سانحہ مچھ بلوچستان کے شہدا کی داد رسی نہ کرنا وزیراعظم کی بے حسی ظاہر کرنا ہے،مظہر شاہ

بدقسمتی سے عمران اپنے آپ کو جمہوری وزیر اعظم اور عوام کا منتخب نمائندہ کہتے ہیں لیکن وہ ڈکٹیٹر شپ کی راہ پر چل پڑے ہیں

 

اسلام آباد:پیپلز پارٹی راولپنڈی کے راہنما مظہرشاہ ، فدا حسین بٹ ، چوہدری طاہر قیوم ، راجہ انجم حفیظ ایڈووکیٹ ، راجہ ذوالفقار احمد ایڈووکیٹ ، اسرار عباسی ایڈووکیٹ ، وقار حسین ڈار، چوہدری تنویر صدیق نے اپنے ایک مشترکہ بیان میں کہا ہے کہ سانحہ مچھ بلوچستان کے شہدا کی داد رسی نہ کرنا وزیر اعظم کی بے حسی کو کھلم کھلا ظاہر کرنا ہے ۔ وزیر اعظم میں اتنی اہلیت و قابلیت نہ ہے کہ وہ صوبائی اور قومی معاملات کو حل کر سکیں۔ سانحہ مچھ کے شہدا کتنے دنوں سے اپنے پیاروں کی میت رکھ کر سخت سردی کے موسم میں احتجاج کر رہے ہیں ۔ لیکن ان کی فریادوں کو سننے والے وزیر اعظم کے کان پر جوں تک نہ رینگ رہی ہے ۔ انہوں نے کہا جمہوریت اور ڈکٹیٹرشپ میں یہی فرق ہوتا ہے ۔ جمہوریت میں شخص کی بات کو اس کے نمائندے سنتے ہیں اور انھیں ہر ممکن حل کروانے کی کوشش کرتے ہیں ۔ لیکن بدقسمتی سے وزیر اعظم پاکستان اپنے آپ کو جمہوری وزیر اعظم اور عوام کا منتخب نمائندہ کہتے ہیں لیکن وہ ڈکٹیٹر شپ کی راہ پر چل پڑے ہیں جو ملک و قوم کیلئے نیک شگون نہیں ہے ۔ ان راہنمائوں نے مزید کہا ہے کہ ایک کر کٹر کتنی سوچ کا حامل ہو سکتا ہے ۔ ان راہنمائوں نے مزید کہا ہے کہ وزیر اعظم مستعفی ہوں ورنہ عوام کا سیلاب انھیں تنکوں کی طرح بہا لے جائے گا ۔ ان راہنمائوں نے پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو اورمسلم لیگ کی نائب صدر مریم نواز کے دورہ مچھ بلوچستان کو مدبرانہ اور دور اندیش درست فیصلہ کہتے ہوئے کیا اور امیدظاہر کی ہے ان کے دورے سے شہدا کی تدفین ہو سکے گی ۔ ان راہنمائوں نے قاتلوںکی گرفتاری کا مطالبہ کیا ہے۔