اسلام آباد:آل پاکستان کلرکس ایسوسی ایشن ، لیڈی ہیلتھ ورکرز اورآل پاکستان امپلائز لیبل پنشنرز تحریک سمیت مختلف یونینز نے اپنے مطالبات کے حق میں بدھ کو پارلیمنٹ ہائو س کے سامنے پر امن احتجا جی مظاہرہ کیا۔شرکا ئ سرکاری ملازمین نیتنخواہوں میں اضافے، سرو س اسٹرکچر بدلنے اور دیگر مطالبات کے حق میںپارلیمنٹ کے سامنے پریڈ گرائونڈ میں دھرنا دیا۔مظاہرین پارلیمنٹ ہا ئو س کے سامنے جانے لگے تو رینجرز نے انہیں پارلیمنٹ کے سامنے جا نے سے روک دیا ،احتجاجی مظاہرے میں لیڈی ہیلتھ ورکرز کی بھی بڑی تعداد موجود ہے۔ جن میں کئی خواتین کے بچے بھی موجود تھے ، مظاہرین نے ہاتھوں میں پلے کارڈز اور بینرز اٹھا رکھے تھے جن پر سروس اسٹرکچر بدلنے، پنشن، لائف انشورنس ، تنخواہوں میں اضافے اور انسداد پولیو مہم میں تحفظ دینے کے مطالبات درج تھے۔پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے احتجاج کرنے والے سرکاری ملازمین اور لیڈی ہیلتھ ورکرز کی حمایت کردی ہے۔ بلاول بھٹو کی ہدایت پر سینیٹر روبینہ خالد نے احتجاج میں شریک ہو کر مطالبہ کیا کہ پی ٹی آئی حکومت سرکاری ملازمین اور لیڈی ہیلتھ ورکرز کے جائز مطالبات فوری تسلیم کرے۔ ترقیاں، پنشن اور مساوی مراعات وفاقی حکومت کے ملازمین کا حق ہے، انہوں نے بلاول بھٹو کا یہ پیغام پہنچا یا کہ ملازمین سے یکجہتی کا اظہار کرتی ہوں اور پیپلزپارٹی لیڈی ہیلتھ ورکرز سمیت تمام سرکاری ملازمین کے مسائل ہر فورم پراٹھائے گی۔6اکتوبر کو بھی سرکاری ملازمین نے پارلیمنٹ کے سامنے احتجاج کیا تھا ،جس پر سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر ،قاسم سوری اور وزیر مملکت علی محمد خان نے ملازمین کے مسائل پر خصوصی تو جہ دینے کی یقنی دہا نی کرائی تھی جس کی روشنی میں سی ڈی اے اور سیکر ٹریٹ ملازمین احتجاج میں شریک نہیں ہو ئے ، ا فگیگا رہنماو?ں نے ڈپٹی کمشنر حمزہ شفقات سے ان کےآفس میںملاقات کی، جس کی روشنی میں وفد نے پارلیمنٹ ہائوس اسلامآباد میں اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر اور ڈپٹی اسپیکر قاسم سوری سے ان کے چیمبر میں ملاقات کی، جس میں ڈپٹی اسپیکر کے ساتھ ساتھ اسپیکر قومی اسمبلی نے فگیگا کی طرف سے پیش کردہ 4 نکاتی چارٹرآف ڈیمانڈ پر وعدے کے مطابق تیز تر کاروائی کی یقین دہانی کروائی. ملاقات میں بلوچستان سے اگیگا کے رہنما حبیب الرحمن مردان زئی اور فگیگا کی طرف سے محمد معراج میڈیا کوآرڈینیٹر اور سید احمر شاہ نے شرکت کی، ملاقات کے بعد میڈ یا سے گفتگو میں وفد کے ارکان نے واضح کیا کہ حکومت نے وعدے کے مطابق نوٹیفکیشن جاری نہ کیا تو سیکرٹریٹ ملازمین اور سی ڈی اے سمیت دیگر وفاقی ملازمین بھی احتجاج میں شامل ہو جا ئیں گے۔



