
راولپنڈی (جنرل رپورٹر) مسلم لیگ ن کے قائد میاں نوازشریف کے دیرینہ ساتھی اور ن لیگ کی حکومت میںدو بار وزارت کے مزے لینے والے اعجاز الحق بھی نوازشریف کے خلاف کھل کر میدان میںآگئے۔نوازشریف پر تابڑ توڑ حملے نواز شریف کا بیانیہ اس وقت کہاں تھا جب ضیا الحق شہید نے کہاتھا کہ آپ کو میری عمر لگ جائے،ڈی جی آئی ایس آئی سے ملنا تو دور کی بات، شہباز شریف ان کے رشتہ داروں کے گھر نظر آئے،کسی کی کیاجرات کہ کوئی افواج کےآگے بندھ باندھے،نواز شریف کہتے ہیں کہ ڈھائی بجے آئی ایس آئی چیف نے استعفی کا کہا،اگر ایسا ہے تو وہ بہت ہی ڈرپوک وزیر اعظم تھے کبھی ادارے بھی استعفی کی بات کرتے ہیں۔
راولپنڈی میں استحکام پاکستان کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اعجاز الحق نے کہاکہ دشمن کو پتا ہے کہ پاکستان کی فوج ملک کو کمزور نہیں ہونے دے گی،قوم پر بھاری بیانیہ کا حصہ نہیں بننا چاہتا،نواز شریف کہتا ہے کہ ڈھائی بجے آئی ایس آئی چیف نے استعفی کا کہا،اگر ایسا ہے توبہت ہی ڈرپوک وزیراعظم تھے،کبھی ادارے بھی استعفی کی بات کرتے ہیں؟ایک صاحب کہتے ہیں کہ آرمی چیف سے ملاقات ہوئی،کہتے ہیں کہ جو نواز شریف کے خلاف کر رہے ہیں بیچ میں نہ آئیں،غفور حیدری صاحب حلف پر یہ بات کریں استعفی دے دونگا۔ انہوں نے کہاکہ ڈی جی آئی ایس آئی سے ملنا دور کی بات، شہباز شریف ان کے رشتہ داروں کے گھر نظر آئے،کسی کی کیا جرات کہ کوئی افواج کے آگے بندھ باندھے،مولانا فضل الرحمن نے پارلیمنٹ میں کہا مارگلہ کی پہاڑیوں تک دہشت گرد پہنچ گئے،80 ہزار لوگ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں شہید ہوئے،بانی متحدہ نے پاکستان کو غلطی قرار دیا،کلبھوشن یادیوو جیسے لوگ پاکستان بھیجے گئے،ڈھائی ارب سے زیادہ رقم فرقہ واریت کو طول دینے کیلئے بھیجی گئی،ہمارے علما کی مہربانی ہے کہ محرم میں قابو کرلیا۔
انہوں نے کہاکہ کہاں تھا بیانیہ جب ضیا الحق نے کہا کہ آپ کو میری عمر لگ جائے،جنرل جیلانی کے پاس بیٹھتے وقت نواز شریف کا بیانیہ کدھر تھا؟استحکام پاکستان کا سلسلہ رکنے والا نہیں،وہ دن بھی یاد ہے جب کہا گیا کہ ممبئی حملہ آور پاکستان سے بھیجا گیا۔انہوں نے کہاکہ افغان مجاہدین کو سلام پیش کریں جنہوں نے آپ کی سلامتی کیلئے قربانی دی،سنا ہے آپ اب سائنسدان بھی بن گئے ہیں،ٹاما، ٹیما ٹومی کہنے والوں کو میزائل کا نام تک نہیں آتا۔
بدلتا ہے رنگ آسماں کیسے کیسے ، اعجاز الحق بھی نوازشریف کے خلاف میدان میں آگئے



