
لاہور :لاہور ہائی کورٹ کے احاطے میں وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے سیاسی امور شہباز گل مبینہ طور پر ایک بار پھر مسلم لیگ ن کے کارکنوں کے ہتھے چڑھ گئے ان پر انڈے اور سیاہی پھینک دی گئی ۔
واقعے کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے شہباز گل نے واقعے کو مسلم لیگ ن کے کارکنوں کی غنڈہ غردی قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ مکمل ٹھیک ہیں۔انہوں نے کہا کہ یہ اپنے سیاہ کرتوتوں پر سیاہی پھینک رہے ہیں انہوں نے بدلہ نہ لینے کا عزم ظاہر کیا۔انہوں نے کہا کہ ہم ایک تھپڑ کے جواب میں دس تھپڑ نہیں ماریں گے، ہم گالی کے جواب میں گالی نہیں دیں گے۔تحریک انصاف کے رہنما نے کہا کہ مریم نواز کو بتا دیں کہ میں کسی سے ڈرنے والا نہیں ،اپنے کارکنوں کو سمجھائیں، ہم خاندانی لوگ ہیں، ایسی حرکت کا جواب اس طرح نہیں دیں گے ۔ مجھے عدالت بلائے گی تو ضرور آئوں گا، آپ کی طرح بہانے نہیں بناں گا ۔
اس سے قبل شہباز گل عدالت آئے تو لیگی کارکنوں نے شہباز گل کو انڈہ دے مارا جبکہ دیگر کارکنان نے معاون خصوصی پر سیاہی بھی پھینکی۔
پولیس اہلکاروں نے شہباز گل پر سیاہی اور انڈے پھیکنے والی لیگی کارکن کو حراست میں لے لیا جبکہ اس موقع پر پولیس اہلکاروں اور تحریک انصاف کے کارکنان نے سیاہی اور انڈے پھینکنے والے مسلم لیگ(ن) کے کارکنان کو تشدد کا نشانہ بھی بنایا۔
اسلام پورہ پولیس کی جانب سے درج ایک مجرمانہ مقدمے کو چیلنج کرنے والی درخواست کی سماعت پر لاہور ہائی کورٹ نے معاون خصوصی کو عدالت طلب کیا تھا۔
طاہر مبین کے ساتھ ساتھ ترک شہریوں شیمل سینوچیک اور یمین یمنیگلو نے درخوات دائر کی تھی۔
پولیس نے پاکستان پینل کوڈ کی دفع 419، 420، 468 اور 471 کے تحت 13 جنوری کو درخواست گزاروں کے خلاف ایف آئی آر درج کی تھی۔درخواست گزاروں نے مقف اپنایا ہے کہ شہباز گل نے اپنے سیاسی اثرورسوخ کا استعمال کرتے ہوئے ان کے خلاف جعلی مقدمہ درج کرایا۔
البیراک گروپ آف کمپنیز کے ذیلی ادارے ایم ایس پلیٹ فارم تورزم تسیماسلک کی جانب سے شہباز گل کے خلاف دائر ہتک عزت کی شکایت بھی التوا کا شکار ہے اور کمپنی نے جھوٹے الزامات عائد کرنے پر پاکستان پینل کوڈ کی دفع 499 اور 500 کے تحت نعاون خصوصی پر کارروائی کی درخواست کی ہے۔
جب شہباز گل سماعت کے لیے عدالت آئے تو مبینہ طور پر مسلم لیگ (ن) سے تعلق رکھنے والے کارکنوں نے ان پر انڈے اور سیاہی پھینک دی۔
