تھانہ بھیرہ کے علاقے میں سات سالہ بچے کا ریپ اور قتل، ملزم کی لاہور ہائی کورٹ کی جانب سے بریت کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل دائر کر دی گئی

اسلام آباد(خبر نگار خصوصی)عدالت عظمی میں تھانہ بھیرہ کے علاقے میں عاصم نامی سات سالہ بچے کا ریپ کرکے اسے قتل کردینے کے مقدمہ کے ملزم کی لاہور ہائی کورٹ کی جانب سے بریت کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل دائر کر دی گئی ہے ، مقتول کی والدہ بلقیس بی بی نے ذوالفقار احمد بھٹی ایڈوکیٹ کے ذریعے بدھ کے روز دائر کی گئی اپیل میں موقف اختیار کیا ہے کہ فروری 2011 کو تھانہ بھیرہ میں میرے بیٹے عاصم سے زیادتی اور قتل کی ایف آئی آر درج ہوئی تھی ،جس میں ایڈیشنل سیشن جج نے ملزم محمد اسحاق کو سزائے موت سنائی تھی ،جس کے خلاف ملزم کی اپیل کی سماعت کرتے ہوئے لاہور ہائیکورٹ نے 23نومبر کو اسے بری کر دیا ہے ،درخواست گزار کے مطابق لاہور ہائیکورٹ نے کیس کا فیصلہ جاری کرتے ہوئے حقائق کا درست طور پر جائزہ نہیں لیا ہے جبکہ بچے کی میڈیکل سے متعلق ڈاکٹر کی رپورٹ کو بھی نظرانداز کیا ہے ،درخواست گزار کے مطابق عینی شاہدین نے مقتول کو آخری بار ملزم محمد اسحاق کے ساتھ دیکھا تھا جبکہ پولیس نے ملزم کی نشاندہی پر ہی آلہ قتل برآمد کیا ہے،ملزم نے میرے بچے کا ریپ اور قتل کرکے انتہائی مکروہ جرم کا ارتکاب کیا ہے ،اس کی بریت کا ہائی کورٹ کا فیصلہ خلاف قانون ہے،ملزم اس سے قبل بھی ایک عورت کا ریپ کرنے کے بعد اسے قتل کر چکا ہے،اپیل گزار نے عدالت سے ملزم کی بریت کا ہائیکورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دینے کی استدعا کی ہے ،یاد رہے کہ مقتول کا والد بیٹے کے قتل کے صدمے کے باعث پہلے ہی وفات پا چکا ہے۔