ پشاور میں چلنے والی منی بسوں اور ویگنوں کے 100 فیصد مسافر بی آرٹی میں منتقل ہو جائیں گے جبکہ رکشہ، سوزوکی پک اپ اور بڑے سائز کی پرانی بسوں میں سفر کرنے والے 50 فیصد تک مسافر بی آر ٹی سے استفادہ کریں گے۔اسی سروے کے مطابق ٹیکسی میں سفر کرنے والے مسافروں میں سے 25 فیصد، ڈاٹسن پک اپ ٹرک کے 50 فیصد، موٹر کار میں سفر کرنے والوں میں سات فیصد او ر موٹر سائیکل پر سفر کرنے والے روزانہ 26 ہزار مسافروں میں سے تقریبا سات فیصد بی آرٹی میں سفر کرنا شروع کریں گے۔
اندازے کے مطابق روزانہ تقریبا سات لاکھ 92 ہزار مسافروں میں سے چار لاکھ سے زیادہ مسافر بی آرٹی میں سفر کرنا شروع کریں گے جبکہ باقی لوگ دیگر سفری ذرائع سے سفر کریں گے۔بی آرٹی کا روٹ پشاور کے علاقے چمکنی سے شروع ہو کر کارخانو مارکیٹ تک تقریبا 27 کلومیٹر کوریڈور پر پھیلا ہوا ہے ۔
تاہم کرونا وائرس کی وبا کی وجہ سے تعلیمی اداروں سمیت شادی ہالز بند ہیں جبکہ عام دنوں کے مقابلے میں رش بھی کم ہے۔اس حوالے سے کامران بنگش نے بتایا کہ ہمارا تخمینہ تین لاکھ ساٹھ ہزار مسافر ہے کہ وہ روزانہ بی آرٹی میں سفر کرسکیں اور ہمیں متوقع آمدنی مل سکے، لیکن کرونا کی وجہ سے مسافروں کی تعداد میں کمی ضرور ہوگی، تاہم ہمارے پاس مختلف آپشنز موجود ہیں، جن پر ہم غور کریں گے۔ تاہم انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ وہ آپشنز کیا ہیں اور نہ ہی یہ بتایا کہ حکومت کے پاس سبسڈی دینے کا آپشن بھی زیر غور ہے یا نہیں۔
بی آرٹی آغاز سے ہی عوام اور اپوزیشن جماعتوں کی تنقید کے زد میں ہے، جس کی وجہ یہ ہے کہ عمران خان نے 2014 کے دھرنے اور بعد میں مختلف مواقع پر میٹرو کی تعمیر پر مسلم لیگ نواز کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا تھا جبکہ بعد میں پاکستان تحریک انصاف ہی کی حکومت نے پشاور میں بی آرٹی بنانے کا فیصلہ کیا۔
سابق وزیر اعلی پر ویز خٹک کے دور میں اس پر کام شروع کیا گیا تھا اور انہوں نے وعدہ کیا تھا کہ اس کو چھ مہینوں میں مکمل کیا جائے گا تاہم تین سال بعد بھی ابھی تک بی آرٹی مکمل طور پر نہیں بنا ہے۔اس کے بعد بی آرٹی پر آنے والے اخراجات موضوع بحث رہے، جو 40 ارب روپے سے بڑھ کر 49 ارب روپے اور اب تقریبا 70 ارب روپے تک پہنچ گیا۔
بی آرٹی میں سفر کرنے کے لیے ‘زو’ کارڈ استعمال کیا جائے گا جو کسی بھی سٹیشن سے حاصل کیا جا سکتا ہے۔
بی آرٹی کا روٹ پشاور کے علاقے چمکنی سے شروع ہو کر کارخانو مارکیٹ تک تقریبا 27 کلومیٹر کوریڈور پر پھیلا ہوا ہے، جس میں 31 سیٹشنز بنائے گئے ہیں۔ اس کوریڈور کے ساتھ فیڈرز روٹس کو بھی لنک کیا گیا ہے جو پشارو کے ان علاقوں تک رسائی دیں گے جو کوریڈور کے دونوں اطراف پر موجود نہیں ہیں۔دو قسم کے بسیں بی آرٹی پروجیکٹ کا حصہ ہے۔ ان میں ایک 18 میٹر بسیں ہیں جو روٹ پر چلیں گی جبکہ ایک 12 میٹر کی بسیں ہے جو فیڈر روٹس پر چلیں گی۔ اسی پراجیکٹ میں سائیکل ٹریک بھی شامل کیا گیا تاہم ابھی یہ مکمل نہیں ہے اور حکومت کے مطابق اسے جلد ہی مکمل کیا جائے گا۔
بی آرٹی کرایوں کی اگر بات کریں تو چمکنی کے پہلے سٹاپ سے کارخانو مارکیٹ تک کے آخری سٹاپ تک کا کرایہ 50 روپے ہوگا جبکہ پہلے پانچ کلومیٹر کا کرایہ دس روپے ہوگا۔ اسی طرح ہر پانچ کلومیٹر کے اضافے کے ساتھ کرایے میں پانچ روپے کا اضافہ ہوگا۔
بی آرٹی منصوبے میں سپریم کورٹ نے متعلقہ اداروں کو تحقیقات کا حکم دیا تھا۔ نیب تحقیقات کے بعد رپورٹ عدالت میں جمع کروائی گئی لیکن ابھی تک اس رپورٹ کو پبلک نہیں کیا گیا۔نیب کی طرف سے دسمبر 2019 میں کہا گیا تھا کہ بیورو کو سپریم کورٹ کے فیصلے کا انتظار ہے اور اس کے بعد نیب پشاور بی آرٹی میں مبینہ خرد برد کی انکوائری مکمل کرے گا۔