ایسا محسوس ہوتا ہے کہ تحریک انصاف کے رہنما کو پہلے سے ہی اس منصوبے کا علم تھا اور عدالت آمد سے قبل معاون خصوصی نے ایک ٹوئٹ میں کہا تھا کہ انہیں اپنے صحافی دوستوں سے پتہ چلا ہے کہ ان کے خلاف حملے کا منصوبہ بنایا گیا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ میں عمران خان کا سپاہی ہوں، میں عدالت آں گا، آپ سے ڈرنے والا نہیں، ہم سیاست پر یقین رکھتے ہیں آپ کی طرح غنڈہ گردی پر نہیں۔
بعدازاں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے شہباز گل نے دعوی کیا کہ انہیں مسلم لیگ(ن) کے کارکنوں کے منصوبے کا پہلے سے علم تھا، تین سینئر صحافیوں نے مجھے بتایا کہ آپ پر حملہ ہو گا لہذا مت آئیں اور مجھے یہ بھی مشورہ دیا گیا کہ مقدمہ راولپنڈی کی عدالت منتقل کرا لوں۔معاون خصوصی نے کہا کہ میں مقدمہ منتقل نہیں کرائوں گا، میں یہاں مقدمہ لڑوں گا، میں تحریک انصاف کے کارکنوں سے نہیں کہوں گا کہ وہ مسلم لیگ(ن) کے رہنماں کے ساتھ اسی طرح کی غنڈہ گردی کریں۔
دوسری جانب تحریک انصاف کے دیگر رہنمائوں نے شہباز گل پر حملے کی مذمت کرتے ہوئے مسلم لیگ(ن) کی جانب سے مبینہ طور پر حملے کی حمایت کرنے کو تنقید کا نشانہ بنایا۔
وفاقی وزیر برائے انسانی حقوق شیریں مزاری نے کہا کہ جب سے مسلم لیگ(ن) کی قیادت نے ضیا ء آمریت کی گود میں آنکھ کھولی ہے، اس وقت سے غنڈہ گردی ان کی ثقافت کا حصہ رہی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ آج کے حملے میں غنڈے اپنی قیادت کی روایت پر عمل کررہے ہیں جنہوں نے سپریم کورٹ پر حملہ کیا۔
وزیر صنعت و پیداوار حماد اظہر نے بھی الزام عائد کیا کہ یہ حملہ منصوبہ بندی کے تحت کیا گیا ہے۔انہوں نے کہاکہ صاف ظاہر ہے کہ شہباز گل پر حملے کی مکمل منصوبہ بندی کی گئی تھی، جس طرح جاوید لطیف کے پاکستان مخالف بیان کا ایک ایک لفظ ان کی پارٹی قیادت کے حکم پر پوری تیاری کے ساتھ بولا گیا۔
سینیٹر فیصل جاوید نے بھی حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اس غنڈہ گردہ کو ہرگز برداشت نہیں کیا جائے گا اور ذمے داران کا احتساب ہونا چاہیے۔
پارٹی کارکنوں نے معاون خصوصی کا گھیرا کیا ہو بلکہ اس سے قبل گزشتہ ماہ ہتک عزت کے مقدمے کے لیے لاہور جوڈیشل کمپلیکس آمد پر شہباز گل کے خلاف مسلم لیگ(ن) کے کارکنوں نے نعرے بازی کی تھی۔کارکنوں نے وزیراعظم کے معاون خصوصی کے خلاف آٹا چور، چینی چور کے نعرے لگائے تھے اور شہباز گل کا جوڈیشل کمپلیکس کے احاطے تک پیچھا کیا تھا۔
یاد رہے کہ جس وقت وزیراعظم عمران خان اسمبلی سے اعتماد کا ووٹ لے رہے تھے اس وقت تحریک انصاف کے کارکنوں نے شاہراہ دستور پر ڈی چوک میںموجود مسلم لیگ ن کے رہنمائوں سے بدتمیزی کی تھی ۔اس موقع پر شاہد خاقان عباسی اور مصدق ملک کی تحریک انصاف کے کارکنوں سے ہاتھاپائی بھی ہوئی تھی جبکہ مریم اورنگ زیب کے ساتھ بھی بدتمیزی کی گئی جس کے بعد سے معاملہ گرم تھا۔

