سی پیک کے تحت ایم ایل ون کی اپ گریڈیشن سے پاکستان ریلوے کوجدید خطوط پر استوارکیا جا سکے گا، حکام سی پیک اتھارٹی

 

اسلام آباد:چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) منصوبے کے تحت 9.2 ارب ڈالر کی لاگت سے تعمیر ہونے والے  1872 کلومیٹر پر محیط مین لائن۔1ریلوے پراجیکٹ کراچی تا پشاور ریلوے ٹریک کی بحالی اور اپ گریڈیشن  سے سفر کا دورانیہ کم ہوگا اور سرمایہ کاری میں اضافہ ہوگا ۔ سی پیک اتھارٹی کے حکام کے مطابق  سی پیک کے تحت ریلوے کی مین لائن ایم ایل ون کی اپ گریڈیشن سے  اس اسٹریٹیجک منصوبے پرجلدکام مکمل کرکے پاکستان ریلوے کوجدید خطوط پر استوارکیا جاسکے گا ۔وفاقی حکومت ریلویز کے شعبے کو رواں  مالی سال کے بجٹ میں خصوصی اہمیت دے رہی ہے تاکہ اس کی تکمیل سے ملک کی اقتصادی اور معاشی ترقی اور خوشحالی کے اہداف میں مدد حاصل کی جاسکے،چین پاکستان اقتصادی راہداری منصوبے  کے تحت    صوبہ پنجاب میں 30 فی صد،  سندھ میں 18 فی صد ،بلوچستان میں 36 فی صد ،خیبر بختونخوا میں 10 فی صد اورگلگت بلتستان میں 6 فی صد  نئے ریلوے  ٹریکس بچھائیں جائیں گے ،جن پر 3 ارب 69 کروڑ دالر لاگت آئے گی ۔پلاننگ کمیشن کی  دستاویزات کے مطابق سی پیک منصوبوں کے  تحت  ایک ہزار 59 کلومیٹر حویلیاں ۔ کاشی  نیو ریلوے ٹریک ، پشاور سے طورخم تک نئی ریلوے لائن  کی تعمیر ،حویلیاں ڈرائی پورٹ،کراچی سے کوٹری  ڈبل لائن کی تعمیر ،16 سو کلومیٹر کراچی سے پشاور تیز رفتار ریلوے لائن منصوبہ ،کوئٹہ ۔560 کلومیٹر ژوب،کوٹلہ جام نئی ریلوے لائن کی تعمیر  ،633 کلومیٹر  کوئٹہ ۔تفتان لائن کی اپ گریڈیشن ،1328 کلومیٹر گوادر۔ جیکب آباد  تک نئی ریلوے لائن  سمیت شامل ہیں۔