شوکت عزیز صدیقی کی ریٹائرمنٹ سے قبل کیس کا فیصلہ دے دیں گے، سپریم کورٹ

اسلام آباد(خبر نگار خصوصی)عدالت عظمی نے اسلام آباد ہائی کورٹ کے سابق جج ، شوکت عزیز صدیقی کو ان کے عہدے سے ہٹانے سے متعلق سپریم جوڈیشل کونسل کی رپورٹ اور وزارت قانون وانصاف کے نوٹیفکیشن کے اجرا کیخلاف دائر کی گئی آئینی درخواست کی سماعت کے دوران رجسٹرار آفس کو اسلام آباد بار ایسوسی ایشن ،راولپنڈی بار ایسوسی ایشن اور کراچی بار ایسوسی ایشن کی درخواستوں پر لگائے گئے اعتراضات پر درخواست گزار تنظیموں کو آگاہ کرنے کا حکم جاری کیا ہے ،جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں جسٹس سردار طارق مسعود ،جسٹس اعجازالاحسن ،جسٹس مظہر عالم میاںخیل اور جسٹس سجاد علی شاہ پر مشتمل پانچ رکنی لارجر بینچ نے بدھ کے روزسابق جج ، شوکت عزیز صدیقی کی جانب سے آئین کے آرٹیکل 184(3)کے تحت دائر کی گئی درخواست کی سماعت کی تودرخواست گزار کے وکیل حامد خان نے موقف اختیار کیا کہ میرے موکل اگلے سال ریٹائرمنٹ کی عمر کو پہنچ جائیں گے، ہمار ی استدعا ہے کہ ہماری درخواست پرجلد فیصلہ کیا جائے ،جس پرجسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ یہ بہت اہم اوربڑا کیس ہے،اس لئے ہم چاہتے ہیں وکلا کا موقف پوری کو تسلی سے سن کر فیصلہ جاری کریں،انہوںنے کہاکہ اگر کسی بینچ میں چارسے زیادہ اراکین ہوں تو معمول کے مقدمات متاثر ہوتے ہیں،درخواست گزار کی ریٹائرمنٹ کی عمر سے پہلے پہلے ہم اس کیس کا فیصلہ جاری کردیں گے،انہوںنے کہاکہ رجسٹرار آفس کے مطابق درخواستوں میں استعمال کی گئی زبان درست نہیں ہے ، کراچی بارایسوی ایشن کے وکیل رشید اے رضوی نے موقف اختیار کیا کہ رجسٹرار آفس کی جانب سے ہماری جانب سے دائر کی گئی درخواستوں کو مقرر نہ کرنے کی وجوہات نہیں بتائی گئی ہیں ؟ہمیںہماری درخواستوں پر لگائے گئے اعتراضات سے متعلق آگاہ کیا جائے تا کہ دوبارہ درخواستیں دائر کی جاسکیں اسلام آباد بار ایسوسی ایشن کے وکیل ،صلاح الدین نے بتایا کہ میری ترمیم شدہ درخواست بھی آج سماعت کے لئے مقرر نہیں کی گئی ہے ،جس پر فاضل عدالت نے مذکورہ بالا حکم جاری کرتے ہوئے کیس کی مزید سماعت اگلے سال ماہ جنوری تک ملتوی کر دی ہے،یاد رہے کہ جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن راولپنڈی میں وکلا کی ایک تقریب کے دوران ان سے خطاب کرتے ہوئے آئی ایس آئی کو تنقید کانشانہ بنایا تھا ،جس پر سپریم جوڈیشل کونسل نے از خود نوٹس لے کر کارروائی کرتے ہوئے انہیں اس عہدے سے ہٹانے کی رائے دی تھی ،جس پر وزارت قانون وانصاف نے 11ا کتوبر2018 کوانہیں جج کے عہدہ سے فارغ کرنے کا نوٹیفکیشن جاری کیا تھا ، ان دونوں اقدامات کو جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے اس آئینی درخواست کے ذریعے چیلنج کررکھا ہے ۔