غزالہ حبیب مودی کے خلاف امریکہ میں تاریخی احتجاج کی محرک تھیں،کشمیریوں کو ایسی شخصیات پر فخر ہے، صدر آزاد کشمیر

حکومت پاکستان اور پالیسی سازوں سے کہتا ہوں کہ گلگت بلتستان بارے کوئی ایسا قدم نہ اٹھایا جائے جس سے کشمیر پر دیرینہ موقف کی نفی ہو،شاہ غلام قادر

مودی کے خلاف امریکہ میں مقدمہ دائر کیا جس پر عدالت نے مودی کو طلب کر رکھا ہے،ہر سطح پر بھارت کے مکروہ چہرے کو بے نقاب کرتے رہیں گے۔غزالہ حبیب

اسلام آباد (نیوزرپورٹر)معروف شاعرہ، ادیب، انسانی حقوق کی متحرک رہنما فرینڈز آف کشمیر کی چیئرپرسن محترمہ غزالہ حبیب کے شعری مجموعہ ” لامکاں” کی تقریب رونمائی نیشنل پریس کلب اسلام آباد میں منعقدہ ہوئی ۔ تقریب کی صدارت صدر آزاد کشمیر سردار مسعود خان نے کی جبکہ تقریب کے مہمانِ خصوصی اسپیکر اسمبلی شاہ غلام قادر اور ڈاکٹر امجد چوہدری تھے۔ تقریب میں ملک کے نامور شاعر، ادیب، دانشور اور صحافی بڑی تعداد میں شریک ہوئے۔ اس موقع پر صدر ریاست سردار مسعود خان نے کہا کہ پاکستان کبھی بھی مسئلہ کشمیر پر اپنے دیرینہ اور اصولی موقف سے پیچھے نہیں ہٹ سکتا، کوئی ایسا اقدام جس سے مسئلہ کشمیر یا کشمیر کے حوالے سے 74 سالہ موقف کی نفی ہو اس کا سوچا بھی نہیں جا سکتا، سوال یہ ہے کہ ہم نے 5 اگست کے بعد مقبوضہ کشمیر کے مظلوم، مجبور، محکوم کشمیریوں کے لیے کیا کیا ہے، 5اگست کو کشمیر پر حملہ صرف کشمیر نہیں بلکہ پورے پاکستان اور امت مسلمہ پر حملہ ہے، ہم نے ابھی تک کشمیر میں درندگی اور بربریت کا شکار کشمیریوں کو بچانے کے لیے کچھ نہیں کیا، مودی کی قیادت میں آر ایس ایس اور بی جے پی بدترین ریاستی دہشت گردی کے ریکارڈ توڑ رہے ہیں، کالے قوانین کے نام پر کشمیریوں کو اٹھا کر تشدد کر کے شہید کیا جا رہا ہے اور انہیں گمنام قبروں میں دفنایا جا رہا ہے، مودی نے جس راستے کا انتخاب کیا ہے انشااللہ پورا ہندوستان اس کی وجہ سے ٹکڑے ٹکڑے ہو گا۔ سردار مسعود خان نے کہا کہ غزالہ حبیب نے امریکہ میں عملی محاذ پر مسئلہ کشمیر کے لیے سفارتی سطح پر ایک جاندار کردار ادا کیا اور مودی کے خلاف امریکہ میں ایک تاریخی احتجاج کی محرک تھیں۔ آج غزالہ حبیب نے اپنی شاعری کی کتاب میں بھی زیادہ تر کشمیر کو موضوع بنا کر قلمی میدان میں بھی اپنا بہترین حصہ ڈالا ہے۔ سفارتی سطح پر متحرک ایسی شخصیات پر کشمیریوں کو فخر ہے۔اس موقع پر اسپیکر قانون ساز اسمبلی شاہ غلام قادر نے کہا کہ غزالہ حبیب کا شعری مجموعہ ایک بہترین کتاب اور کشمیریوں کے جذبات کی حقیقی ترجمانی ہے، انہوں نے اپنی شاعری کا مرکزی موضوع کشمیر کو بنا کر اہل کشمیر کے درد اور احساس کو بیان کیا۔ شاہ غلام قادر نے گلگت بلتستان کے حوالے سے سرگرم خبروں بارے مزید کہا کہ میں حکومت پاکستان اور پالیسی سازوں سے کہتا ہوں کہ کوئی ایسا قدم نہ اٹھایا جائے جس سے کشمیر پر دیرینہ موقف کی نفی ہو اور بھارت کو اس کو دنیا میں اچھالنے کا موقع ملے، مسئلہ کشمیر ایک حساس ایشو ہے اور اس کے حوالے سے ہوش مندی کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔ اس موقع پر مصنفہ محترمہ غزالہ حبیب نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کشمیر میں بھارت کشمیریوں پر بدترین ظلم و ستم ڈھا رہا ہے۔ ہم نے مودی کے خلاف امریکہ میں مقدمہ دائر کیا جس پر عدالت نے مودی کو طلب کر رکھا ہے، ہم ہر سطح پر بھارت کے مکروہ چہرے کو بے نقاب کرتے رہیں گے، میں نے جہاں سفارتی سطح پر اوورسیز میں اپنے کشمیری بھائیوں کی آواز بلند کی وہیں اپنی کتاب اور شاعری میں قلم کے ذریعے کشمیریوں کے جذبات کی ترجمانی کی کوشش کی ہے۔ آج کی اس پروقار تقریب کے اہتمام پر نیشنل پریس کلب کی انتظامیہ اور دیگر منتظمین کا خصوصی شکریہ ادا کرتی ہوں۔ اس موقع پر سابق صدر پی ایف یو جے افضل بٹ، سابق صدر اے کے این ایس عامر محبوب، معروف کالم نگار مظہر برلاس نے خطاب کرتے ہوئے غزالہ حبیب کو شعری مجموعہ لامکاں کی رونمائی پر مبارکباد پیش کی اور ان کی مسئلہ کشمیر، انسانی حقوق کے لیے سفارتی سطح پر کوششوں کو سراہتے ہوئے خراج تحسین پیش کیا۔ تقریب سے پی ایف یو جے کے سابق صدر افضل بٹ،پیپلزپارٹی آزاد کشمیر کے ڈپٹی سیکرٹری جنرل صاحبزادہ ذوالفقار علی، ممتاز حریت رہنما عبد الحمید لون، نعیم عباسی، ۔اور دیگر نے بھی خطاب کیا۔ تقریب میں نیشنل پریس کلب کے صدر شکیل انجم، سیکرٹری پریس کلب انور رضا، سیکرٹری فنانس صغیر چوہدری، سینئر صحافی ڈاکٹر عبدالودود قریشی اور بڑی تعداد میں صحافی اور شاعر بھی موجود تھے۔