اسلام آباد: قومی اسمبلی کی کیبنٹ کمیٹی نے سرکاری ملازمین سمیت ججزاور دفاعی اداروں کے ملازمین پر دوہری شہریت کی پابندی کے حوالے سے بل پر وزارت قانون سمیت متعلقہ اداروں سے رائے طلب کرلی ہے ۔ ملازمین کی دوہری شہریت پر پابندی کے حوالے سے دیوانی ملازمین ایکٹ 1973میں مزید ترمیم کا بل کمیٹی کے رکن جام عبدالکریم بجار نے پیش کرتے ہوئے کہاکہ جس طرح اراکین اسمبلی کی دوہری شہریت پر پابندی عائد ہے اسی طرح سرکاری ملازمین کی دوہری شہریت پر پابندی عائد کی جائے انہوںنے کہاکہ گریڈ 1سے لیکر گریڈ22تک کے تمام سرکاری ملازمین کی دوہری شہریت پر پابندی عائد کی جائے کیونکہ اکثر ملازمین حساس مقامات پر اہم عہدوں پر فائز ہوتے ہیں اور اس طرح سرکاری راز ملک سے باہر جانے کا خدشہ ہوتا ہے اس موقع پر کمیٹی کے رکن محسن د اوڑ نے کہاکہ محض سرکاری ملازمین پر نہیں بلکہ بلاتفریق ملک کے تمام شعبوں عدلیہ ،آرمڈ فورسز اور سرکاری ملازمین کی دوہری شہریت پر پابندی عائد کی جائے انہوں نے کہاکہ ملک میں اہم عہدوں سے ریٹائرڈ ہونے والے بیرون ممالک شہریت ہونے کی وجہ سے ملک سے باہر چلے جاتے ہیں جس سے قومی راز افشاء ہونے کا خدشہ ہوتا ہے کمیٹی کی خاتون اراکین عظمیٰ ریاض اورشہناز سلیم ملک نے بھی بل کی حمایت کرتے ہوئے کہاکہ سرکاری ملازمین سمیت دفاعی اداروں پر دوہری شہریت پر پابندی ہونی چاہیے انہوںنے کہاکہ بدقسمتی سے پاکستان سے ذہین افرادبہتر مستقبل کی خاطر ملک سے باہر چلے جاتے ہیں اور وہاں کی شہریت اختیار کرلیتے ہیں کمیٹی کے اراکین نے ملک میں حساس اوراہم عہدوں پر فائر سرکاری ملازمین کی ریٹائرمنٹ کے بعد بھی کئی سال تک بیرون ملک شہریت پر پابندی عائد کرنے کی تجویز پیش کی اس موقع پر کیبینیٹ ڈویژن کے حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ سرکاری ملازمین کی دوہری شہریت پر پابندی کے حوالے سے سیٹیزن شپ ایکٹ میں ترمیم ضروری ہے جس پر چیرپرسن کمیٹی نے بل پر مزید مشاورت کیلئے وزارت قانون سمیت دیگر اداروں سے رائے طلب کر لی ہے کمیٹی نے بنگلہ دیش ہجرت کرنے والوں کی اربوں روپے کی پراپرٹی سمیت دیگر اثاثوں کی فروخت کے حوالے سے رکن اسمبلی اسامہ قادری کے توجہ دلائو نوٹس پر تفصیلی بحث کے بعد ادارے کو تحلیل کرنے کے حوالے سے کابینہ کی خصوصی کمیٹی کے چیرمین سمیت دیگر اراکین کو طلب کر لیا۔ اس موقع پر توجہ دلائو نوٹس کے محرک رکن اسمبلی اسامہ قادری نے کمیٹی کو بتایا کہ بنگلہ دیش میں پاکستان زندہ باد کا نعرہ لگانے والوں کو وہاں سے ملک بدر کیا گیا اور وہ گذشتہ 50سالوں سے اورنگی ٹائون میں کسمپرسی کی زندگی گزار رہے ہیں انہوںنے کہاکہ جو بنگالی پاکستان سے بنگلہ دیش چلے گئے ہیں ان کی پراپرٹی سمیت تمام اثاثوں کو فروخت کرنے کی بجائے پاکستان ہجرت کرکے آنے والوں کو دی جائے ۔کمیٹی نے وزارت صنعت و پیداوار کے ادارے ایک نگر ایک ہنرکی تحلیل پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے ادارے سے متعلق تمام تفصیلات طلب کر لی ہیں۔کمیٹی کا اجلاس چیرپرسن کشور زہرہ کی سربراہی میں پارلیمنٹ ہائوس میں منعقد ہوا اجلاس میں کمیٹی کے اراکین سمیت وزیر مملکت برائے پارلیمانی امور علی محمد خان ،سیکرٹری کیبنٹ اور دیگر حکام نے شرکت کی ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔



