
اسلام آباد:قومی اسمبلی کے اجلاس میں انکشاف کیا گیا کہ اسلام آباد میں گداگری کرنے والی گینگ کی سرپرستی اسلام آباد پولیس کے اہلکار کر رہے تھے جو گداگروں کو کچی آبادیوں سے اٹھا کر لاتے اور واپس چھوڑ کر آتے ہیں۔ پارلیمانی سیکرٹری برائے داخلہ شوکتِ علی نے قومی اسمبلی کے اجلاس میں توجہ دلاؤ نوٹس کا جواب دیتے ہوئے بتایا کہ اسلام آباد میں گداگری میں اضافہ ہو رہا ہے اسلام آباد سمیت ملک بھر میں گداگری جیسی سماجی برائی بڑھی ہے۔گداگری کے خاتمے کیلئے خصوصی فورس کام کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سادہ کپڑوں میں ملبوس اہلکار گداگروں کو پکڑتے ہیں۔اور پھر ان کو مجسٹریٹ کے سامنے پیش کیا جاتا ہے پہلی مرتبہ گداگر کو وارننگ دی جاتی ہے۔ اگر دوبارہ پکڑے جائیں تو پھر ایکٹ کے مطابق سزا دی جاتی ہے شوکتِ علی نے کہا کہ کچھ ماہ قبل اسلام آباد پولیس نے بہت بڑا گینگ پکڑا ہے۔گینگ میں گداگر اور ان کے ٹھیکیدار شامل تھے۔ اور اس گینگ میں اسلام آباد پولیس کے 8 اہلکار بھی ملوث پائے گئے۔تمام قصوروار اہلکاروں کو نوکریوں سے فارغ کردیا گیا ہے ۔اسلام آباد سے دس ہزار سے زائد گداگروں کو پکڑا گیا ۔
شہر اقتدار کے اندراسلام آباد پولیس کے اہلکار گداگری کا نیٹ ورک چلاتے رہے ہیں ،قومی اسمبلی میں انکشاف




